کرونا تو ہر جگہ پہنچ گیا، لیکن سائنس کہاں تک پہنچی؟

دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے نکل کرپوری دنیا میں پھیلنے والا کرونا وائرس تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی تک قابو میں نہیں آ سکا اور نہ ہی اس کی کوئی موثر ویکسین تیار کی جا سکی ہے۔ وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور اموات کا سلسلہ جاری ہے لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ اس جان لیوا وائرس کے پھیلنے کے بعد سے اب تک اسکا توڑ تلاش کرنے کے لیے طبی ماہرین اور سائنس دانوں نے کیا پیش رفت کی یے؟
ایسا نہیں ہے کہ سائنس دان ہاتھوں پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ جس تیز رفتاری سے یہ وائرس پھیل رہا ہے، اسی برق رفتاری سے سائنسی تجربہ گاہوں میں بھی تحقیق جاری ہے۔ کہیں اس وائرس کی ماہیت پیش نظر ہے، کہیں ویکسین کی تیاری زیرغور ہے، کہیں وائرس کے نقصان کو کم کرنے پر توجہ مرکوز ہے تو کہیں پہلے سے موجود ادویات کے ذریعے اس وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں میں کمی پر تحقیق ہو رہی ہے۔ آپ نے کئی بار یہ جملہ سنا ہوگا کہ کرونا وائرس بھی زکام ہی کی طرح کی ایک بیماری ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ امریکا کے متعدی بیماریوں کے انسدادی محکمے کے مطابق کرونا وائرس کے نتیجے میں اموات اور عام زکام کی وجہ سے اموات کا موازنہ درست عمل نہیں ہے۔
ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے والی سٹیٹن ادویات ممکنہ طور پر کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کےلیے فائدہ مند ہوسکتی ہیں۔ تحقیق میں کہا گیا ہےکہ جسم میں کولیسٹرول کی سطح کم کرنے کےلیے استعمال ہونے والی سٹیٹن نامی دوائیں واضح طور پر معمر افراد میں سانس کی بیماری پیدا ہونے سے روکتی ہیں۔ اس سلسلے میں دو نرسنگ ہاؤسز کے کورونا وائرس سے متاثرہ ایک سو چون معمر افراد کا تحقیقی مطالعہ کیا گیا۔ تاہم اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
ایک اور سائنسی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماری کووِڈ انیس کو اب تک نظام تنفس کی مخصوص بیماری سمجھا جا رہا ہے، مگر یہ بیماری حقیقت میں صرف پھیپھڑوں تک ہی محدود نہیں رہتی۔ میڈیکل جرنل ‘کِڈنی‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں نیویارک ہیلتھ سسٹم سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے تناظر میں بتایا گیا ہے کہ کووِڈ انیس میں مبتلا بالغ افراد میں سے ایک تہائی سے زائد ایسے تھے، جنہیں گردوں میں شدید انفیکشن کا مسئلہ درپیش تھا۔ نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق میں بھی کہا گیا ہے کہ کووِڈ انیس کی وجہ سے مرنے والے 27 افراد کا پوسٹ مارٹم کیا گیا، تو ان میں سے 13 کے گردوں، 17 کے دل، 17 کے جگر اور آٹھ کے دماغ کے ٹشوز پر یہ مہلک وائرس پایا گیا۔
تازہ سائنسی رپورٹوں میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ کرونا وائرس جسم میں خون کے لوتھڑے بن جانے کی وجہ بن رہا ہے اور کئی اموات شریانوں میں خون جم جانے سے بھی ہوئی ہیں۔ دنیا بھر کے محققین اس وقت یہ جاننے کی کوشش میں مصروف ہیں کہ آیا اس وائرس کو شکست دینے والے افراد کے خون سے حاصل کردہ پلازمہ نئے مریضوں کےلیے مددگار ہے یا نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گو کہ پلازمہ کا ایک فرد سے دوسرے فرد میں انتقال محفوظ ہے، مگر یہ واضح نہیں کہ آیا یہ کرونا وائرس کے خلاف کوئی مدد دیتا ہے۔ ایک نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے گیا کہ کرونا کے 19 مریضوں میں پلازمہ کی منتقلی کی گئی لیکن اس کے کوئی منفی اثرات نہیں دیکھے گئے۔
امریکی محکمہ برائے خوراک و ادویات نے بھی پلازمہ کی منتقلی سے انتہائی منفی اثرات کے امکانات کو ایک فیصد سے بھی کم بتایا ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ پلازمہ کی منتقلی سے نئے مریضوں کو کوئی واضح فائدہ ہوا یا نہیں۔
واضح رہے کہ کوئی شخص کسی وائرس سے متاثر ہو، تو جسم کا مدافعتی نظام اس وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز پیدا کر لیتا ہے اور دوبارہ اس وائرس کے جسم میں پہنچنے پر وہ اینٹی باڈیز اس وائرس کو باآسانی ختم کر دیتی ہیں۔ تاہم کرونا وائرس میں میوٹیشن یا خود کو تبدیل کرنے کی صلاحیت اتنی تیز رفتار ہے کہ فی الحال یہ واضح نہیں ہو پا رہا کہ یہ اینٹی باڈیز اس وائرس کے خلاف بھی کارگر ہیں یا نہیں۔ کرونا وائرس کے انسداد کےلیے جینیات کے ماہرین بھی تحقیق میں مصروف ہیں۔ یہ ماہرین غور کر رہے ہیں کہ یہ جرثومہ جینیاتی طور پر کس طرح کی ماہیت کا حامل ہے اور کون سے انسانی جینز پر اس کا اثر کس انداز کا ہے۔ اسی طرح وائرالوجسٹس مختلف کیمیائی مادوں کے اس وائرس کے افعال پر اثرات کا معائنہ بھی کر رہے ہیں۔ ان حالات میں سب منتظر ہیں کہ کرونا وائرس کاتوڑ کب نکلتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close