ایک برس پرانی ویڈیو دو لڑکیوں کے قتل کی وجہ کیسے بنی؟

جنوبی وزیرستان میں دو لڑکیوں کے قتل کی وجہ بننے والی ایک موبائل فون ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ملک بھر میں زیر بحث ہے۔
یاد رہے کہ جنوبی وزیرستان کے ایک لڑکے نے ایک برس پہلے موبائل فون پر علاقے کی تین لڑکیوں کے ساتھ زبردستی بوس و کنار کرتے ہوئے ویڈیو بنالی جسے پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ڈال دیا گیا۔ چنانچہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد غیرت کے نام پر ان تین میں سے دو لڑکیوں کو ایک کے باپ اور دوسری کے بھائی نے قتل کر دیا جبکہ تیسری لڑکی چھپ جانے کی وجہ سے زندہ بچ گئی۔
یہ معاملہ سوشل میڈیا پر آنے کے بعد لڑکیوں کی ویڈیو بنانے والے اور لڑکیوں کو قتل کرنے والوں کو گرفتار کر لیا گیا یے جنہوں نے جج کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔ وزیرستان پولیس کے مطابق گرفتار کیے گئے ملزمان میں ایک لڑکی کا بھائی امین خان اور دوسرا ملزم دوسری لڑکی کا والد رسول خان ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دنوں ملزمان سے تفتیش کی جائے گی جبکہ واقعہ میں ملوث مزید ملزموں کا تعین کر کے انھیں بھی جلد گرفتار کیا جائے گا۔ پولیس نے اس کارروائی کو غیرت کے نام پر قتل کی واردات میں بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔
دوسری طرف اس اندوہناک واقعے کے بعد سے وزیرستان کے لوگ سکتے میں ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ آج سے پہلے یہاں ایسا شرمناک واقعہ کبھی پیش نہیں آیا کیونکہ موبائل سے بنی ویڈیو میں جو کچھ نظر آیا وہ قبائلی رسوم و رواج اور روایات کے منافی ہے۔ جنوبی وزیرستان میں جتنے منہ اتنی باتیں کے مصداق کوئی اس واقعہ کا ذمہ دار موبائل فون، انٹرنیٹ اور فور جی کو ٹھہرا رہا ہے تو بعض لوگ اسے کسی خاص ایجنڈے کا نام دے کر پیش کر رہے ہیں۔ اور تو بعض نیوز چینلز تو اس تشویش میں مبتلا ہیں کہ جنوبی وزیرستان کے مقامی صحافی اس واقعہ کے بارے میں کیوں خاموش ہیں؟ سوال کیا جا رہا یے کہ وہ جو ہر معاملے میں بڑھ چڑھ کر بولتے ہیں اب لڑکیوں کے قتل کے معاملہ پر خاموش کیوں ہو گئے؟
لیکن حقیقت یہ ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کے اس طرح کے واقعات پاکستان سمیت پوری دنیا میں رونما ہوتے رہتے ہیں لیکن وزیرستان میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقع ہے۔ لہذا اس معاملے پر مقامی صحافیوں کی خاموشی اپنے علاقے کے رسم ورواج اور امن کی خاطر ہے۔ مقامی صحافی کہتے ہیں کہ وہ حالات کی نزاکت اور اس کے ردعمل کو اچھی طرح سے جانتے ہیں اور ان کی خاموشی مزید خون خرابے کی روک تھام کے لیے ہے۔ ان کاکہنا ہے کہ ایسے واقعات کو “لو پروفائل” ہی رکھنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ جو ہونا ہے وہ ہوگیا اور اس خبر کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا حالات کو مزید سنگینی کی طرف لے جاسکتا ہے۔
تاہم انسانی حقوق کی کارکن گلالئی اسماعیل کے مطابق غیرت کے نام پر قتل ہونے والی لڑکیاں انتہائی کم عمر ہیں اور ویڈیو بنانے والے نے ان کے ساتھ زبردستی بوس وکنار کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس واقعہ کی بنیاد ایک ویڈیو کو بنایا گیا ہے جس میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ ان کے چہروں پر خوف ہے۔ ’وہ خوف زدہ ہیں اور یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ ویڈیو میں موجود ایک لڑکی ویڈیو سے بچنے کی کوشش بھی کررہی ہے۔ عملاً ان لڑکیوں کو ہراساں کیا گیا ہے اور زبردستی ویڈیو بنائی گئی۔
پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن کی تحقیق کے مطابق غیرت کے نام پر قتل میں تقریباً ہمیشہ مقتول خواتین کے شوہر اور بھائی ملوث پائے جاتے ہیں۔ گلالئی اسماعیل کے مطابق وڈیو میں تین لڑکیاں نظر آرہی ہیں جن میں سے دو کو قتل کر دیا گیا ہے البتہ ایک لڑکی ابھی تک زندہ ہے اور غائب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تیسری لڑکی کو تلاش کرکے اس کی زندگی کو محفوظ بنایا جانا چاہیئے۔
لیکن دوسری طرف ایک مقامی قبائلی بادشاہ خان نے ایک وڈیو اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر پوسٹ کی ہے جس میں اس کا کہنا ہے کہ ‘ تینوں لڑکیوں کو سزا دی جانا ضروری ہے تاکہ دوبارہ کسی کو ایسی گندی حرکت کرنے کی جرات نہ ہو اور ہماری عزت و آبرو محفوظ رہے۔’

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close