کیا تاریخی موتی مسجد پر نیک سیرت جنوں کا قبضہ ہے؟

لاہور کی تاریخی موتی مسجد سے موتی مندر بننے والی شاہی قلعے کی مسجد آج پہلے سے کہیں زیادہ آباد ہے جس کی بڑی وجہ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ یہاں نیک سیرت جنات مقیم ہیں جو اللہ کے حکم سے یہاں آنے والوں کے مسائل حل کرتے ہیں۔ اس حوالے سے لوگ بہت سے حیرت انگیز واقعات بھی بیان کرتے ہیں۔ بعض لوگ ان جنوں کو دیکھنے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ یہاں آکر منتیں مرادیں مانگتے ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ یہاں ان کی ہر منت پوری ہوتی ہے۔

یوں تو قیام پاکستان کے بعد سے اب تک قلعہ لاہور کے ملازمین اور یہاں سیر کے لئے آنے والے مرد و خواتین موتی مسجد میں نماز ادا کرتے آئے ہیں لیکن کچھ برس ہوئے مسجد میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد منتیں مان کر نماز ادا کرنے کو آتی ہے۔ ان لوگوں اور قریبی آبادی کے مکینوں میں اب ایک نئے فلسفے نے جنم لینا شروع کیا ہے کہ اس مسجد پر پچھلی کئی صدیوں سے جنات کا قیام ہے جو اللہ کے حکم سے یہاں آئے اور لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ کئی جید علماء بھی اسی نظریئے کی تقلید کرتے دکھائی دیتے ہیں اور کئی تحریریں بھی مختلف رسائل و جرائد میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ بہت سے عقیدت مند اس مسجد کے درودیوار پر اپنی حاجات باقاعدہ لکھ کر جاتے ہیں۔

نیک سیرت جنوں کی آماجگاہ کے حوالے سے عقیدت کے اس رجحان کے پیچھے کیا محرکات ہیں، وہ تو معلوم نہیں لیکن اس عقیدے کی وجہ سے اب نمازیوں کی ایک بڑی تعداد اس مسجد میں نماز ادا کرتی اور مناجات کرتی دکھائی دیتی ہے۔ نمازیوں کی ایک بڑی تعداد کے باوجود یہ مسجد جامع مسجد نہیں اور جمعہ کے روز یہاں کے ملازمین بادشاہی مسجد یا بیگم شاہی مسجد میں ہی نماز جمعہ ادا کرتے ہیں۔

یاد ریے کہ موتی مسجد مغلیہ فن تعمیر کا ایک شاندار نمونہ ہے اور اس کا شمار سترہویں صدی کی خوبصورت مذہبی عمارتوں میں ہوتا ہے۔ یہ شاہی قلعہ لاہور کے اندر واقع ہے۔ شاہی قلعہ کے مرکزی دروازہ عالمگیری گیٹ کے قریب مکتب خانہ سے متصل یہ خوبصورت مسجد مشہور مسلامن انجینئر مامور خان نے اپنی نگرانی میں تعمیر کروائی تھی۔ یہ مسجد سفید سنگ مرمر سے تعمیر کی گئی حتیٰ کہ مسجد میں کوئی بھی جگہ ایسی نہیں جہاں سنگ مر مر کا استعمال نہ ہوا ہو۔ مسجد کے تین گول گنبد ہیں اور یہ پانچ محرابوں پر مشتمل ہے۔ تعمیر کے حوالے سے ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اس مسجد کا کوئی مینار نہیں ہے۔ اسکے موتی نما سفید گنبدوں کی وجہ سے اسے موتی مسجد کا نام دیا گیا۔

مؤرخین لکھتے ہیں کہ اس مسجد کو مغل بادشاہ شاہ جہاں نے تعمیر کروایا تھا۔ اس کی تعمیر کا آغاز 1630ءمیں کیا گیا جبکہ یہ 1635ءمیں مکمل ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ جہانگیر نے اپنے بارہویں سن جلوس میں بیگمات اور حرم کی خواتین کے لیے اس میں مناسب ترمیم کرائی۔ یہ کام میر عمارت عبدالکریم نے انجام دیا جس کو معمور خان کا خطاب ملا تھا۔ 1645ء میں شاہ جہان نے اپنی نفاست پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے اسے سنگ مر مر کا لباس پہنایا اور اس کا نام موتی مسجد رکھا۔ اس مسجد کے صحن کا طول پچاس فٹ اور عرض 33 فٹ ہے۔ قلعہ لاہور کی موتی مسجد فن تعمیر کا ایک دل پذیر نمونہ ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے سنگ مر مر کے پہاڑ سے کنول کا پھول تراشا گیا ہے۔ جسے دیکھ کر آنکھیں روشن ہوتیں اور قلب کو تسکین میسر آتی ہے۔ آگرہ اور دہلی کے قلعوں کی مسجدوں سے خوبصورتی اور دلکشی میں یہ مسجد کسی طرح کم نہیں۔

موتی مسجد لاہور کے علاوہ موتی مسجد کے نام کی چار مساجد اور بھی مشہور ہیں۔ ان میں موتی مسجد آگرہ، موتی مسجد بھوپال، موتی مسجد دہلی اور موتی مسجد کراچی شامل ہیں۔ برصغیر سے مغلیہ دور کے خاتمے کے دوران لاہور پر سکھوں کا قبضہ ہوا تو رنجیت سنگھ نے موتی مسجد میں شاہی خزانہ رکھنے کا حکم دیا۔ لوٹ مار اور سالانہ واجبات کی وصولی سے حاصل شدہ رقوم یہاں رکھی جاتی تھیں۔ اس مقصد کے لئے مسجد کا دروازہ مضبوط آہنی تختوں سے بند کرکے بڑے بڑے قفل لگا دئیے گئے۔ محراب نما دروازوں میں اینٹیں کی دیواریں کھڑی کر دی گئیں۔ مسجد کے کھلے دالان کے سامنے والے حصہ پر چھت تعمیر کر دی گئی جس کے سامنے ایک کمرہ پہرہ داروں کے لئے تعمیر کر دیا گیا تھا۔ مسجد کی یہ حالت رنجیت سنگھ کے دور کے بعد انگریزوں کے دور میں بھی برقرار رہی۔

7 فروری 1900ءکو وائسرائے ہند لارڈ کرزن نے ”ایشیائی سوسائٹی آف بنگال“ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب میں گزشتہ سال اپریل میں لاہور میں تھا تو میں نے تین سو سال قبل تعمیر شدہ ایک انتہائی خوبصورت مسجد کو دیکھا جو سکھ دور حکومت کی طرح اس وقت بھی بطور شاہی خزانہ استعمال ہو رہی تھی۔ ضرورت کے تحت اینٹوں کی محرابوں کا اضافہ کر دیا گیا تھا اور سنگ مرمر کے فرش کو توڑ پھوڑ کر خزانے کے آہنی صندوقوں کو فرش پر رکھا جاتا تھا۔ لہٰذا یہ حالت زار دیکھتے ہوئے میں نے اس خوبصورت مسجد کو سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنانے کے لئے ازسرنو تعمیر کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ لارڈ کرزن کے بقول رنجیت سنگھ نے اپنے عہد حکومت میں انتہائی بے توجہی اور مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس مسجد کے مذہبی تقدس اور ظاہری حسن کو پامال کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور پچاس سالہ انگریز کے دور میں بھی اسی روش کو اختیار کئے رکھا گیا۔ لارڈ کرزن کے احکامات پر یہ مسجد دوبارہ مسلمانوں کے حوالے کر دی گئی۔

ان سب باتوں سے قطع نظر موتی مسجد اپنی خوبصورتی، دلکشی اور رعنائی کی وجہ سے سیاحوں کو آج بھی متاثر کرتی ہے۔ شاہی قلعہ لاہور کی سیر کے لئے آنے والے موتی مسجد کو دیکھنا نہ بھولیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
Close