خان کی خوش قسمتی

تحریر: ماریہ میمن
سال 2020 ایک ایسے ڈراؤنے خواب کی طرح لگ رہا ہے جسے آپ جیتے جاگتے پورے ہوش و حواس کے ساتھ گزار رہے ہوں، ایک ایسا خواب جو چلتا ہی جا رہا ہے۔ چلتا ہی جا رہا ہے اور دور دور تک امکان نہیں کہ زندگی اپنی پرانی روش پر لوٹ پائے گی۔
دنیا کے ذہین ترین دماغ، اب پوسٹ کورونا دنیا کے نئے طور و اطوار پر غور کر رہے ہیں۔ نیا ورلڈ آرڈر کیا ہوگا، دنیا کی معیشت اور کاروبار کی حرکیات کیا ہوں گی۔ سیاست کی ہیئت کیسے بدلے گی، یہ سب سوالات ماہرین کے سامنے سر اٹھائے کھڑے ہیں۔
پاکستان میں اس وباء نے سیاسی بساط کو کچھ یوں بدلا ہے کہ خدشوں اور اندیشوں میں گھری، خان صاحب کی حکومت کو ایک نئی لائف لائن مل گئی ہے۔ کورونا سے پہلے کے تمام تر تخمینے، اندازے اور تجزئیے اب قصہ پارینہ ہوئے۔ اپوزیشن کا کیا گیم پلان ہے اور تحریک انصاف کے پلے کیا ہے، کچھ باتیں واضح ہوئی ہیں اور کچھ اب بھی مبہم ہیں۔
شروع کرتے ہیں اپوزیشن سے، خان صاحب کی سب سے بڑی خوش بختی یہ ہے کہ ملک میں حقیقی اپوزیشن ہے ہی نہیں۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت، خود اقتدار کا حصہ ہے۔ پی پی پی 2018 کےانتخابات کے بارے میں کراچی کی نشستوں پر تحفظات کا جتنا بھی اظہار کرے اسے تو خود ان الیکشن کے نتائج سے بہرہ مند کیا گیا ہے۔ سندھ میں پہلے سے زیادہ نشستیں، وہاں اقتدار پر بھر پور گرفت، ان سب ثمرات سے پی پی پی محظوظ ہو رہی ہے۔
یہ جماعت بیانات کی حد تک، کبھی فرنٹ فٹ پر اور کبھی بیک فٹ پر اپنی حکمت عملی تبدیل کرتی رہے گی لیکن مجموعی طور پر خان صاحب کی حکومت کے لیے کوئی خاص خطرہ نہیں کھڑا کرے گی۔ اب تو نیشنل کوارڈینیشن کیمٹی کے ذریعے وفاق کےساتھ ایک ٹوٹا پھوٹا سا ہی سہی لیکن بہرحال ایک ورکنگ فارمولا بھی چل پڑا ہے۔ الغرض پیپلز پارٹی کی سیاست کا موٹا موٹا حساب یہ ہے کہ فی الحال پارلیمان میں اور پریس کانفرنسوں میں زوردار تقاریر ہوں گی لیکن این سی او سی میں کوارڈینیشن سے کیے گئے فیصلوں کے نتائج میں بھرپور شراکت داری بھی ہوگی۔ اب بات ہو جائے اس جماعت کی جو تحریک انصاف کو سیاسی طور پر سنجیدگی سے چیلنج کر سکتی ہے۔
ن لیگ کیا سوچ رہی ہے، اس کے بارے میں سب ہی مخمصے میں ہیں۔ پارٹی کے خیر خواہ ایک دوسرے سے سوال کر تے پھر رہے ہیں کہ آخر شہباز شریف برطانیہ سے لوٹتے ہوئے اپنی زنبیل میں سے کیا نکالنے والے ہیں۔ حکمت عملی پارٹی کی باقی لیڈر شپ میں سے کسی پر بھی واضح نہیں، وہ اپنی اپنی جگہ شہباز شریف کے انٹرویوز سے اندازے لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ووٹر بھی کبھی رائے ونڈ کی طرف دیکھتا ہے اور کبھی ماڈل ٹاؤن کی طرف۔ ذرائع، فی الوقت اسی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ میاں شہباز شریف کو اپنے بھائی کی طرف سے معاملات طے کرنے کا فری ہینڈ ملا ہوا ہے۔ جیسے ہی شہباز پرواز کےلیے پھڑ پھڑاتا ہے تو ’اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے‘ کے مصداق ایک نیا کیس سامنے آ جاتا ہے۔ ہر کوئی واقف ہے کہ شہباز کی پرواز کا رخ کس طرف ہے اور کون اس کو بیچ راہ میں دبوچنا چاہتا ہے۔ پارٹی بھی حیران و پریشان اس ساری مشق کو دیکھ رہی ہے کہ اس کا حاصل حصول کیا ہوگا۔ یہ بات درست ہے کہ اپوزیشن کی کمزوری کا مطلب بذات خود حکومت کی مضبوطی نہیں ہوتا۔ حکومتیں اپنے لیے خود بھی اپوزیشن بن جاتی ہیں۔
وزیراعظم کےلیے البتہ اچھی ہی خبریں ہیں۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ کورونا کا NCOC ماڈل، مستقبل میں گورننس کا ایک مربوط ماڈل بننے جا رہا ہے۔ جہاں ایک طرف خان صاحب کی میڈیا بریفنگز اور دوسری طرف کمیٹی میں سب کو ایک پیچ پر اکھٹا کرنے کا نیا فارمولا آگے بھی جاری رہے گا اور تو اور اس سے زیادہ خان صاحب کی خوش قسمتی کیا ہوگی کہ اب عثمان بزدار کی تبدیلی کی ہوائیں بھی دم توڑ چکی ہیں۔ خان صاحب چند ووٹوں کی برتری سے قائد ایوان کی کرسی پر براجمان ہونے سے لے کر آج تتر بتر اور کنفیوزڈ اپوزیشن کی موجودگی تک فی الحال مضبوط اور مطمئن دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک خطرہ بہرحال رہے گا اور وہ ہے معیشت۔ اگر معاشی صورت حال مزید خراب ہوئی تو یہ بنی بنائی بساط بگڑنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
بشکریہ : اردو نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close