سینٹرل کنٹریکٹ میں اے یا بی کیٹیگری میرے لیے مسئلہ نہیں

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سرفراز احمد نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سینٹرل کنٹریکٹ میں تنزلی کو پس پشت ڈال کر ٹیم میں واپسی کے عزم کا اظہار کردیا۔
سرفراز احمد نے ایک انٹرویو میں کہا کہ کوئی بھی چیز آپ کو مل ضرور جاتی ہے مگر اس کو برقرار رکھنے کے لیے بہت زیادہ محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میرے لیے سینٹرل کنٹریکٹ کی اے، بی یا سی کیٹیگری کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، میرا اصل مقصد ہے کہ جب بھی پاکستان ٹیم کے لیے موقع ملے، اپنی جگہ بناؤں اور اس موقع کا پورا فائدہ اٹھاؤں۔
انہوں نے کہا کہ کرکٹرز کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں لیکن میں ہر حال میں اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہوں، اب بھی اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ بی کیٹیگری ملی کیوں کہ بی کیٹیگری میں بھی ہمارے تمام ٹاپ کے کرکٹرز موجود ہیں۔
سابق کپتان نے کہا کہ شاہین شاہ آفریدی کو اے کیٹیگری ملی ہے جو بڑی خوشی کی بات ہے کیونکہ انہوں نے خود کو منوایا ہے اور ورلڈ کپ جیسے ایونٹ میں بھی ان کی کارکردگی شان دار رہی تھی۔
خیال رہے کہ پی سی بی نے حال ہی میں سرفراز احمد کو سینٹرل کنٹرکٹ کی اے کیٹیگری سے بی میں بھیج دیا تھا۔پی سی بی کی جانب سے 21-2020 کے لیے اعلان کردہ نئے سینٹرل کنٹریکٹ میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کی گئی ہے اور کئی نامی گرامی کھلاڑی کنٹریکٹ میں جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے جبکہ چند نئے کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔نئے کنٹریکٹ میں کُل تین کیٹیگریز رکھی گئی ہیں جن میں مجموعی طور پر 18کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ دیا گیا ہے جبکہ اس کے علاوہ تین ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو بھی نوازا گیا ہے۔نئے کھلاڑی نسیم شاہ اور افتخار احمد بھی سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں جبکہ محمد عامر، وہاب ریاض اور حسن علی محروم ہوگئے تھے۔پی سی بی نے سینٹرل کنٹرکٹ میں تنزلی کے ساتھ ساستھ سرفراز احمد کی جگہ بابراعظم کو ایک روزہ ٹیم کا کپتان بھی مقرر کردیا ہے۔سرفراز احمد کو سری لنکا کے خلاف اکتوبر 2019 میں ہوم سیریز کے بعد ٹیم سے بھی ڈراپ کردیا گیا تھا جس کے بعد خدشات تھے کہ انھیں سینٹرل کنٹریکٹ کی سی کیٹیگری میں رکھا جائے گا تاہم بی کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close