انسانی حقوق کے داعی ادریس خٹک کو کس نے اغوا کیا ہے؟

روس سے فارغ التحصیل انسانی حقوق کے متحرک کارکن ادریس خٹک کو پراسرار طور پر غائب ہوئے چھ ماہ گزر گئے لیکن آج دن تک ان کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔ ادریس خٹک ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نمائندے کے طور پر پاکستان میں کام کرتے رہے ہیں۔ ان کی بیٹی طالیہ خٹک نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں وزیراعظم عمران خان سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے والد کو فوری بازیاب کروائیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ادریس خٹک کو خفیہ اداروں نے اپنی تحویل میں لے رکھا ہے لیکن ان کی جانب سے تاحال کسی فورم پر بھی یہ اعتراف نہیں کیا گیا۔ ان کی بازیابی کے لئے عدالت سے بھی رجوع کیا گیا ہے لیکن تاحال کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں جبری گمشدگیوں کو ریاستی بیانیے سے اختلاف کرنے اور اس پر تنقید کرنے والوں کو خاموش کروانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو عموما ریاستی ادارے اغوا کرتے ہیں جنہیں قانون کی عمل داری سے ماورا تصور کیا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کا کوئی وارنٹ گرفتاری جاری نہیں ہوتا۔ ان کے اغوا کا کوئی ریکارڈ ہوتا ہے نہ تحقیقات ہوتی ہیں۔ گویا جیسے لاپتہ ہونے والے فرد کا کبھی کوئی وجود ہی نہ رہا ہو۔ ایسا ہی کچھ معاملہ ادریس خٹک کے ساتھ پیش آیا۔
عوامی نیشنل پارٹی سے وابستہ سماجی رہنما ادریس خٹک کو 13 نومبر 2019 میں خیبر پختونخوا کے علاقے اکوڑہ خٹک سے صوابی جاتے ہوئے انٹرچینج سے مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا تھا۔ ادریس خٹک کے ڈرائیور شہسوار نے بتایا کہ انہیں نامعلوم افراد نے صوابی انٹرچینج سے مبینہ طور پر اغوا کیا۔ انبار پولیس اسٹیشن میں درج شکایت میں شہسوار نے کہا کہ وہ ادریس خٹک کو صوابی کی طرف لے کر جارہے تھے۔ تقریباً 4 نامعلوم افراد نے ان کی کار کو صوابی موٹروے انٹرچینج کے پاس زبردستی روکا اور اغوا کرلیا۔
تاہم دوسری جانب اس واقعے کے بعد سماجی رہنما جبران ناصر نے ٹویٹر پر دعویٰ کیا تھا کہ ادریس خٹک کو خفیہ ایجنسیوں نے اسلام آباد پشاور ہائی وے کے قریب صوابی انٹرچینج سے اٹھایا تھا، ان کے ساتھ ڈرائیور کو بھی اٹھایا گیا تھا تاہم انہیں 3 روز بعد رہا کردیا گیا۔ نامعلوم افراد کے ہاتھوں اغواء کے ایک ہفتے بعد پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ یہ اغواء جبری گمشدگی کا واقعہ ہے۔ خاص طور پر جب اُن کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اغواء برائے تاوان کے شواہد نہیں مِلے۔ اِس واقعے پر ریاست کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے کیونکہ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جبری گمشدگیوں اور من مانی حراستوں کے سنگین مسئلے سے ریاست لاتعلق ہے اور اسے باضابطہ قانونی کارروائی کا کوئی لحاظ نہیں۔
نومبر 2019 میں ادریس خٹک کی بازیابی کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عبدالطیف آفریدی ایڈووکیٹ نے رٹ پٹیشن دائر کی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ ادریس خٹک 11 نومبر کو اسلام آباد میں واقع روس کے سفارت خانے کی ایک تقریب میں شرکت اور اپنی بہن سے ملنے گئے تھے جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔ دائر درخواست میں وزارت دفاع و وزارت داخلہ اور فوج کے خفیہ اداروں کو فریق بنایا گیا لیکن حیران کن طور پر پاکستان کے کسی خفیہ ادارے نے کسی بھی فورم پر تاحال یہ تسلیم نہیں کیا کہ ادریس ان کی تحویل میں ہیں۔
ادریس خٹک کی جواں سال بیٹی طالیہ خٹک نے اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ میرے والد نے اپنی زندگی انسانی حقوق کے دفاع کے لیے وقف کر رکھی ہے اور وہ اس معاملے میں بہت مخلص ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ کسی کو اندازہ نہیں ہے کہ وہ اس وقت کہاں اور کس حال میں ہیں۔ ہمیں تو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ انہیں کون لے گیا۔ طالیہ کا کہنا ہے کہ میرے والد ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائیٹس واچ جیسے انسانی حقوق کے اداروں کے لیے انہی جبری گمشدگیوں کے بارے میں تازہ معلومات اکٹھی کرتے تھے، اس حقیقت کا علم سب کو ہے۔ طالیہ نے اس پرعزم لہجے میں کہا کہ آپ میرے باپ کو اغوا کر سکتے ہیں، ان کی بہادری کو نہیں۔
ادریس خٹک کی جبری گمشدگی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ادریس کے اہل خانہ اور انسانی حقوق کے ادارے یہ سوال اٹھانے میں حق بجانب ہیں کہ اگر خفیہ اداروں نے ادریس خٹک کو حراست میں نہیں لیا تو پھر پھر کیا انہیں زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔ اس سوال کا جواب دینا بھی ریاستی اداروں پر فرض ہے جو گزشتہ چھ مہینوں سے نہیں مل سکا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close