کیا وکیل کو تیزاب میں گھول دینے والا پولیس والا بچ جائے گا؟

فوجداری مقدمات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ لاہور پولیس نے اپنے سینیئر افسر، ایس ایس پی مفخر عدیل کے خلاف مقدمۂ قتل کا جو چالان عدالت میں پیش کیا ہے اس میں پائی جانے والی کمزوریوں کی وجہ سے ملزم کو قتل کے جرم میں سزا دلوانا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔
مفخر عدیل پر اپنے دوست وکیل شہباز تتلہ کو تیزاب کے ڈرم میں گھول کر قتل کرنے کا الزام ہے جسکا اعتراف وہ پولیس کے سامنے اقبالی بیان میں کر چکے ہیں۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیان عدالت کے سامنے لے کر نہ جانا، واقعاتی شہادتوں پر حد سے زیادہ انحصار اور سب سے بڑھ کر اس قتل کی اصل محرک، جو بقول ملزم قتل کی وجہ بنیں، یعنی مفخر عدیل کی سابقہ بیوی اسما عنایت کو تتفتیش کا حصہ نہ بنانا اس مقدمے کو کمزور بنا رہے ہیں۔
مفخر عدیل نے اپنے دوست کو قتل کرنے کی جو بنیادی وجہ پولیس کو بتائی وہ تھی شہباز تتلہ کے ہاتھوں ان کی سابق اہلیہ اسما کا ریپ تھا تاہم اسما نے اس ساری کہانی کی تردید کر دی ہے۔ ایسے میں وجہ عناد اگر عدالت میں ثابت ہی نہ ہو سکی تو اس کیس میں کتنی جان رہ جائے گی، قانونی ماہرین اس سوال کا جواب بھی پولیس کی پراسیکیوشن برانچ سے پوچھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس مقدمے کے اہم کرداروں میں سے ایک یعنی مفخر عدیل کی پہلی اہلیہ اسما کا کہنا تھا کہ ان کے سابق شوہر نے ان کے کردار کے متعلق جو پولیس کو بتایا ہے کہ شہباز تتلہ نے ماضی میں ان سے زیادتی یا زبردستی کی تھی وہ بالکل غلط اور بےبنیاد ہے کیونکہ ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اپنے بیان میں مفخر نے مجھ پر جو کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی وہ بالکل جھوٹ ہے اور اس سے میرا کوئی تعلق نہیں۔‘ مفخر سے طلاق کی وجہ پر بات کرتے ہوئے اسما کا کہنا تھا کہ ان کے اور مفخر کے درمیان طلاق کسی تیسرے شخص کی وجہ سے نہیں ہوئی تھی بلکہ ان کے اپنے سابقہ شوہر سے ذاتی سطح پر سخت قسم کے اختلاف تھے جن کا اختتام 2018 میں ان کے خلع لینے کی صورت میں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مفخر کے متعلق جس طرح کے معاملات منظر عام پر آ رہے ہیں تو کوئی بھی عقلمند انسان ایسے شخص کے ساتھ رہنا پسند نہیں کرے گا‘۔
مفخر عدیل اور اسما کی شادی سنہ 2002 میں ہوئی تھی اور ان کے قریبی خاندانی ذرائع کے مطابق ان کے درمیان چپقلش اور رنجش کافی سالوں سے جاری تھی۔ ذرائع کے مطابق 2017 میں اسما نے اپنے ایک قریبی عزیز کو بتایا تھا کہ وہ مفخر سے اس قدر تنگ ہیں کہ طلاق لینا چاہتی ہیں۔ اس عزیز کے سمجھانے پر معاملہ کچھ عرصہ کے لیے ٹل گیا تھا لیکن جب 2018 میں مفخر نے دوسری شادری کی تو اسما نے بالآخر ان سے طلاق لے لی اور اپنے تینوں بچوں کو اپنے سابق شوہر کے پاس چھوڑ کر والدین کے گھر چلی گئی تھیں۔ شہباز تتلہ کے قتل کے حوالے سے اسما نے کہا کہ ’اگر مفخر نے کچھ غلط کیا ہے تو اسے ضرور سزا ملنی چاہیے۔‘
خیال رہے کہ ملزم مفخر کے مطابق انھیں اپنی سابقہ بیوی اسما کے چند برس قبل شہباز تتلہ کے ہاتھوں ریپ کیے جانے کا علم کچھ ماہ قبل اپنی دوسری بیوی عزا سے ہوا تھا۔ مفخر عدیل نے تو قتل کی وجہ اہلیہ کا ریپ قرار دیا ہے لیکن اس مقدمے کی تحقیقات سے براہِ راست منسلک رہنے والے ایک سینیئر پولیس افسر کے مطابق وہ یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ ملزم نے غیرت کے نام پر اس طریقے سے اپنے دوست کا قتل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس طرح چند سال پہلے کے افیئر کا دعویٰ کرنا، اس دوران میاں بیوی میں علیحدگی کو بھی تقریباً دو سال کا وقت گزر جانا اور اب جا کر اس افیئر والی بات پر ایسے بھیانک طریقے سے دوست کا قتل کر دینا سمجھ سے بالاتر ہے‘۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ساری تحقیقات میں قتل کے مقصد کا کھوج بھی نہیں لگا پائے کہ اگر غیرت کے نام پر نہیں تو پھر کس وجہ سے ملزم نے اپنے گہرے دوست کا بیدردی سے قتل کر کے اس کی لاش کے نشانات تک مٹا دیے‘۔
اس مقدمے میں پولیس نے جو چالان تیار کر کے استغاثہ کے حوالے کیا اس سے بھی یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس نے اس پراسرار قتل کے پیچھے چھپی وجہ عناد کی صداقت جاننے کے لیے ملزم کی سابقہ بیوی اسما اور نہ ہی موجودہ بیوی عزا کو شامل تفتیش کیا ہے۔ فوجداری مقدمات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ لاہور پولیس نے اپنے سینیئر افسر، ایس ایس پی مفخر عدیل کے خلاف مقدمۂ قتل کا جو چالان عدالت میں پیش کیا ہے اس میں پائی جانے والی کمزوریوں کی وجہ سے ملزم کو سخت ترین سزا دلوانا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ فخر عدیل پر اپنے دوست وکیل شہباز تتلہ کو قتل کرنے کا الزام ہے اور اس قتل کا اعتراف وہ پولیس کے سامنے اقبالی بیان میں کر چکے ہیں۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیان عدالت کے سامنے لے کر نہ جانا، واقعاتی شہادتوں پر حد سے زیادہ انحصار اور سب سے بڑھ کر اس قتل کی اصل محرک، جو بقول ملزم قتل کی وجہ بنیں، یعنی مفخر عدیل کی سابقہ بیوی اسما عنایت کو تتفتیش کا حصہ نہ بنانا اس مقدمے کو کمزور بنا رہے ہیں۔
کیس چالان کے مطابق 50 دن تک کی گئی تحقیقات کے نتیجے میں پراسیکیوشن میں جمع کروائے گئے چالان میں کل 28 گواہان کی فہرست پیش کی گئی ہے جن میں 12 عام گواہ اور 16 پولیس اہلکار شامل ہیں۔ 12 عام گواہوں میں گھر کا مالک، گھر کرائے پر دلوانے والا پراپرٹی ڈیلر اور تیزاب خرید کر لانے والا ملازم اور بیچنے والا دکاندار بھی شامل ہیں لیکن ملزم کی دونوں بیویوں کا اس میں کوئی ذکر نہیں۔ شہباز تتلہ قتل کیس میں پولیس کی تحقیقات کے دوران دو چشم دید گواہوں کا بھی انکشاف ہوا ہے جنھوں نے سات فروری کی شام مقتول کو ملزمان مفخر عدیل اور اسد بھٹی کے ساتھ کلمہ چوک کے پاس مفخر کی سرکاری گاڑی میں بیٹھتے دیکھا تھا۔ اس کیس کی سب سے اہم کڑی یہی دو گواہان ہیں جو مقتول کے غائب ہونے اور ملزم کے ساتھ جانے کے تعلق کو جوڑتے ہیں۔ کیس کی بظاہر یہ سب سے اہم کڑی پولیس کے ہاتھ 11 فروری کو لگی جس کے بعد سیف سٹی اتھارٹی کی روٹ فوٹیج نکلوائی گئی جس سے مفخر عدیل کی سرکاری گاڑی کے سات فروری کی شام بر کت مارکیٹ، فیصل ٹاؤن گول چکر سے ہوتے ہوئے ایم بلاک ماڈل ٹاؤن ایکسٹینشن کی طرف جانے کا سراغ ملا۔ یہی وہ محلہ ہے جہاں مبینہ طور پر ایک مکان میں ملزمان نے شہباز تتلہ کو قتل کر کے اس کی لاش کو تیزاب میں ڈال کر محلول بنا دیا تھا۔ اہل محلہ سے جب مکان کی نشاندہی ہوئی تو اس کے دروازے پر تالا لگا تھا۔
پولیس پھر اس مکان کے مالک کور ڈیفنس کے رہائشی آفتاب اصغر تک پہنچی جنھوں نے 13 فروری کو مکان کا تالا کھولااور اس طرح پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی۔ پولیس کی اطلاع پر پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے اہلکاروں کو بلایا گیا اور وہاں سے مختلف طرح کے نمونے اکھٹے کیے گئے۔ دورانِ تفتیش مالک مکان نے بتایا کہ انھوں نے 90 ہزار روپے کے عوض 15 دن کے لیے وہ مکان ایک پراپرٹی ڈیلر فرحان کے ذریعے کرائے پر دیا تھا۔ پولیس نے جب فرحان کا کھوج لگایا تو معلوم ہوا کہ مذکورہ گھر اس نے مفخر کے لیے اسد بھٹی کے کہنے پر لے کے دیا تھا جبکہ بغیر تحریری معاہدے کے گھر دلوانے کے لیے اس نے 15 ہزار روپے بطور کمیشن بھی وصول کیے تھے۔ اسی اثنا میں پولیس کو اہل محلہ سے یہ بھی پتا چل چکا تھا کہ مذکورہ گھر کو نو فروری بروز اتوار واٹر بوئزر منگوا کر دھلوایا گیا تھا جس کے سارے شواہد بھی پولیس نے اکھٹے کر لیے۔ پولیس ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ سے لیے گئے نمونوں میں سے ایک گلاس پر مفخر کے بائیں ہاتھ کی دو انگلیوں کے نشان ملے ہیں جبکہ پنجاب فورینزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اس مکان میں گٹر کے پائپوں سے گندھک کے تیزاب کی موجودگی کا بھی سراغ ملا ہے لیکن فورینزک کو جائے وقوعہ سے ملنے والے نمونوں کا ڈی این اے مقتول کی والدہ کے ڈی این اے سے ملنے کے شواہد نہیں مل سکے۔
پولیس حکام کو ملزم کے زیر استعمال گاڑی کی، جو مبینہ طور پر قتل کی واردات کے لیے بھی استعمال کی گئی، فرانزک رپورٹ کا بھی انتظار ہے جس سے مقتول کے مفخر کی گاڑی میں موجود ہونے یا نہ ہونے کے متعلق کوئی اہم شواہد مل سکتے ہیں۔
چالان کے مطابق دوران تفتیش مبینہ قتل کی ساری کہانی ابتدائی طور پر اسد بھٹی کی زبانی پولیس کے سامنے آئی جس کی تصدیق پھر ملزم مفخر عدیل نے پولیس کے سامنے اقبالی بیان میں کی ہے۔ اسد بھٹی کے مطابق سات فروری کی رات شہباز کو مکان پر لانے کے بعد جوس میں نشے کی گولی ملا کر دی گئی جس کے بعد مفخر نے اس سے اپنی سابقہ بیوی کے ساتھ افیئر کے متعلق پوچھا۔ چالان میں دی گئی معلومات کے مطابق شہباز کچھ دیر تو انکار کرتا رہا اور پھر معافی مانگنے لگا کہ اس سے غلطی ہو گئی تھی۔ نشے کی گولی کی وجہ سے کچھ دیر بعد وہ لڑکھڑاتا ہوا فرش پر گر گیا جس کے بعد اسد کے بقول اس نے مقتول کی ٹانگوں کو پکڑ لیا جبکہ مفخر اس کے ہاتھوں اور ہونٹوں پر ٹیپ لپیٹنے کے بعد اس کے منھ پہ تکیہ رکھ کر بیٹھ گیا اور سانس رکنے سے شہباز کی موت واقع ہو گئی۔ چالان کے مطابق اسد بھٹی نے لاش کو تیزاب میں تحلیل کرنے اور جائے وقوعہ کو دھونے کی تفصیل بھی بتائی جس سے مفخر عدیل کے بیان کی تصدیق ہوتی ہے۔
سینیئر قانون دان اور سیکرٹری سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن شمیم ملک نے اس مقدمے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شہباز تتلہ قتل کیس میں ملزمان کے خلاف قتل ثابت کرنے کے لیے پولیس کے پاس موجود براہ راست شواہد بظاہر کمزوردکھائی دیتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس نے وجہ عناد پر تحقیقات ہی نہیں کیں اور نہ ملزم کی سابقہ اورموجودہ بیویوں کو چالان کا حصہ بنایا ہے جس سے اس کیس پر اثر پڑ سکتا ہے۔ ’اگر پولیس وجہ عناد کو ڈھونڈنے پر توانائی لگاتی تو ہو سکتا ہے اس کیس کے حوالے سے کئی اور شواہد مل جاتے۔ ملزمان کے پولیس حراست میں دے گئے بیان کے علاوہ پولیس کے پاس براہ راست کوئی شواہد نہیں کہ یہ قتل کیسے اور کیوں ہوا‘۔ قانون شہادت آرڈر 1984 کے سیکشن37 اور 38 کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملزم کے پولیس کے سامنے دئے گئے بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور اگر ملزمان اپنے اعترافی بیان سے مکر گئے تو استغاثہ کو مقدمہ ثابت کرنے میں کافی مشکل پیش آ سکتی ہے۔ شمیم ملک نے مزید کہا کہ اب دیکھنا ہوگا کہ ایک ایسے کیس میں جس میں لاش بھی نہیں، آلۂ قتل بھی نہیں اور تفتیش میں بھی کئی کمزور پہلو موجود ہیں، پولیس اور استغاثہ کس طرح سے ملزمان جن میں ایک سینیئر پولیس افسر بھی شامل ہے، سزا دلوانے میں کامیاب رہتے ہیں۔
ملزم مفخر کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل سینیئر ایڈووکیٹ آفتاب باجوہ کا کہنا ہے کہ ان کا موکل بےقصور ہے کیونکہ اس نے کوئی قتل نہیں کیا۔ ’پولیس کے پاس کوئی ثبوت نہیں کہ مفخر نے شہباز تتلہ کا قتل کیا ہے اور ہم یہ بات عدالت میں ثابت بھی کریں گے‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مفخر نے تتلہ کو قتل کرنے کا اعتراف بالکل نہیں کیا۔ یہ بیان پولیس نے خود سے ہی لکھا ہے جسے ہم چیلنج کریں گے‘۔ آفتاب باجوہ کا کہنا تھا کہ ’پہلے تو پولیس یہ ثابت کرے کہ تتلہ کا قتل ہوا ہے کیونکہ ابھی تک کوئی لاش نہیں مل سکی۔ ہو سکتا ہے وہ زندہ ہوں اور کہیں روپوش ہوں اور کسی دن خود ہی منظرِ عام پر آ جائیں‘۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ گھر جہاں بقول پولیس قتل کا وقوعہ پیش آیا وہ تو ملزم کے نام پر ہی نہیں لیا گیا تھا جبکہ لاسٹ سین گواہ بھی پولیس نے بعد میں بنائے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close