کرنل کی غنڈہ گردی سے بیوی کی بدمعاشی تک کی کہانی

ہزارہ موٹروے چیک پوائنٹ پر 20 مئی 2020 کے روز پولیس کے ساتھ بدمعاشی کرنے اور پھر زبردستی ناکہ توڑنے والی ایک لیفٹننٹ کرنل کی بیوی کا شوہر خود بھی 2018 میں ایسے ہی ایک واقعے میں ملوث رہ چکا ہے جب وہ ٹریفک پولیس والوں کو دھمکیاں دینے کے بعد گندی گالیاں دیتا ہوا زبردستی گاڑی بھگا کر لے گیا تھا۔ بعدازاں اس کے خلاف انضباطی کارروائی بھی کی گئی تھی۔
یاد رہے کہ 20 مئی کے روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں خود کو پاکستانی فوج کے ایک کرنل کی اہلیہ قرار دینے والی ایک بدزبان اور بدتمیز خاتون کو ھزارہ ایکسپریس وے پر پولیس اہلکاروں سے بدکلامی کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو کے پہلے حصے میں یہ خاتون پولیس اہلکار کے گاڑی روکنے پر کہتی ہے کہ وہ ایک کرنل کی بیوی ہیں اور اسے سڑک پر اس طرح نہیں روکا جا سکتا۔ ویڈیو کے دوسرے حصے میں مذکورہ خاتون گاڑی سے اتر کر سڑک پر لگی رکاوٹیں ہٹاتی ہے اور اپنے ساتھ سفر کرنے والے نوجوان لڑکے کو کہتی ہے کہ گاڑی نکالو۔ اس دوران دو مرتبہ پولیس اہلکار گاڑی کو روکنے کے لیے اس کے آگے رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اس وقت ایکسپریس وے بند ہے اور دس دیگر گاڑیاں بھی رکی ہوئی ہیں لیکن دونوں مرتبہ یہ خاتون گاڑی سے نکل کر ان رکاوٹوں کو زبردستی ہٹاتی ہے اور پھر گالیاں بکتے ہوئے زبردستی وہاں سے گاڑی بھگا کر لے جاتی ہےلیکن کرنل کی بیوی شاید یہ نہیں جانتی تھی کہ پولیس اہلکار کے خفیہ کیمرے میں یہ تمام مناظر ریکارڈ ہورہے تھے جو کہ بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل کر دیے گئے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی اس ویڈیو نے ہر طرف طوفان برپا کر دیا اور ٹوئیٹر اور فیس بک پر صارفین نے اس عورت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اب معلوم ہوا ہے کہ اس خاتون کا کرنل شوہر بھی دو سال پہلے ٹریفک پولیس سے بدتمیزی کا مرتکب ہو چکا ہے اور اس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔ پاک فوج کے اس کرنل کو ستمبر 2018ء میں ایک ٹریفک پولیس اہلکار سے بدتمیزی کرنے اور گندی گالیاں دینے پر فرنٹیئر فورس رجمنٹ سینٹر سے باہر پوسٹ کر دیا گیا تھا۔
کرنل صاحب اور ان کی اہلیہ کی ویڈیوز دیکھی جائیں تو ایک قدر مشترک نظر آتی ہے۔ دونوں ہی بدتمیزی کرنے اور گالیاں دینے میں کمال مہارت رکھتے ہیں۔ جب کرنل صاحب کی بیگم کو پولیس اہلکار نے یہ بتایا کہ ابھی سب گاڑیاں رکی ہوئی ہیں اور صرف صوبیدار صاحب آ کر اجازت دے سکتے ہیں تو وہ آپے سے باہر ہو گئی اور بولی کہ میں ایک کرنل کی بیوی ہوں، رکاوٹیں ہٹاؤ ورنہ میں صوبیدار کی وردی اتروا دوں گی۔ پھر اس خاتون نے صوبیدار کا نام لے کر گالیاں بھی بکیں۔
اس دوران پولیس اہلکار چپکے سے خاتون کی ویڈیو بھی بناتے رہے۔ لیکن معاملہ مزید خراب تب ہوا جب خاتون نے  گاڑی  سے نکل کر سڑک پر موجود رکاوٹیں ہٹا کر گاڑی آگے نکلوا لی۔ اس دوران خاتون مسلسل غلیظ زبان کا استعمال کرتی رہی اور اپنے خاوند کا حوالہ دیتے ہوئے دھمکیاں بھی دیتی رہی۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سکیورٹی اہلکار کہہ رہے ہیں کہ ہم یونیفارم میں ہیں اور لوگ یہ سب دیکھ رہے ہیں لیکن خاتون بضد تھیں کہ میں نے تعارف کروا دیا اب تمہیں بیریئر ہٹانا ہوگا، سامنے سے ہٹ جاو ورنہ گاڑی تم لوگوں پر چڑھا دوں گی۔ اس کے بعد کرنل کی بیوی بدمعاشی کرتے ہوئے ناکہ توڑ کر وہاں سے نکل گئی۔
بعد میں اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور ٹوئیٹر پر”کرنل کی بیوی” ٹرینڈ بھی چلنے لگا جو کہ اس وقت پاکستان میں ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے۔ خاتون کی جانب سے پولیس اہلکار کے ساتھ مبینہ بدتمیزی کے بعد سوشل میڈیا صارفین شدید غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس دوران خاتون کے کرنل شوہر کی بھی ایک ویڈیو منظر عام پر آ گئی ہے جس میں وہ خود بھی پولیس اہلکار کے ساتھ بدتمیزی کر رہے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے عسکری ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ فوج کے مذکورہ افسر کو ستمبر 2018ء میں ایک ٹریفک پولیس اہلکار سے بدتمیزی کرنے پر فرنٹیئر فورس رجمنٹ سینٹر سے باہر پوسٹ کر دیا گیا تھا۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فوجی افسر نے بھی ٹریفک پولیس اہلکار کو وردی اتروانے تک کی دھمکی دے ڈالی تھی۔ 
اس سلسلے میں عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ 20 مئی کو شام پانچ بجے کے قریب صوبہ خیبرپختونخوا میں ہزارہ ایکسپریس وے پر مانسہرہ میں پیش آیا جب یہ خاتون مانسہرہ سے شنکیاری کی جانب سفر کر رہی تھیں۔ عسکری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ مذکورہ خاتون کے شوہر کا تعلق پاکستانی فوج سے ہے،یہ خاتون لیفٹننٹ کرنل محمد فاروق خان کی بیوی ہے اور ماضی میں ایک ایسے ہی واقعے میں ملوث ہونے کے بعد ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی گئی تھی۔
اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ ’کرنل کی بیوی‘ نہ صرف ٹرینڈ کرنے لگا بلکہ ٹاپ ٹرینڈ بھی بن گیا اور صارفین یہ سوال کرتے نظر آئے ہیں کہ کیا ایک باوردی اہلکار کے ساتھ ایسا رویہ قابل قبول ہے۔ صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے خاتون کے رویے کو شرمناک قرار دیا ہے۔ صحافی رائے ثاقب کھرل نے لکھا: ’کرنل کی بیگم کی وڈیو دیکھ کر ڈی پی او پاکپتن یاد آ گئے۔ ان کی فورس نے بھی خاتون اول کے سابقہ شوہر کی گاڑی کو روکا تھا۔ ’تم جانتے نہیں میں کون ہوں۔‘ رائے ثاقب نے مزید لکھا: ’اجتماعی سوچ ہے اس ملک کی۔ ہم سب کے اندر چھوٹا موٹا قانون کو توڑنے مروڑنے والی سوچ موجود ہے اور اسی کا مظاہرہ ان خاتون نے کیا۔‘
زبیر اعوان نامی ایک صارف نے لکھا: ’قابل نفرت اور شرمناک۔ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔ وہ ایک پورے ادارے کو بدنام کر رہی ہیں۔ آرمی کو اپنے دفاتر سے ایسے دماغوں کو نکال دینا چاہیے۔ اس خاتون کو جلد از جلد سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیے۔ بہادر پولیس اہلکار کو سلام۔‘
علی رضا نامی صارف نے لکھا: ’کرنل کی بیوی نہ تو خود کرنل ہے اور نہ ہی اپنے آپ میں کوئی ادارہ۔ ویڈیو ایک عام شہری کی ہے، جس نے قانون توڑا اور سزا ملنی چاہیے۔‘ پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل طارق پرویز نے لکھا: ’مجھے امید ہے کہ قانون کے مطابق اس خاتون کے خلاف کیس درج کیا جائے گا اور انھیں گرفتار کیا جائے گا۔ اپنے شوہر کی طرح نہیں جنھیں پولیس کے ساتھ نامناسب رویے پر ٹرانسفر کر دیا گیا تھا۔‘
سوشل میڈیا صارفین جہاں خاتون کے نامناسب رویے پر غصے کا اظہار کرتے رہے، وہیں اپنے فرائض سرانجام دینے والے اہلکار کو بھی سراہا گیا۔
منیب مونی نامی ایک صارف نے لکھا: ’قانون کی پاسداری کرنے والے اس پولیس اہلکار کو سلام، یہ میرے ہیرو ہیں۔‘
ایک اور صارف نے لکھا: ’میں اس پولیس آفیسر کو اپنے فرائض کی انجام دہی اور سٹیٹس کو، کو چیلنج کرنے پر ان کی ہمت کو سلام پیش کرتا ہوں۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close