زرداری کو دبانے کے لیے رخسانہ بنگش کے خلاف نیب متحرک

قومی احتساب بیورو نے سابق صدر آصف علی زرداری پر دباؤ ڈالنے کے لیے ان کی پولیٹیکل سیکرٹری رخسانہ بنگش اور ان کے بیٹے کے خلاف کرپشن کے الزامات پر ریفرنس دائر کرنے کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔
نیب کی جانب سے رخسانہ بنگش کے بیٹے عمر منظور کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کے تحت تحقیقات شروع کرنے کو پیپلز پارٹی کی قیادت نے آصف زرداری کے خلاف ’گھیرا تنگ‘ کرنے کی بھونڈی کوشش قرار دیا ہے۔ دراصل سابق رکن قومی اسمبلی رخسانہ بنگش کا شمار پاکستان کی اہم ترین سیاسی خواتین میں ہوتا ہے۔ ان کے بااثر ہونے کی وجہ ان کا پیپلزپارٹی کی قیادت کے ساتھ دیرینہ، قریبی اور گہرا تعلق بتایا جاتا ہے۔ رخسانہ بنگنش کا تعلق پنجاب کے راولپنڈی ڈویژن سے ہے اور ان کے والد محمد اسلم وفاقی سیکریٹری رہ چکے ہیں۔ رخسانہ بنگش کی بہن شمع پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی اہلیہ بیگم نصرت بھٹو کی اس وقت پولیٹیکل سیکریٹری بنیں جب بھٹو نے پیپلز پارٹی خواتین ونگ کی بنیاد ڈال کر خاتون اول بیگم نصرت بھٹو کو عملی سیاست میں اتارا۔ کچھ عرصے بعد شمع امریکہ منتقل ہو گئیں اور ان کی بہن رخسانہ بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ جڑ گئیں۔
رخسانہ بنگش سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی بھی معاونت کرتی رہیں مگر بعد میں جب ناہید خان بینظیر بھٹو کی پولیٹکل سیکریٹری بنیں تو رخسانہ بنگش کو آصف زرداری کی سیاسی معاونت کی ذمہ داری پر لگا دیا گیا۔ رخسانہ بنگش تب سے اب تک نہایت وفاداری سے آصف زرداری کی پولیٹیکل سیکریٹری کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ بینظیر بھٹو نے 2007 کے انتخابات کے لیے جن خواتین کو مخصوص نشستوں پر نامزد کیا تھا ان میں رخسانہ بنگش سرفہرست تھیں۔ 27 دسمبر 2007 کو بینظیر بھٹو کی دہشت گرد حملے میں ہلاکت کے بعد انتخابات ملتوی کر کے 2008 میں کروائے گئے مگر امیدوار وہی رہے۔ اس لیے رخسانہ بنگش خواتین کی مخصوص نشستوں پر جمع فہرست کے مطابق پانچ سال کے لیے قومی اسمبلی کی رکن بن گئیں مگر ساتھ ہی آصف زرداری کی پولیٹکل سیکریٹری کے فرائض بھی سرانجام دیتی رہیں۔
آصف زرداری 2008 میں صدر مملکت منتخب ہوئے تو اس کے بعد بھی رخسانہ بنگش اسی عہدے پر فائز رہیں اور آج بھی وہ آصف زرداری کی پولیٹیکل سیکریٹری کے فرائض ہی انجام دے رہی ہیں۔ زرداری صاحب کراچی میں ہوں یا اسلام آباد میں، نواب شاہ میں ہوں یا نوڈیرو لاڑکانہ میں یا پھر دبئی یا لندن میں، رخسانہ بنگش سائے کی طرح ان کے ساتھ رہتی ہیں۔
آصف زرداری کے ماضی قریب میں نیب کی تحویل اور پھر جیل میں ہونے کے باوجود رخسانہ بنگنش ان کے تمام امور دیکھتی رہیں۔ وہ آصف زرداری کی تمام عدالتی پیشیوں اورنیب میں حاضریوں پر بھی مستقل نظر آتی رہیں۔ وہ آصف زرداری کی تمام مصروفیات اور معمولات میں معاونت کرتی ہیں اور انتہائی دیرینہ ساتھی ہونے کی وجہ سے ان کے صحت کے معاملات بھی خود ہی دیکھتی ہیں۔ آصف زرداری کی ملاقاتوں اور پارٹی سرگرمیوں کا حتمی شیڈول بھی پارٹی رہنما رخسانہ بنگش کے ذریعے ہی طے کرتے ہیں۔ رخسانہ نرم مزاج مگر انتہائی خاموش خاتون ہیں۔ آصف زرداری سے کوئی صحافی ملنے جائے یا سیاسی شخصیت یا کوئی اور، ملاقات والے کمرے میں رخسانہ بنگش موجود تو ہوتی ہیں مگر ملاقات کرنے والوں کو ان کی موجودگی کا احساس صرف ان پر نظر پڑنے پر ہی ہو سکتا ہے وگرنہ وہ خاموشی سے اپنی جگہ پر اس وقت تک بیٹھی نظر آئیں گی جب تک اگلی طے شدہ ملاقات کے لیے انہیں آصف زرداری کو یاد نہ کروانا ہو۔
آصف زرداری کے ساتھ رخسانہ بنگش کے دیرینہ تعلق کی وجہ باہمی اعتماد اوراحساس ہے اور ایسا ہی تعلق ان کا بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ بھی تھا۔ پیپلز پارٹی کے اہم ترین رہنما بھی رخسانہ بنگش کی ذاتی زندگی سے لاعلم ہیں۔ پارٹی رہنماؤں کی اکثریت کو صرف اتنا پتا ہے کہ وہ آصف زرداری کی پولیٹیکل سیکریٹری ہیں اور اس سے قبل وہ بیگم نصرت بھٹو کی پولیٹکل سیکریٹری رہ چکی ہیں۔ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جب پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو آصف زرداری تمام تر اختیارات کا مرکز تھے اور ان کی سب سے قریب ہونے کی وجہ سے رخسانہ بنگش کو بھی انتہائی طاقتور اور بااثر خاتون سمجھا جاتا تھا۔ آج بھی پیپلز پارٹی کے امور کو لے کر جہاں جہاں آصف زرداری کے اختیار کی بات ہوتی ہے وہاں رخسانہ بنگش کا بھی ذکر لازمی آ ہی جاتا ہے۔
لہذا پیپلز پارٹی والوں کا کہنا ہے کہ اگر نیب نے رخسانہ بنگش یا ان کے بیٹے کے خلاف کسی بھی معاملے میں انکوائری شروع کی ہے تو صاف ظاہر ہے کہ اس کا مقصد آصف علی زرداری کو دباؤ میں لانا ہے اور ان کے خلاف وعدہ معاف گواہ تیار کرنا ہے۔ پیپلز پارٹی والوں کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہے کہ یہ انکوائری رخسانہ بنگش کے خلاف ہے یا ان کے بیٹے کے خلاف اور یہ بھی معلوم نہیں کہ الزام کیا ہے۔ لیکن یہ طے ہے کہ نیب کی رخسانہ بنگش یا ان کے بیٹے کے خلاف کارروائی دراصل زرداری کے خلاف انتقامی کارروائی کا تسلسل ہے جس میں ان سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close