کپتان کابینہ کے منتخب اور غیر منتخب وزرا میں جنگ تیز

وزیراعظم عمران خان کے ناقدین کی جانب سے آج کل یہ اعتراض کیا جا رہا ہے کہ ایک منتخب حکومت کے ہوتے ہوئے بھی غیر منتخب ٹیکنو کریٹس کی بہت بڑی تعداد حکومتی فیصلہ سازی کے عمل میں شریک ہے جس کی وجہ سے سیاسی عناصر دب کر رہ گئے ہیں اور غیر سیاسی عناصر کی سوچ حکومتی فیصلوں پر غالب آتی جارہی ہے۔ وفاقی کابینہ پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ 51 رکنی کابینہ میں 20 اراکین یعنی 5 ایڈوائزر اور 15 سپیشل اسسٹنٹ غیر منتخب شدہ لوگ ہیں جبکہ پاکستان کے آئینی نظام میں منتخب اراکین پر مبنی وفاقی کابینہ قومی اور بین الاقوامی امور پر فیصلے کرنے کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے۔
سینئر صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ نے اپنی ایک تازہ تحریر میں کابینہ میں موجود منتخب اور غیر منتخب اراکین کی باہمی چپقلش اور سیاست کے حوالے سے لکھا ہے کہ کابینہ میں اختلاف رائے ہونا معمول کی بات ہے کیونکہ صرف بحث سے ہی اچھی فیصلہ سازی ممکن ہوتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ موجودہ وفاقی کابینہ میں بھی کئی رنگ، کئی مکاتب فکر اور مختلف الخیال وزرا موجود ہیں۔ حکومت کے طرز حکمرانی اور فیصلہ سازی کے عمل کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم کوچہ کابینہ میں جھانکیں اور پھر جائزہ لیں کہ موجودہ وفاقی کابینہ میں مثبت کیا ہے اور منفی کیا؟
سہیل وڑائچ کے مطابق کچھ ماہ پہلے مقتدر حلقوں کی جانب سے صحافتی اشرافیہ یعنی ٹی وی چینل مالکان کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ حکومت کی دو وزارتیں، یعنی خارجہ اور داخلہ، بہت اچھی چل رہی ہیں۔ ملک کے طاقتور ترین ادارے کی طرف سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر داخلہ بریگیڈئیر(ر) اعجاز شاہ پر مکمل اعتماد کا سر عام اعلان بہت سے اشارے دے گیا مگر وفاقی کابینہ کے سربراہ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی میں الیکشن سے پہلے جو قربت تھی وہ بعد ازاں غلط فہمیوں میں بدل گئی۔ بد خواہوں نے وزیر اعظم کو شکایت لگائی کہ میٹھا بول بولنے والا سرائیکی شاہ محمود آپ کا متبادل بننا چاہتا ہے تو دوسری طرف شاہ محمود کو بھڑکایا گیا کہ جہانگیر ترین نا اہل ہو جانے کے باجود کابینہ کو اہم فیصلے کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔
ان دو طرفہ تحفظات کے نتیجے میں عمران اور شاہ محمود کے مابین سیاسی دوریاں پیدا ہو گئی لیکن شاہ محمود چونکہ سمجھ دار ہیں چنانچہ انھوں نے ان اختلافات کو بڑھانے کی بجائے کم کرنے کی کوشش کی اور ان کوششوں میں وہ اس در کامیاب رہے کہ آجکل وہ اسد عمر، ذوالفقار بخاری اور اعظم خان کے ہمراہ وزیراعظم کی مشورہ نویس کچن کابینہ میں شامل ہیں۔ جہانگیر ترین کے حوالے سے شوگر سکینڈل اور پھر وزیراعظم کی طرف سے شوگر اور آٹا انکوائریوں کے پیچھے اسی کچن کابینہ کے انھی وزرا و حکام کے نام لیے جاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ بریگیڈیر اعجاز شاہ آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر، پنجاب کے ہوم سیکر ٹری اور پھر انٹیلی جنس بیوروکے سربراہ رہے اور اس حوالے سے انھیں فوج، بیورو کریسی اور سیاست تینوں شعبوں کا تجربہ ہے مگر وفاقی کابینہ کے دو تین اجلاسوں میں وزیراعظم نے سب کے سامنے ہی ان کی کلاس ڈالی اور ان سے سخت باز پرس کی۔ ظاہر ہے یہ بات اعجاز شاہ کو پسند نہیں آئی اور انھوں نے اس رویے کا گلہ بھی کیا۔ وزیر اعظم اپنے اس اقدام سے شاید یہ اشارہ دے رہے تھے کہ آپ کسی اور کے فیورٹ ضرور ہوں گے مگر میرے نہیں۔ اس بد مزگی کے باوجود وزیر داخلہ نے اپنا کام جاری رکھا لیکن محتاط ہو گئے۔
سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ کوچہ کابینہ کے اہم ترین کھلاڑی پرویز خٹک شاندار سیاسی ریکارڈ کے حامل ہیں۔ پیپلز پارٹی دور میں صوبائی وزیر رہے، ضلع کونسل کے چیئرمین رہے، پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ رہے اور صوبے میں ایسی پالیسیاں اپنائیں کہ تحریک انصاف سے پہلے سے زیادہ اکثریت سے جیتی۔ مگر عمران خان اور پرویز خٹک کے درمیان انکی وزارت اعلیٰ کے دور میں کچھ ایسی غلط فہمیوں نے جنم لیا کہ وزیراعظم نے انھیں دوبارہ سے خیبر پختونخواہ کا وزیر اعلیٰ نامزد کرنے کی بجائے وفاقی کابینہ میں شامل کر لیا۔ پرویز خٹک کو اب اہمیت صرف اس وقت ملتی ہے جب اپوزیشن سے مذاکرات کرنے ہوں یا کوئی بحرانی صورتحال ہو۔
وفاقی کابینہ کے سب سے طاقتور ستون، ماضی کے مرد آہن اور جنرل یحییٰ خان کے مشیر جنرل (ر) غلام عمر کے فرزند ارجمند اسد عمر ہیں۔ ان کا عہدہ تو وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات کا ہے لیکن عملی طور پر وہ اس وقت ڈپٹی وزیراعظم ہیں۔ تا حال انھیں طاقتور اداروں اور وزیراعظم دونوں کا مکمل اعتماد حاصل ہے۔ سیاست میں انھیں حال ہی میں ملنے والے عروج کے بعد سے وہ انٹی جہانگیر ترین اور پرو احتساب لابی کے سر کردہ فرد بن گئے ہیں۔ کابینہ میں سے شفقت محمود بھی انھی خیالات کے حامی ہیں یوں کابینہ کے اندر موجود یہ طاقتور گروپ وزیر اعظم کی پالیسیوں کا پر زور حامی ہے۔ احتساب اور مخالفوں کے خلاف مقدمات آگے چلانے کے حوالے سے انکا موقف کابینہ کو اہم فیصلے کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یعنی یہی گروپ اس وقت حکومت کر رہا ہے۔
لیکن سہیل وڑائچ کے مطابق وفاقی کابینہ پر ہونے والا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ 51 رکنی کابینہ میں 5 ایڈوائزر اور 15 سپیشل اسسٹنٹ غیر منتخب شدہ ہیں۔ یوں پہلے سےبٹی ہوئی کابینہ میں ایک اور گہری خلیج کا اضافہ ہو گیا ہے۔ بابر اعوان کو پارلیمانی مشیر کا عہدہ ملا ہے تو وفاقی وزیر فروغ نسیم اور ان میں در پردہ اختیارات حاصل کرنے پر رسہ کشی شروع ہو گئی ہے۔ شہباز گل کو سیاسی ابلاغ کے سپیشل اسسٹنٹ کا عہدہ ملا ہے۔ دیکھنا یہ ہو گا کہ شبلی فراز اور جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کی جوڑی میں گل کسی طرح فٹ ہو پائے گا یا نہیں۔ اسوقت پارلیمانی نظام اور کابینہ کا المیہ یہی ہے کہ ٹیکنو کریٹس کی بہت بڑی تعداد فیصلہ سازی میں شریک ہے جس کی وجہ سے سیاسی عناصر دب گئے ہیں۔ کہتے ہیں کابینہ اہم نہیں کابینہ چننے والا اہم ہوتا ہے، غلط مشورے مشیر نہیں دیتے غلط مشورے ماننے والا حکمران غلط ہوتا ہے۔ اکبر کے نو رتن ہوں یا موجودہ وزیراعظم کی کابینہ، کس سے کیا کام لینا ہے اور کس سے کیا کروانا ہے اسی کو حکمرانی کہتے ہیں۔ یاد رکھیں کبھی بھی زوال وزیروں کی غلطیوں کی وجہ سے نہیں آتا، وزیراعظم کے غلط فیصلوں کی وجہ سے آتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close