کن چیزوں کو چھونے کے بعد ہاتھ لازمی دھونے چاہیے

ہاتھ ہمارے جسم کا وہ حصہ ہیں جن پر ان گنت جراثیم ہوتے ہیں جو کسی بھی چیز کو چھونے سے ہمارے ہاتھوں پر لگ جاتے ہیں ۔ یہ جراثیم ہمارے ہاتھوں کے ہی ذریعے منہ ، ناک اور آنکھوں کے راستے جسم میں داخل ہو کر ہمیں بیمار کرتے ہیں ۔ ان جراثیموں سے جسم میں مختلف قسم کے انفیکشن جنم لیتے ہیں جو کہ ہمارے گھر والوں اور دوستوں کو بھی متاثر کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ اسی لیے ہاتھ دھونا ان جراثیموں سے نمٹنے یا محفوظ رہنے کا سب سے آسان طریقہ ہے ۔ لیکن صرف پانی سے ہاتھ دھونا کافی نہیں بلکہ صابن کا استعمال ضروری ہے ۔ جراثیم کے خاتمے کے لیے ہمیں ہمیشہ ایک اینٹی بیکٹیریل صابن سے ہاتھ دھونے چاہیں ۔
کرونا وائرس کی وبا دنیا بھر میں پھیلنے کے سبب ماہرین مسلسل ہاتھوں کو دھونے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر فرد کو باہر سے گھر آنے کے بعد یا پھر مختلف چیزوں کو چھونے کے بعد لازمی طور پر ہاتھ دھونے چاہیں تاکہ کرونا کا جراثیم ان کو متاثر نہ کر سکے- آج ہم آپ کو کچھ ایسی بے ضرر اشیا کے بارے میں بتارہے ہیں جو درحقیقت کرونا اور اس جیسے دیگر خطرناک جراثيم پھیلانےکا سبب بن سکتی ہیں اور ان کو چھونے کےبعد لازمی طور پر ہاتھ دھونا چاہیں۔

عام طور پر ہم لوگ کسی سے بھی رقم لے کر براہ راست اس کو اپنی جیب میں یا پرس میں رکھ لیتے ہیں مگر تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ کرنسی نوٹ اور سکے بھی جراثیموں سے بھرپور ہوتے ہیں جن پر زمانے بھر کے لوگوں کے جراثیم لگے ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کو چھونے کے بعد لازمی طور پر اچھے طریقےسے ہاتھ دھو لینے چاہیے ہیں

ہر ہوٹل اور ریسٹورانٹ کا اپنا ایک مینو کارڈ ہوتا ہے جو آنے والے تمام گاہگوں کو پیش کیا جاتا ہے مگر اس بارے میں کم ہی لوگوں نے غور کیا ہوگا کہ روزانہ سینکڑوں لوگوں کے ہاتھ لگنے کے سبب یہ مینیو کارڈ جراثیموں کا گھر بن جاتا ہے اور یہ مضر صحت جراثیم ایک فرد سے دوسرے میں تیزی سے منتقل ہو سکتے ہیں- اس وجہ سے مینو کارڈ کو ہاتھ لگانے کے بعد صابن سے ہاتھوں کو اچھے طریقے سے دھو لینا چاہیے یا پھر سینی ٹائزر سے صاف کر لینا چاہیے تاکہ کھانے کے ساتھ جراثیم ہمارے بدن میں منتقل نہ ہوں۔

دروازوں کے ہینڈل چاہے گھر کے ہوں یا کسی دفتر کے ان کو روزانہ ہر قسم کے افراد چھوتے ہیں اسلئے ان پر ان دیکھے جراثيموں کی موجودگی کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے- اس لیے ان کو چھونے کے بعد اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح دھونا چاہیے-

کتا یا بلی جیسے پالتو جانور کی صفائی جتنی بھی رکھی جائے مگر اس بات کا خطرہ موجود رہتا ہے کہ ان کو میں جراثیم موجود ہوں جو چھونے سے آپ کے جسم میں داخل ہو جائیں۔ اس وجہ سے اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ ایک تو اپنے جانوروں کو بہت ذیادہ صاف ستھرا رکھا جائے اور دوسرا ان کو چھونے کے بعد لازمی طور پر ہاتھوں کو دھو لینا چاہیے- اسی طرح جن گھروں میں پرندے رکھے جاتے ہیں وہاں بھی بچوں اور بڑوں کو انہیں چھونے کے بعد اپنے ہاتھ لازمی دھونے چاہئیں۔

عام طور پر ہینڈ واش ڈسپنسر کو استعمال کرتے ہوئے اس کے مخصوص بٹن کو دبایا جاتا ہے اور اس سے نکلنے والے صابن سے ہاتھ دھو لیے جاتے ہیں- مگر اس بات کا خیال کبھی بھی نہیں رکھا جاتا کہ اس کی بوتل کو بھی صاف کرنا چاہیئں۔ اس بوتل کو بھی سینکڑوں لوگ روزانہ ہاتھ لگاتے ہیں لہذا اس بوتل کو ہاتھ لگانے کے بعد بھی ہاتھوں کو لازمی دھو لینا چاہیے –

سبزی اور پھل کی خریداری کے دوران ان کو چھو کر اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ وہ تازہ ہیں یا نہیں مگر اس دوران بہت سارے ایسے جراثیم بھی ےہمارے ہاتھوں سے چپک جاتے ہیں جو کہ ان کی سطح پر موجود ہوتے ہیں اس وجہ سے لازمی طور پر سبزی اور پھل کو چھونے کے بعد ہاتھ دھونے چاہئیں-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close