شوگر سکینڈل کے مرکزی کرداربزدار پلس کو کون بچا رہا ہے؟

شوگر سکینڈل انکوائری کمیشن کی رپورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤدا ور وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کے کردار کو مشکوک قرار دیتے ہوئے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں لیکن ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کی سفارش نہیں کی ہے جو کہ حیران کن بات ہے۔ انکوائری کمیشن کی رپورٹ نے وزیر اعلی عثمان بزدار کو شوگر پر سبسڈی دینے کے معاملےمیں ایک بنیادی کردار ثابت کیا ہے اور ان کے جھوٹوں کی بھی نشاندہی کی ہے لیکن کمیشن نے اپنی سفارشات میں ان کے خلاف کسی ایکشن کی سفارش نہیں کی جس سے شک پڑتا ہے کہ بزدار کو اب بھی وزیراعظم کی پشت پناہی حاصل ہے۔
شوگر کمیشن کی رپورٹ میں نہ صرف پنجاب حکومت کی جانب سے دی گئی تین ارب روپے کی سبسڈی کو ’’بلاجواز‘‘ قرار دیا گیا ہے بلکہ کمیشن کے روبرو وزیراعلیٰ کی جانب سے دیے گئے بیان کو بھی مشکوک قرار دیا گیا ہے۔ کمیشن نے ثابت کیا ہے کہ صوبائی کابینہ کے روبرو غور کیلئے معاملہ پیش ہونے کے چند ہفتے قبل اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے اہم نکات ملنے سے قبل ہی وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت پنجاب حکومت کے اجلاس میں شوگر ملوں کو تین ارب روپے کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب وزیراعلیٰ سے کمیشن نے ان حقائق کے متعلق سوالات کیے تو انہوں نے کہا کہ وہ یہ بھول گئے ہیں کہ انہوں نے کابینہ کے اجلاس میں کیا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم شوگر سکینڈل میں میں عثمان بزدار کا واضح کردار ہونے کے باوجود نہ تو کمیشن نے ان کے خلاف کسی کارروائی کی سفارش کی ہے اور نہ ہی کپتان کی جانب سے بزار کے خلاف کوئی ایکشن لیے جانے کا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق جب شوگر انکوائری کمیشن نے اس وقت کے وزیرخزانہ اسد عمر سے پوچھا کہ صوبوں کو سبسڈی دینے کی اجازت کس قانون کے تحت دی گئی تو انہوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کے پاس یہ اختیار ہے۔ تاہم وہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا کوئی فیصلہ یا صوبوں کے سبسڈی دینے کے قانونی اختیار کا ثبوت پیش نہ کر سکے۔ لیکن اسد عمر کے خلاف کسی کارروائی کی سفارش نہیں کی گئی۔
اسی طرح کے غیر تسلی بخش جوابات وفاقی مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے بھی دئیے۔ انہوں نے چینی کی مقامی مارکیٹ میں قیمت میں اضافے کے بعد اس پر قابو پانے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کیے۔ کمیشن نے ان کا یہ موقف مسترد کردیا کہ چین سے چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد شوگر ملوں کو برآمد کی اجازت واپس نہیں لی جاسکتی تھی۔ تاہم رزاق داؤد کے خلاف بھی کسی کارروائی کی سفارش نہیں کی گئی۔تاہم حیران کن بات یہ ہے کہ کمیشن کی رپورٹ میں جگہ جگہ عثمان بزدار کا سبسڈی دینے کے حوالے سے واضح کردار سامنے آنے کے باوجود ان کے خلاف کسی سخت ایکشن کی سفارش نہیں کی گئی۔
شوگر سکینڈل رپورٹ کے مطابق بزدار نے محکمہ خزانہ پنجاب کی مخالفت اور کابینہ کی منظوری کے بغیر چینی پر سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا جسکی منظوری انہوں نے بعد میں لی۔
رپورٹ کے مطابق عثمان بزدار کو چینی کی برآمد پر سبسڈی دینے کی اتنی جلدی تھی کہ انہوں نے کابینہ سے منظوری بعد میں لی سبسڈی پہلے دے دی، بعدازاں خلاف قانون براہِ راست پرانی تاریخوں میں قانونی ضابطوں کی منظوری بھی دے دی۔ کابینہ کی جانب سے سبسڈی کی منظوری دیے جانے کے تین دن بعد وزیراعلیٰ پنجاب نے یکم جنوری 2019ء کو پرانی تاریخوں میں ’’کابینہ کے جائزے کیلئے ایک کیس‘‘ کی منظوری دی۔ اس حوالے سے یہ بات سامنے آئی ہےکہ سبسڈی کی منظوری دینے کامعاملہ وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے اتنا جلد بازی کا تھا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی اجلاس کےاہم نکات موصول ہونے کا انتظار کیے بغیر انہوں نے اسلام آباد سے ملنے والی زبانی معلومات کے بعد فوری اجلاس طلب کیا اور بعد میں صوبائی محکموں کے درمیان مشاورتی عمل کا انتظار کیے بغیر اور اہم ترین فنانس ڈیپارٹمنٹ کی رائے نظرانداز کرتے ہوئے، ایجنڈا سے ہٹ کر سبسڈی کا معاملہ 20 دسمبر 2018ء کو کابینہ میں پیش کرکے سب کو حیران کر دیا۔
بعدازاں ساتھیوں کی جانب سے خلاف قانون منظوری لینے کی نشاندہی کے بعد طے شدہ طریقہ کار کی بربادی کا معاملہ درست کرنے کیلئے وزیراعلیٰ نے اپنے اقدام کی پرانی تاریخوں میں منظوری دی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے اس سکینڈل میں ملوث ہونے کے شواہد سامنے آنے کے بعد ان کے خلاف کوئی کاروائی کی جاتی ہے یا نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close