PIA مسافر طیارہ تباہ ہونے سے قبل پائلٹ نے کیا کہا ؟

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا لاہور سے کراچی آنے والا مسافر طیارہ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب اترنے سے چند منٹ قبل قریبی آبادی پر گر کر تباہ ہوا۔ یہ اپنی نوعیت کا اب تک کا کراچی میں سب سے بڑا فضائی حادثہ ہے۔
طیارے کے پائلٹ کی کنٹرول ٹاور سے آخری گفتگو سامنے آئی ہے۔گفتگو میں پائلٹ نے کنٹرول ٹاور کوبتایا کہ انجن فیل ہوگیا ہے۔ فنی خرابی پر کپتان کو گائڈ لائن دینے کے دوران طیارہ ریڈار سے غائب ہوگیا۔پائلٹ نے تین بار مے ڈے مے ڈے مے ڈے کہا۔پائلٹس مے ڈے کا کوڈ ورڈ ایمرجنسی کی نشاندہی کے لئے استعمال کرتے ہیں، کنٹرول ٹاور کے نمائندے نے کپتان کو آگاہی دی کہ رن وے تیار ہے ، جس پر کپتان نے کہا کہ انجن فیل ہوگیا ہے، بیلی لینڈنگ کراؤں گا۔ لینڈنگ سے ایک منٹ قبل طیارے کا کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہوا۔
کپتان نے کنٹرول ٹاور کو طیارے کے لینڈنگ گیئر میں خرابی کی اطلاع بھی دی اور بتایا کہ طیارے کے پہیے نہیں کھل رہے اس لیے راؤنڈاپ کا کہا گیا۔ طیارہ کراچی ایئرپورٹ پر لینڈنگ کیلئے بالکل تیار تھا۔ پائلٹ نے لینڈنگ کا سگنل بھی دے دیا تھا۔ لیکن طیارے کا لینڈنگ سے ایک منٹ قبل کنٹرول روم سے رابطہ منقطع ہوگیا اور ماڈل کالونی کی آبادی میں گر کر تباہ ہوگیا۔ طیارہ گرنے کی ابتدائی وجوہات تکنیکی خرابی بتائی جا رہی ہے کہ لینڈںگ کے دوران طیارے کے پہیے نہیں کھل رہے تھے۔ طیارہ گرنے سے کئی گھروں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
حادثے کے حوالے سے سول ایوی ایشن (سی اے اے) اور پی آئی اے انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ تکنیکی خرابی کے باعث حادثہ پیش آیا، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ کس طرح کی تکنیکی خرابی کے باعث حادثہ پیش آیا۔
اسی حوالےسے پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) ایئر مارشل ارشد ملک نے ایک ویڈیو پیغام میں پائلٹ سے ہونے والی آخری گفتگو سے متعلق قوم کو آگاہ کیا اور بتایا کہ بد قسمت طیارے کے پائلٹ نے آخری الفاظ کیا کہے تھے؟۔سی ای او ارشد ملک نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ طیارہ آخری وقت میں حادثے کا شکار ہوا اور سی اے ای سمیت دیگر تکنیکی عملہ طیارے سے آخری وقت تک رابطے میں تھا۔پی آئی اے کے چیئرمین نے دعویٰ کیا کہ پائلٹ کو بتایا گیا تھا کہ دونوں رن وے خالی ہیں اور وہ آرام سے جہاز کو اتار سکتے ہیں اور اس وقت سے قبل تک تمام معاملات درست چل رہے تھے۔
پاکستان ایئر لائنز کے سی ای او کا کہنا تھا کہ آخری وقت میں پائلٹ نے ‘گو اراؤنڈ’ لینے کا فیصلہ کیا اور یہ واضح نہیں ہے کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟سی ای او نے بتایا کہ پائلٹ نے ‘گو اراؤنڈ’ لینے کا سبب نہیں بتایا اور اس بات کی تحقیق جاری ہے کہ کیا تکنیکی مسائل تھے جن کی وجہ سے پائلٹ نے ‘گو اراؤنڈ’ کا فیصلہ کیا۔ایئر مارشل ارشد ملک نے حادثے میں قیمتی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔لیکن سی ای او کی گفتگو کے بعد بہت سارے لوگوں کے ذہنوں میں سوال اٹھ رہا ہے کہ آخر ‘گو اراؤنڈ’ کیا ہے؟
‘گو اراؤنڈ’ دراصل ایوی ایشن کی ایک اصطلاح ہے جس کا عام مفہوم یہی ہےکہ پائلٹ جہاز کو اتارتے وقت کسی بھی تکنیکی مئسلے کی بناء پر جہاز کو اتارنے سے گریز کرتا ہے۔ ایوی ایشن ماہرین کے مطابق ‘گو اراؤنڈ’ کا مطلب ہوتا ہے کہ پائلٹ لینڈنگ کے وقت ایئرپورٹ کی حدود میں ہی جہاز کو چکر لگوا سکتا ہے جب تک کہ وہ اس بات کی تصدیق نہ کرلے کہ جہاز اتارنے میں کوئی دقت نہیں۔عام مسافراگرچہ اس عمل کو خطرناک تصور کرتے ہیں اور ان کا ماننا ہوتا ہے کہ ‘گو اراؤنڈ’ اسی لیے ہی لیا جا رہا ہے کیوں کہ سب کچھ ٹھیک نہیں لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہوتا۔’گو اراؤنڈ’ کا طریقہ پوری دنیا میں رائج ہے اور یہ ایک معمول کی پریکٹس ہے، پائلٹ اسے اس وقت ہی سر انجام دیتے ہیں جب لینڈنگ کے وقت وہ مکمل طور پر مطمئن نہیں ہوتے اور انہیں لگتا ہے کہ کچھ تکنیکی مسائل ہیں جن کی وجہ سے لینڈنگ میں مسئلہ ہوسکتا ہے، اس لیے پائلٹ ایمرجنسی میں ‘گو اراؤنڈ’ کا فیصلہ کرتے ہیں۔
‘گو اراؤنڈ’ کے دوران انتہائی تیزی سے اوچائی سے نیچے آنے والے جہاز کو پائلٹ کبھی تیزی کے ساتھ اوپر لے جاتے ہیں اور پھر حدود کے اندر ہی چکر لگاتے ہیں اور پھر اطمینان ہونے پر جہاز کو اتارتےہیں، تاہم اس عمل سے مسافروں کو لگتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک نہیں۔ ایئر پورٹ حکام اور فضائی آپریشن کے ماہرین ‘گو اراؤنڈ’ کو معمول کا طریقہ کار قرار دیتے ہیں اور دنیا بھر میں پائلٹ اس عمل کو اختیار کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close