معروف نیوز کاسٹر عشرت فاطمہ کو PTV سے کیا گلہ ہے

تیس برس تک پاکستان ٹیلی ویژن پر منفرد لہجے میں خبریں پڑھنے والی معروف نیوز کاسٹر عشرت فاطمہ کو آج بھی گلہ ہے کہ تین دہائیاں باعزت طریقے سے نوکری کرنے کے بعد انہیں فارغ کرتے وقت رتی بھر بھی لحاظ روا نہیں رکھا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب انسان کسی جگہ اتنے برس کام کرتا ہے اور محنت سے اپنا نام بناتا ہے تو اسے باعزت طریقے سے ادارے سے رخصت کیا جانا چاہئے۔ عشرت فاطمہ کا کہنا ہے کہ شاید پی ٹی وی والے پرانے لوگوں کی جگہ نئے چہرے لانا چاہتے تھے جس وجہ سے انہیں فارغ کیا گیا۔ لیکن پوری دنیا کے میڈیا میں نیوز کاسٹرز جب میچور ہوجاتے ہیں تو ان کی وقعت اور اہمیت میں اضافہ ہوجاتا ہے، لیکن پی ٹی وی میں معاملہ ہی الٹ ہے۔

اسی اور نوے کی دہائی میں جن لوگوں نے پاکستان ٹیلی وژن پر خبرنامہ دیکھا ہے وہ عشرت فاطمہ سے بخوبی واقف ہیں، نیوز کاسٹنگ میں انہیں ایک آئیدیل کی حیثیت حاصل ہے۔ عشرت اسلام آباد میں پیدا ہوئیں، ان کی والدہ ایک اسکول ٹیچر تھیں اور والد سرکاری ملازم، انہوں نے ابتدائی تعلیم اسلام آباد سے ہی حاصل کی تھی۔ زمانہ طالب علمی میں کیرئیر کا آغاز پاکستان ٹیلی ویژن سے بطور نیوز کاسٹر کیا۔ 1984 میں جب وہ سرکاری ٹی وی سے وابستہ ہوئیں اس وقت اس شعبے میں عبدالسلام، خالد حمید، اظہر لودھی، ماہ پارہ صفدر، ثریا شہاب جیسی قد آور شخصیات موجود تھیں ان کی موجودگی میں اپنا نام اور مقام بنانا آسان نہ تھا لیکن عشرت نے ثابت کیا کہ وہ ان شخصیات کے ساتھ بیٹھ کر خبریں پڑھنے کی اہلیت رکھتی ہیں ۔

عشرت بتاتی ہیں کہ جب میں نے باقاعدہ طور پر خبریں پڑھنا شروع کی تو رمضان کا مہینہ تھا خبریں پڑھنے کا یہ سفر آج تک جاری ہے تاہم پی ٹی وی سے ناگزیر وجوہات کی بناء پر علیحدگی اختیار کرنا پڑی، اب میں ریڈیو پر خبریں پڑھ رہی ہوں۔ جب میرے بچے مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آپ پی ٹی وی سے الگ کیوں ہوئیں تو میرے پاس اس بات کا جواب نہیں ہو تا۔ انہوں نے کہا کہ خوشی کی بات ہے کہ نیوز کاسٹنگ کا شعبہ ہمیشہ ہی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے، اُس وقت جو نیوز ریڈرز کی سلیکشن ہوتی تھی وہ ایسے نہیں ہو جاتی تھی۔ نیوز ریڈر کی شخصیت دیکھ کر ان کو منتخب کیا جاتا تھا۔ میں سمجھتی ہوں کہ نیوز کاسٹرز کو تو ہزاروں میں بھی پہچانا جا سکتا ہے کیوں کہ ا ن کی شخصیت عام لوگوں سے مختلف ہوتی ہے۔ ان کا مزاج سلجھا ہوا اور گفتگو میں شائشتگی ہوتی ہے۔ عشرت نے کہا کہ میں 30 سال سے خبریں پڑھ رہی ہوں۔ پی ٹی وی والوں نے ہمیں خود اسکرین سے ہٹایا، شاید ان کی پالیسی ہوگی یا وہ نئے چہرے لانا چاہتے ہوں گے، لیکن پوری دنیا میں میں نے یہی دیکھا ہے کہ جب نیوز کاسٹرز سینئرز یا میچور ہوتے ہیں تو ان کی نہ صرف تنخواہوں میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ ان کی اہمیت پہلے سے زیادہ ہوجاتی ہے لیکن پی ٹی وی سے علیحدگی کی چبھن میرے دل میں آج بھی ہے۔

اگرچہ ریڈیو پر خبریں پڑھ کر میرا نشہ پورا ہو رہا ہے۔ ریڈیو نے مجھے جگہ دی ہے فیس بک پر لائیو میرا خبرنامہ دکھایا جا رہا ہے ْمجھے فخر ہے کہ میرے خبرنامہ کو سب سے زیادہ ویوز ملتے ہیں۔ دور حاضر کی نیوز کاسٹنگ کے معیار پر ان کا کہنا ہے کہ میں سمجھتی ہوں کہ نمبر ون کی دوڑ میں آج خبروں کا حلیہ بگاڑ دیا گیا ہے، تبدیلی اچھی بات ہے، تبدیلی بہتری کےلئے ہو تو بہت اچھی بات ہے لیکن تبدیلی صرف تبدیلی کےلئے ہو میرا نہیں خیال یہ کوئی بہت اچھی بات ہے مقابلے کی دوڑ میں خبروں کا حلیہ بگاڑنا کہاں کا انصاف ہے۔ خبر درست ہے یا نہیں اس چیز کو بہت زیادہ نظر انداز کیا جا رہا ہے خبر چلا دی جاتی ہے چاہے بعد میں معذرت ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ اس وجہ سے اس شعبے کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ چیخنا چلانا نیوز کاسٹنگ نہیں ہے۔ عشرت نے مزید کہا کہ آج اردو اور تلفظ کی درست ادائی پر بھی توجہ نہیں دی جاتی ہے، اردو ہماری قومی زبان ہے، میں دیکھ رہی ہوں کہ اردو سے پیار ختم ہوتا جا رہا ہے، ہمارے بچے اردو بولیں تو ہم شرمندگی محسوس کرتے ہیں، تلفظ ایک ایسی چیز ہے جو روزانہ کی بنیادوں پر سیکھا جا تا ہے ہم ہر روز کوئی نہ کوئی نیا لفظ سیکھتے ہیں۔کھیلوں، ملکوں، سیاستدانوں کے انگریزی میں درست انداز میں نام لینا نیوز کاسٹر کا خاصہ ہوتا ہے لیکن آج کل اس پر بھی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ نیوز کاسٹنگ بغیر شوق اور محبت کے نہیں کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی لوگ میری بہت عزت کرتے ہیں۔ انہوں نے مجھے جتنی محبت اور عزت دی ہے میں ان کی بہت زیادہ شکر گزار ہوں۔ میرے سرہانے آج بھی لغت پڑی ہوتی ہے، میں آج بھی شائستہ آپی کو فون کرکے لفظوں کی ادائی کیسے کرنی ہے پوچھتی ہوں اور اس چیز میں زرا برابر بھی شرمندگی محسوس نہیں کرتی۔ اگر شرمندگی محسوس کرتی تو آج کچھ بھی نہ سیکھا ہوتا۔ میں سمجھتی ہوں کہ لفظ میرے پاس امانت ہیں اگر غلط بولوں گی تو میرے سننے والے بھی غلط لفظ بولیں گے۔ لفطوں سے پیار کریں، لفظ آپ کے منہ سے گریں نہیں بلکہ لفظ آ پ کے منہ سے ایک خوبصورت سی شکل بنا کر نکلیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close