پولیس سے غنڈہ گردی: کرنل کی بیوی اب تک آزاد ہے

خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں ہزارہ موٹروے چیک پوسٹ پر 20 مئی کو طوفان بدتمیزی برپا کرنے والی ایک حاضر سروس کرنل کی بد لحاظ بیوی کیخلاف پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے، بدتمیزی کرنے اور کار سرکار میں مداخلت پر مقدمہ تو درج کر لیا گیا ہے لیکن ابھی تک اس کیخلاف کسی قسم کی کارروائی کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق مانسہرہ کے تھانہ سٹی مانسہرہ میں کرنل فاروق خان کی بدلحاظ بیوی کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا لیکن ایف آئی آر میں خاتون کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی بلکہ اسے ’نامعلوم خاتون‘ قرار دیا گیا یے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کرنل کی بیوی نے جن اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی کی اور ناکہ توڑا وہ دراصل پاک چین اقتصادی راہداری کے تحفظ کے لیے بنائی گئی سی پیک فورس سے تعلق رکھتے ہیں۔ خاتون کے خلاف مقدمہ بدتمیزی کرنے اور پولیس چیک پوسٹ کی رکاوٹیں توڑنے کے الزام پر درج کیا گیا ہے۔ اے ایس آئی اورنگزیب کی جانب سے دی گئی درخواست پر درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ’ایک ایک معلوم خاتون نے عام عوام کے سامنے ان سے بدتمیزی کی اور کار سرکار میں مداخلت کے ساتھ ساتھ پولیس کو دھمکیاں بھی دیں، جس کے بعد وہ گاڑی میں بیٹھ کر مجھے کچلنے کی کوشش کرتے ہوئے مانسہرہ کی طرف چلی گئیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس خاتون کا تعلق شنکیاری کے علاقے سے ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں لیکن ابھی تک کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔
قبل ازیں عسکری ذرائع نے تصدیق کی تھی کہ پولیس اہلکار سے بدتمیزی کرنے والی خاتون کے شوہر کا تعلق فوج سے ہے، خاتون لیفٹننٹ کرنل محمد فاروق خان کی بیوی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے ’یہ طے ہونا ابھی باقی ہے کہ اپنے آپ کو مذکورہ خاتون جس فوجی افسر کی بیوی بتا رہی ہیں، اس افسر کا اس واقعے سے کوئی تعلق ہے بھی یا نہیں۔ ذرائع کے مطابق فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے علم میں یہ سارا واقعہ لایا جا چکا ہے۔تاہم اس واقعے کی تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے لیے فوجی سربراہ کی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔ان کے مطابق ’فوج میں ایسے واقعات کے حوالے سے نظام موجود ہے جو حرکت میں آ چکا ہے۔‘ اس سے پہلے سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا جارہا تھا کہ مذکورہ خاتون کسی فوجی کرنل کی نہیں بلکہ ایبٹ آباد کے ایک وکیل کی بیوی ہے۔ تاہم اب ایبٹ آباد بار ایسوسی ایشن نے ایک پریس میں ان افواہوں کی تردید کی ہے کہ مذکورہ خاتون کوئی وکیل ہیں یا ان کا شوہر وکیل ہے۔
ایبٹ آباد پولیس کی تحقیقات سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ موٹر وے پر پولیس اہلکاروں سے الجھنے اور بدمعاشی کرنے والی خاتون ایک حاضر سروس لیفٹننٹ کرنل فاروق خان کی بیوی ہے جو خود بھی ستمبر 2018 میں ایسے ہی ایک واقعے میں ملوث رہ چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر موجود ایک موبائل ے بنی ویڈیو میں کرنل فاروق کو ٹریفک پولیس اہلکاروں کو دھمکیاں دینے کے بعد گندی گالیاں دیتے ہوئے زبردستی گاڑی بھگا کر لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ بعدازاں اس کے خلاف انضباطی کارروائی بھی کی گئی تھی اور ٹریفک پولیس اہلکار سے بدتمیزی کرنے پر اسے سزا کے طور پر فرنٹیئر فورس رجمنٹ سینٹر سے باہر پوسٹ کر دیا گیا تھا۔
دوسری طرف اس واقعہ بارے میں قانونی ماہرین کی رائے ہے کہ پولیس کی لگائی رکاوٹوں کو زبردستی ہٹانا کار سرکار میں مداخلت تصور ہوتا ہے۔ اس پر قانون کی دفعہ سیکشن 186 تعزیرات پاکستان کا اطلاق ہوتا ہے۔ اگر یہ الزام عدالت میں ثابت ہوجائے تو ملزم کو کم از کم تین ماہ قید کی سزا و جرمانہ ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق پولیس سمیت کسی بھی شہری کو دھمکیاں دینا سنگین جرم سمجھا جاتا ہے جس پر سیکشن 506 تعزیرات پاکستان کا اطلاق ہوتا ہے۔ اگر یہ جرم عدالت میں ثابت ہوجائے تو کم از کم دو سال قید وجرمانہ کی سزا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق کرنل کی بیوی نے قانون کی سنگیں خلاف ورزیاں کی ہیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر خاتوں پر جرمانہ عائد کرنے کے علاوہ اسے جیل بھی بھیجا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی کو پولیس کے خلاف شکایت ہو تو وہ عدالتوں سمیت مختلف فورمز سے رجوع کرسکتا ہے۔ مگر کسی کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ پولیس حکام کے ساتھ سینہ زوری کرے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اگر پولیس حکام نے کسی بھی مقام پر ٹریفک کو کسی بھی وجہ سے روک رکھا ہے اور ٹریفک گزرنے کی اجازت نہیں دے رہے تو شہریوں پر لازم ہے کہ وہ متبادل راستے اختیار کریں۔ مگر قانونی طور پر پولیس حکام کے ساتھ الجھا نہیں جاسکتا اور پولیس کی لگائی رکاوٹوں کو زبردستی ہٹانا تو ایک سنگیں جرم ہے جس پر مذکورہ خاتون اور ڈرائیور دونوں کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے۔
یاد رہے کہ 20 مئی 2020 کے روز سوشل میڈیا پر خود کو پاکستانی فوج کے ایک کرنل کی اہلیہ قرار دینے والی ایک بدزبان اور بدتمیز خاتون کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی ھزارہ ایکسپریس وے پر پولیس اہلکاروں کی طرف طرف سے ان کی گاڑی روکے جانے پر خاتون یہ کہتے ہوئے سنائی دیتی ہے کہ وہ ایک کرنل کی بیوی ہیں اور اسے سڑک پر اس طرح نہیں روکا جا سکتا۔ خاتون نے نہ صرف اہلکار کو برا بھلا کہا بلکہ انھیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیتی رہی۔ بعدازاں مذکورہ خاتون گاڑی سے اتر کر سڑک پر لگی رکاوٹیں ہٹاتی ہے اور اپنے ساتھ سفر کرنے والے نوجوان لڑکے کو کہتی ہے کہ گاڑی نکالو۔ اس دوران دو مرتبہ پولیس اہلکار گاڑی کو روکنے کے لیے اس کے آگے رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اس وقت ایکسپریس وے بند ہے اور دس دیگر گاڑیاں بھی رکی ہوئی ہیں لیکن دونوں مرتبہ یہ خاتون گاڑی سے نکل کر ان رکاوٹوں کو زبردستی ہٹاتی ہے اور پھر فوجی ذمہ داران اور پولیس اہلکاروں کو گالیاں بکتے ہوئے زبردستی وہاں سے گاڑی بھگا کر لے جاتی ہے۔ واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین خاتون کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ ’کرنل کی بیوی‘ نہ صرف ٹرینڈ کرنے لگا بلکہ ٹاپ ٹرینڈ بھی بن گیا اور صارفین یہ سوال کرتے نظر آئے ہیں کہ کیا ایک باوردی اہلکار کے ساتھ ایسا رویہ قابل قبول ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی قانون کرنل کی بیوی کے خلاف حرکت میں آتا ہے یا نہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close