جانئے شاہی قلعے کے ماتھے کا جھومر پکچر وال کے بارے میں

کیا آپ جانتے ہیں کہ شاہی قلعہ لاہور میں دنیا کی سب سے بڑی پکچر وال یا تصویری دیوار واقع یے۔ دس لاکھ ڈالرز کے اخراجات سے چار صدیوں پرانی اس دیوارِ مصوری کی بحالی کا کام مکمل ہونے کے بعد اب قلعے کے حسن کو چار چاند لگ گئے ہیں۔ شاہی قلعے میں واقع دیگر عمارتیں ایک طرف اور پکچر وال کی خوبصورتی دوسری طرف ہو تو بلاشبہ یہ پرشکوہ دیوار دیگر یادگاروں کو مات دے دیتی ہے۔ مغلیہ دور کی مصوری اور کاریگری کا شاہکار یہ دیوار سینما کے اس پردے کی طرح دکھائی دیتی ہے جس پر مغلیہ تہذیب کی پوری فلم چل رہی ہو۔

لاہور کا شاہی قلعہ مغلیہ دور کی عظیم الشان روایات کا امین ہے۔ یہاں تقریباً چار سو سال قبل تعمیر ہونے والی پندرہ سو دس فٹ لمبی دیوارِ مصوری کو دنیا کی سب سے بڑی تصویری دیوارکہا جاتا ہے۔ اس منفرد دیوار کو پکچر وال یا آرٹسٹ وال بھی کہا جاتا ہے جس پر بنی ہوئی تصاویر اور مغلیہ طرز زندگی کے نقش و نگار دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں، فن کے دلدادہ لوگ اسے شاہی قلعے کے ماتھے کا جھومر کہتے ہیں۔ اس دیوار کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس پر تین بادشاہوں نے مل کر تصاویر بنوائی تھیں۔ دیوارِ مصوری پر پر ایسے شاندار نقش آج بھی موجود ہیں کہ دیکھنے والے حیران رہ جاتے ہیں۔ سینکڑوں تصویری نقوش پر مشتمل یہ پُرشکوہ دیوار بلاشبہ اپنی مثال آپ ہے۔

یہ شاندار پکچر وال دراصل موزیک ٹائل، فریسکو ورک اور دیدہ زیب برکس ورک پر مشتمل ہے۔ یہ اپنے طول و عرض، ساخت اور رنگوں کی وجہ سے غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ قلعہ کے مغربی اور شمالی حصے میں پھیلی دیوار کی خوبصورتی اور تاریخی اہمیت کی بناء پر ہی حکومت پاکستان نے عالمی اداروں کی مدد سے دس لاکھ امریکی ڈالر کا خطیر سرمایہ لگا کر اسے بحال کیا ہے۔ دیوار پر قدیم منبط کاری، سنگ تراشی، کاشی کاری اور نقاشی کے بہترین شہکار ہیں، اسی دیوار کی وجہ سے شاہی قلعہ کو یونیسکو کی جانب سے ورلڈ ہیریٹج سائٹ کا درجہ گیا تھا۔

قلعہ لاہور کی شمالی اور شمال مغربی بیرونی دیوار ٹائلوں پر بنی تصاویر کے ایک طویل تسلسل سے مرصع ہے، جو دنیا کی چند نادر دیواروں میں سے ایک ہے۔ اس دیوار کی سجاوٹ میں ایک خاص ترتیب اور مختلف نمونوں کی حسنِ ترتیب اسے دنیا بھر میں ممتاز کرتی ہے۔ ٹائلوں پر بنی تصاویر میں تناسب اور نمونوں میں تنوع کا بہترین مظاہرہ حس جمالیات رکھنے والوں کو آج بھی دعوت نظارہ دے رہا ہے۔ دیوار مصوری کی آرائش کو دو کارنسوں کے مختلف جسامت کے محرابی طاقچوں کی دہری قطار میں تقسیم کیا گیا ہے۔ دیواری تصویریں محرابی طاقچوں میں بنائی گئی ہیں جبکہ ہموار حصوں کو ٹائلوں پر بنی تصاویر سے آراستہ کیا گیا ہے۔ ان ٹائلوں پر انسانوں، پریوں، ہاتھیوں، شیروں، دیو مالائی اژدہوں، جانوروں کی لڑائی، پولو، مغليہ طرز زندگی اور دیگر کھیلوں کے مناظر کے علاوہ ،کبوتر خانے بھی جا بجا ملتے ہیں۔ دیواروں پر مزین انسانی شبیہوں کے لباس دیکھ کر بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانے میں شاہی خاندان ، جنگجو طبقہ اور نوکر پیشہ لوگوں کا طرز رہن سہن اور لباس کس قسم کا تھا۔

لاہور کے شاہی قلعے میں قائم یہ دیوار دنیا کی سب سے بڑی منقش دیوار ہے، مورخین کے مطابق اس کی بنیاد مغل بادشاہ اکبر نے تقریباً 400 سال پہلے رکھی۔ اس کے بعد شہنشاہ جہانگیر اور پھر شاہجہاں نے لگ بھگ 1632 میں اسے مکمل کیا۔ یہ شاندار تصویری دیوار تین مغل شہنشاہوں کے جمالیاتی افکار کی نمائندگی کرتی ہے۔ حال ہی میں حکومت پاکستان نے اس دیوار کی بحالی کا کام مکمل کیا ہے کیونکہ دست بُرد زمانہ اور موسموں کی سختی کی وجہ سے اس قدیم دیوار مصوری کے نقش و نگار بری طرح متاثر ہو چکے تھے۔ چند سال قبل حکومت پاکستان نے اس دیوار کی بحالی کے لئے بڑے منصوبے کا اعلان کیا۔ والڈ سٹی اتھارٹی اور آغا خان ٹرسٹ نے باہمی تعاون سے اس منقش دیوار کی بحالی کے لئے دستاویزی مطالعہ کرنے کے بعد ایک حصے کی بحالی پر کام کا آغاز کیا اور اب دیوار پر قائم قدیم منبط کاری، سنگ تراشی، کاشی کاری اور نقاشی کو بحال کر کے اس شاندار آثار قدیمہ کو بچالیا گیا ہے۔ والڈ سٹی لاہور اتھارٹی نے ابتدائی طور پر دیوار کی مغربی حصے کی بحالی کا کام مکمل کر لیا ہے۔ دیوار کے مغربی حصے کی لمبائی 350 فٹ اور اونچائی 50 فٹ ہے۔ اس دیوار میں 635 نمونے محفوظ ہیں۔ اس دیوار کی بحالی کا کام والڈ سٹی لاہور اتھارٹی اور آغا خان کلچر فار سروس نے 2018 میں شروع کیا تھا۔ دیوار کی بحالی کے اس منصوبے کی سرپرستی کے لئے سوئٹزرلینڈ اور اٹلی سے ماہرین بلائے گئے۔ سنگ تراشی، کاشی کاری اور نقاشی کو بڑی مہارت اور باریک بینی سے اس کی حقیقی شکل میں بحال کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے دیوار کو پہلے کیمیکلی ٹریٹ کیا گیا اور پھر ایسے اجزا کا انتخاب کیا جاتا ہے جو ہر طرح کے موسموں میں دیرپا ہوں۔

شاہی قلعے کی سیر کے لئے آنے والوں کو سب سے پہلے یہی پکچر وال خوش آمدید کہتی ہے۔ اس شاندار دیوار مصوری کی بحالی کی بدولت یقیناً ملک میں سیاحت کو فروغ ملے گا اور آنے والی نسلیں بھی مغلیہ فن تعمیر کے اس شاندار نمونے سے روشناس ہوسکیں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close