راولپنڈی کے پارسی، کہاں سے آئے اورکہاں چلے گئے؟

1941 کی مردم شماری کے مطابق راولپنڈی شہر کی 57 فیصد آبادی غیر مسلموں پر مشتمل تھی۔ راولپنڈی شہر میں مسلمانوں کے علاوہ ہندو، سکھ، مسیحی، جین مت، پارسی، بدھ مت اور یہودی آباد تھے۔ تقسیم کے بعد پارسیوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی۔ آج راولپنڈی شہر میں صرف بیس کے قریب پارسی رہ رہے ہیں۔ راولپنڈی کی مصروف ترین سڑک مری روڈ سے متصل پارسی قبرستان پارسیوں کی ایک یادگار ہے۔ اس قبرستان میں ڈیڑھ سو سال سے بھی زیادہ قدیم قبریں موجود ہیں۔
راولپنڈی میں پارسیوں کی آمد اس وقت شروع ہوئی جب انگریزوں نے 1849 میں یہاں ہندوستان کی سب سے بڑی چھاؤنی کی بنیاد رکھی۔ پارسیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ لاہور اور بمبئی سے تجارت کی غرض سے راولپنڈی آئے تھے۔ تقسیم کے وقت راولپنڈی شہر میں پارسیوں کی تعدا د بہت کم تھی۔ یہ خالصتاً تجارت پیشہ کمیونٹی تھی۔ جو صدر میں مختلف کاروباروں سے وابستہ تھی اور صدر بازار میں قابل ذکر دکانوں کے مالک پارسی ہی تھے۔ کسی گزیٹیئر میں شہر میں پارسیوں کی تعداد تو نہیں لکھی گئی لیکن 1891 کی مردم شماری کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ شہر میں سب سے پڑھی لکھی کمیونٹی عیسائی ہیں جن کے 87 مرد اور 52 عورتیں پڑھی لکھی ہیں جب کہ پارسیوں میں یہ شرح بالترتیب 84 اور 60 فیصد ہے۔ اس طرح یقیناً پارسی ہی شہر کی سب سے پڑھی لکھی برادری تھی۔
1893 میں شہر میں واحد فرسٹ کلاس اعزازی مجسٹریٹ ایک پارسی دھنجی بھائی تھے۔ ان کے ساتھ شہر کی معروف کاروباری شخصیت اور سجھان سنگھ حویلی کے مکین سردار سجھان سنگھ سیکنڈ کلاس اور رؤوسائے پنجاب میں شمار کیے جانے والے بہت بڑے جاگیردار بیدی گر بخش سنگھ کلر سیداں تھرڈ کلاس مجسٹریٹ تھے۔
جنرل میسی راولپنڈی شہر کے پہلے کمشنر تھے۔ ان کی یاد میں 1880 میں صدر میں ایک یادگار میسی گیٹ کے نام سے بنائی گئی۔ اس گیٹ کی تعمیر شہر کے مخیر حضرات کے طفیل ممکن ہوئی تھی جن میں دھنجی بھائی پیش پیش تھے۔ ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ 1845 میں پیدا ہوئے اور مواقع کی تلاش میں راولپنڈی میں مقیم ہوئے۔ جلد ہی اپنی محنت کے بل بوتے پر شہر کی اہم شخصیت بن گئے۔ وہ اپنے وقت کے ٹرانسپورٹر تھے اور فوجی سازوسامان کی نقل و حمل کے ٹھیکیدار تھے۔
انہوں نے اینگلو افغان جنگوں میں تانگہ ایمبولنس سروس متعارف کی جس کی وجہ سے میدان جنگ میں سینکڑوں فوجیوں کی جانیں بچائی گئیں۔ تانگہ سروس کی ان کی کمپنی کا نام دھن جے بھائی اینڈ سنز تھا۔ پنڈی سے کشمیر تک ان کے تانگے چلا کرتے تھے۔
انجمن پارسیان کے صدر اور سابق اقلیتی ایم این اے اسفند یار بھنڈارا نے بتایا کہ تقسیم کے وقت یہاں ستر اسی خاندان تھے مگر اب مشکل سے پانچ چھ رہ گئے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ تقسیم کے وقت بھارت چلے گئے تھے، تو انہوں نے کہا کہ اس کی کوئی مستند تاریخ تو نہیں ہے، ہو سکتا ہے سب تقسیم کے وقت نہ گئے ہوں لیکن بعد کے حالات اور مواقع کی تلاش کی وجہ سے پارسی یورپ، امریکہ اور کینیڈا ہجرت کر گئے ہوں۔
اسفند یار بھنڈارا کے والد ایم پی بھنڈارا آکسفورڈ اور ہارورڈ یونیورسٹیوں کے فاضل تھے اور تین بار قومی اسمبلی کے رکن رہے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی تین بار پاکستان کی نمائندگی کی۔ ان کی ایک بہن بپسی سدھوا اس وقت ہیوسٹن میں مقیم ہیں اور نامی گرامی مصنفہ ہیں جنہوں نے کئی ناول اور فلمیں لکھ رکھی ہیں۔
راولپنڈی شہر میں پارسی کتنے تھے یہ تو معلوم نہیں لیکن ناز سینما کے بالمقابل مری روڈ کے ساتھ متصل پر شکوہ قبرستان کی عمارت یہ بتاتی ہے کہ یہ برادری کبھی شہر کی سماجی اور معاشی زندگی کا اہم جزو تھی۔ یہاں 130 سے زائد قبریں ہیں۔ سب سے پرانی قبر پر تاریخ وفات 1860 درج ہے۔
اکثر قبروں پر درج نام جسووالہ اور میانوالہ ہیں کیوں کہ پارسی اپنے نام کے ساتھ عموماً ’والا‘ کالاحقہ استعمال کرتے ہیں۔ قبرستان کے مرکزی دروازے پر جو تختی لگی ہوئی ہے اس پر انگریزی کے ساتھ گجراتی لکھی ہوئی ہے جس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ راولپنڈی کے پارسی یا تو گجرات سے آئے تھے یا پھر یہ اپنی مادری زبان کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔
اس قبرستان میں مرنے والوں کی آخری رسومات ادا کرنے لیے رومن طرز کی ایک عمارت بھی ہے جس میں دو سو کے قریب لوگوں کے شریک ہونے کی گنجائش موجود ہے۔ اس عمارت کے اندر اور اس کے بر آمدوں میں زرتشت مذہب کے بانی کی تصاویر آویزاں کی گئی ہیں جن پر ان کے اقوال بھی درج ہیں۔
وہ شہر جو کبھی پارسیوں کے بغیر سانس نہیں لیتا تھا آج وہاں پارسیوں کو انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔ پارسیوں کے دیگر عبات خانے کہاں کہاں تھے کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ میسی گیٹ جیسے اہم ورثے کو 50 سال پہلے ہی سڑک کھلی کرنے کے نام پر گرا دیا گیا تھا۔ پارسیوں کی آخری نشانی قبرستان بھی اب قبضہ مافیا کے نشانے پر ہے۔ اسفند یار بھنڈارا کہتے ہیں کہ اگر حکومت نے انہیں تحفظ نہ دیا تو مافیا ہمارے بزرگوں کی قبریں بھی مٹا دے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close