مدافعتی نظام کو بہتر بنانے میں مددگار وٹامن ڈی کن غذاؤں سے حاصل ہوتا ہے

وٹامن ڈی صحت کےلیے بہت اہم ہوتا ہے اور اب مختلف تحقیقی رپورٹس میں بھی عندیہ دیا گیا ہے کہ یہ جز کورونا وائرس کی شدت کو بڑھنے سے روکنے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔
وٹامن ڈی کے حصول کا ایک اہم ترین قدرتی ذریعہ سورج کی روشنی ہے، تاہم قرنطینہ اور لاک ڈاؤن کے دوران باہر نکلنا کم ہوگیا ہے۔
وٹامن ڈی کی کمی کے متعدد نقصانات ہیں جن میں تھکاوٹ، بار بار بیمار ہونا جیسے نزلہ زکام اور چڑچڑا پن طاری رہنا، جب کہ مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے جو کورونا وائرس سے لڑنے میں اہم ترین کردار ادا کرتا ہے۔

کچھ دیر کےلیے دھوپ کی روشنی میں ضرور رہیں
سورج کی روشنی وٹامن ڈی کے حصول کا بہترین قدرتی ذریعہ ہے اور اس کےلیے بس سورج کی روشنی میں کچھ دیر رہنے کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے دوران جلد اسے بنانے لگتی ہے۔ سماجی دوری کا خیال رکھ کر کچھ دیر گھر سے باہر چہل قدمی کرنا وٹامن ڈی کی کمی سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔

انڈے، مچھلی، کلیجی اور مشرومز
وٹامن ڈی کو آسانی سے غذا کا بھی حصہ بنایا جاسکتا ہے۔ چربی والی مچھلی میں وٹامن ڈی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے، اسی طرح انڈے بھی اس کے حصول کا اچھا ذریعہ ہیں، ایک انڈے سے روزانہ درکار وٹامن ڈی کا 10 فیصد حصہ جسم کو مل سکتا ہے۔ گائے کی کلیجی اکثر افراد کو پسند تو نہیں ہوتی مگر اس میں وٹامن ڈی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے۔ مشرومز بھی وٹامن ڈی کے حصول کا اچھا ذریعہ ہیں مگر پاکستان میں یہ عام ملتے نہیں اور زیادہ تر لوگوں کو پسند بھی نہیں۔

سپلیمنٹس اور فورٹیفائیڈ غذائیں
اگر روزانہ درکار وٹامن ڈی کے حصول کے حوالے سے فکرمند ہیں تو سپلیمنٹس بھی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، مگر ان کا استعمال کسی ڈاکٹر کے مشورے سے کرنا زیادہ بہتر ہے کیوں کہ کمی کی طرح وٹامن ڈی کی زیادتی بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ فورٹیفائیڈ ملک، ناشتے کے سریلز اور اورنج جوس بھی اس وٹامن کے حصول میں مدد دے سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ وٹامن ڈی آپ کو کورونا وائرس کا شکار ہونے سے نہیں بچاسکتا مگر مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے، جس سے ممکن ہے کہ اس بیماری کی شدت زیادہ نہ بڑھ سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close