کیا بابر اعظم کرکٹ کے سازشی عناصر کا سامنا کر پائیں گے؟

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اچھی کارکردگی کی بنیاد پر ون ڈے ٹیم کا کپتان مقرر کیے جانے کے بعد اعظم بابر نے اس عمومی تاثر کی تردید کی ہے کہ وہ ایک بے اختیار کپتان ہیں اور انہیں بھی اپنی کپتانی بچانے کے لیے ٹیم کوچ کے اشاروں پر چلنا پڑے گا۔ لیکن ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج کرکٹ کی دنیا کے ان سازشی عناصر کے ہتھکنڈوں سے بچنا ہو گا جنہوں نے ماضی میں پچھلے کپتانوں کو فیل کیا ہے۔
یاد رہے کہ کپتان بننے کے بعد کرکٹ ماہرین مسلسل یہ تاثر دے ریے تھے کہ بابر اعظم ایک ڈمی اور بے اختیار کپتان ہوں گے۔ لیکن بابر اعظم نے کپتان بننے کے بعد اس تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ انھیں مکمل اختیارات کے ساتھ قومی کرکٹ ٹیم کی قیادت سونپی گئی ہے۔ کرکٹ ٹیم میں کوچ مصباح الحق کا کردار بہت اہم ہے لیکن ٹیم کے حوالے سے وہ تمام فیصلے خود کرتے ہیں۔ ور کریں گے۔ بابر اعظم کا کہنا یے کہ وہ بھی عمران خان کی طرح ایک جارح ور اٹیکنگ کپتان بننا چاہتے ہیں، یہ بھی یاد ریے کی اسوقت کرکٹ ٹیم کے کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق اپنے دور میں ایک دفاعی کپتان کہلاتے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مصباح الحق بابر اعظم کی جارحانہ حکمت عملی کے سامنے بند باندھنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔
واضح رہےکہ گزشتہ ایک سال کے دوران بابر اعظم نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرکٹ ماہرین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ان کی بیٹنگ کی کارکردگی کا اعتراف اپنے ہی نہیں بلکہ غیر بھی کرتے ہیں۔ بابر اعظم کی کارکردگی نے انہیں کئی بڑے کھلاڑیوں کے مقابل کھڑا کردیا ہے۔ ویرات کوہلی، سٹیو سمتھ اور جو روٹ کی صف میں کھڑے بابر اعظم اس لحاظ سے منفرد ہیں کہ انہیں اس مقام تک پہنچنے کے لیے طویل انتظار نہیں کرنا پڑا۔ انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں ایک جیسی مہارت کا مظاہرہ کرکے دنیا کو حیران کردیا ہے۔ ان کے برعکس دوسرے کھلاڑیوں کو تینوں فارمیٹ میں پہنچنے کے لیے خاصی تگ و دو کرنا پڑی ۔
بابر اعظم کو جب 2019 میں ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا تھا تو ماہرین نے شبہ کا اظہار کیا تھا کہ کپتانی کی ذمہ داریوں سے ان کی بیٹنگ پر اثر پڑے گا لیکن بابراعظم نے سب کے اندازے غلط ثابت کر دیے اور ان کا بلا اسی طرح رنز اگلتا رہا جیسے سرفراز کی کپتانی میں چل رہا تھا۔
سرفراز احمد ایک اچھے اور محنتی کپتان تھے لیکن جیسے جیسے بابر اعظم بیٹنگ میں چمکنے لگے، ویسے ویسے سرفراز کا سورج ڈوبنے لگا۔ اب جبکہ اگلے چند مہینوں میں پاکستان کی کوئی ون ڈے سیریز کا پلان نہیں ہے تو پاکستان کرکٹ بورڈ نے سرفراز احمد کو کپتانی سے ہٹاکر بابر اعظم کو کپتان مقرر کردیا ہے۔ بابر اعظم ایک کم گو اور اپنے کام سے کام رکھنے والے کرکٹر سمجھے جاتے ہیں، ان کے لیے کپتانی بوجھ تو نہیں لیکن بھاری ذمہ داری ضرور ہے۔
بابر اعظم کو وکٹ کیپنگ میں سرفراز اور کامران اکمل کے مقابلے میں رضوان پر زیادہ اعتماد ہے اور وہ ان کو تسلسل سے موقع دینا چاہتے ہیں۔ ان کے خیال میں رضوان اس وقت سب سے اچھے وکٹ کیپر ہیں۔ بابر اعظم حال ہی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے خاصے محتاط نظر آئے اور شرجیل خان کی شمولیت کے سوال پر جواب گول کرگئے جبکہ عامر اور وہاب کی شمولیت بھی مصباح الحق پر ڈال دی۔ بابر اعظم نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ٹیم میں بیٹنگ کا زیادہ تر بوجھ ان پر ہے اور آسٹریلیا سے شکست میں دوسرے بلے بازوں سےتعاون نہ ملنا بھی ایک وجہ تھی۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا کپتانی کے بوجھ سے ان کی بیٹنگ پر کوئی اثر پڑے گا؟ بابر نے نفی میں جواب دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ کپتانی نخے لیے کوئی نئی چیز نہیں ہے، وہ انڈر 19 کے زمانے سے کپتانی کر رہے ہیں اور سکو انجوائے کرتے ہیں، اس سے ان کو اپنی بیٹنگ کی صلاحیتیں دکھانے کا اور زیادہ موقع ملتا ہے۔ بابر اعظم کے مطابق انھیں چیلنجز قبول کرنے کا شوق ہے اور وہ کپتانی کے چیلنج کو بھی بخوبی انجام دینے کی کوشش کریں گے۔
جولائی 2020 میں انگلینڈ کے دورے کے لیے بابر اعظم پُرعزم دکھائی دئیے۔ ان کے خیال میں پی سی بی کا قومی کرکٹ ٹیم کے دورہ انگلینڈ کی اجازت دینا احسن قدم ہے۔ انگلینڈ کا دورہ بابر اعظم کے لیے اس لحاظ سے اہم ہوگا کہ ٹیسٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی ناقدین کے ریڈار پر ہیں اور اگر پاکستان یہ سیریز ہار جاتا ہے تو کوئی بعید نہیں کہ اگلی سیریز میں ٹاس کرنے کے لیے بابر اعظم گراؤنڈ کے وسط میں ہوں ۔ کرکٹ ماہرین کے مطابق بابر اعظم کیلئے ٹیم میں سینئیر کھلاڑیوں کی موجودگی میں کپتانی کی ذمہ داری کسی ہمالیہ کو سر کرنے سے کم نہیں۔ ماضی میں جاوید میاں داد کو جب اسی طرح کپتان بنایا گیا تھا تو ان کے خلاف بغاوت ہوگئی تھی اور تین سیریز کے بعد ہی ان کو سبکدوش ہونا پڑا تھا۔ تاہم بابر اعظم کے سامنے اس وقت میں داد جیسے مہان کھلاڑی تو نہیں ہیں لیکن کھلاڑیوں کے پیچھے کام کرنے والی منفی قوتیں اب بھی موجود ہیں۔ انہی قوتوں نے ماضی میں شعیب ملک، یونس خان اور شاہد آفریدی کو لوہے کے چنے چبوا دیے تھے۔ بابر اعظم اس نئی ذمہ داری کو بخوبی نبھا سکیں گے یا نہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن عالمی درجہ بندی میں تنزلی نے ان کی ٹی ٹوئنٹی کپتانی کو متاثر کیا ہے اور اب ون ڈے میں جہاں پاکستان پہلے ہی بہت نیچے ہے اس کو اوپر لانا ان کیلئے جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close