جانئے دنیا کے سب سے بڑے فراڈیوں کے بارے میں

سادہ لوح لوگوں کو اپنی مکارانہ چالوں سے الو بنا کر انکی دولت اینٹھنے یا دھوکہ دینے والوں کی دنیا میں کمی نہیں لیکن ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی جادوئی مہارت اور شیطانی چالوں کی وجہ سے ساری دنیا میں مشہور ہوگئے، شعبدہ بازوں کے یہ سردار کون ہیں، آئیے آپ کو بتاتے ہیں۔

1948 میں پیدا ہونے والا امریکی فرینک ابیگنیل بینک چیک کے فراڈ میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا، وہ جعلی چیکوں کو کیش کروانے اور دوسروں کا روپ دھا کر ان کے چیک کیش کروانے کا ماہر بھی تھا۔ اس نے 1960ءکی دہائی میں صرف پانچ سال کے عرصہ میں دنیا کے 26 ممالک میں 25 لاکھ ڈالر کے جعلی چیک کیش کروائے۔ ”کیچ می اف یوکین“ نامی مشہور فلم اسی شعبدہ باز کی زندگی پر مبنی ہے۔ فرینک جعلی پائلٹ بن کر کئی دفعہ مفت سفر کرچکا اور وکیل اور ڈاکٹر کا روپ بھی کامیابی سے دھارچکا ہے۔ جب اسے امریکہ کی جیل میں بھیجا گیا تو وہ پولیس افسر کا روپ دھار کر فرار ہوگیا۔ بالآخر پولیس نے اسے رہائی دلوا کر فراڈیوں کو پکڑنے میں مدد دینے کی ملازمت دے دی، آج کل وہ فراڈیوں سے بچنے کے لئے مدد فراہم کرنے والی کمپنی چلاتا ہے اور ارب پتی بن چکا ہے۔

چارلس پونزی صرف 250 روپے میں اٹلی سے امریکہ آیا اور مختلف چھوٹے موٹے جرائم کے بعد اس نے لوگوں کے پیسے ڈبل کرنے کا کام شروع کردیا۔ پونزی نے بیرون ملک سے ڈاک کوپن خرید کر امریکہ میں چار گنا منافع پر بیچنے شروع کردئیے اور اس مقصد کیلئے لوگوں کو بھاری منافع کا لالچ دے کر ان سے اربوں ڈالر ہتھیالئے لیکن بالآخر اس کا کاروبار ڈوب گیا اور لوگوں کے اربوں ڈالر بھی ڈوب گئے، اسے جیل جانا پڑا۔

امریکی شہری جوزف ویلی ایک فراڈیا تھا اور مختلف بہروپ دھارنے کا ماہر تھا۔ اس نے ایک بڑی آئل کمپنی کا سربراہ بن کر مختلف کمپنیوں سے لاکھوں ڈالر لوٹے، اسی طرح تعمیراتی کمپنی کا سربراہ بن کر لوگوں کو گھر دینے کے بہانے کروڑوں لوٹے اور یہاں تک کہ کیمسٹری کا ماہر سائنس دان بن کر بھی پورے امریکہ کو اُلو بنایا۔

آسٹریا سے تعلق رکھنے والے وکٹر سٹگ نے ڈالر پرنٹ کرنے والی جعلی مشین بنا کر سینکڑوں لوگوں کو بیچی، اس نے خریداروں کو بتایا کہ مشین ہر 6 گھنٹے بعد 100 ڈالر کا نوٹ پرنٹ کرتی ہے جبکہ اس نے مشین میں صرف 2 نوٹ رکھے ہوئے تھے جو ایک ایک کرکے 12 گھنٹے میں باہر آئے۔ اس مشین کے ذریعے اس نے لاکھوں ڈالر لوٹے، وکٹر کا سب سے مشہور کارنامہ یہ ہے کہ اس نے پیرس کا مشہور ایفل ٹاور ہی بیچ ڈالا، 1925 میں فرانس کے اقتصادی حالات خراب ہونے کی وجہ سے حکومت کیلئے ایفل ٹاور کی دیکھ بھال مشکل ہوگئی۔ وکٹر کو جب اس بات کا پتہ چلا تو اس نے اس معاملے کو پیسہ کمانے کا بہترین موقع جانتے ہوئے 6 عدد مشہور سکریپ ڈیلروں کو ایک خفیہ میٹنگ میں بلوایا۔ اس نے حکومتی نمائندے کا روپ دھار کر ڈیلروں کو بتایا کہ حکومت کے پاس ایفل ٹاور کی دیکھ بھال کیلئے رقم نہیں لہٰذا وہ اسے سکریپ کے طور پر فروخت کرنا چاہ رہے ہیں۔ اس کا وار کامیاب رہا اور ایک بڑے ڈیلر نے ایفل ٹاور کیلئے بھاری رقم بھی ادا کردی لیکن جب ایک ماہ بعد حقیقت کھلی تو بے چارہ سرپیٹ کررہ گیا۔

جارج پارکر نامی فراڈئیے کا شمار امریکہ کے مشہور اور دلچسپ ترین فراڈیوں میں ہوتا ہے۔ اس کا طریقہ واردات یہ تھا کہ وہ انتہائی مہارت کے ساتھ اہم سرکاری عمارتوں اور جگہوں کے متعلق جعلی دستاویزات بناتا اور خود کو ان کی فروخت کا مجاز ظاہر کرکے سرکاری املاک فروخت کردیتا۔ جارج نے مشہور زمانہ بروکلین برج کو درجنوں دفعہ فروخت کیا اور اسی طرح میڈیسن سکوائر گارڈن، میٹرو پولیٹن میوزیم، گرانٹ کا مقبرہ اور سٹیچو آف لبرٹی جیسی مشہور تاریخی سرکاری املاک بھی فروخت کردیں، جارج کو بھی بالآخر جیل جانا پڑا اور اس کی موت بھی قید کے دوران ہی ہوئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close