طیارے کے ملبے سے76 سے زائد افراد کی لاشیں نکال لی گئیں

پی آئی اے کے بدقسمت طیارے کے ملبے سے 76 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں. جاں بحق افراد میں طیارے کا پائلٹ اور 5 سالہ بچہ بھی شامل ہے۔ جناح گارڈن میں طیارے کے ملبے سے 76 سے زائد مسافروں اور مقامی رہائشی افراد کی لاشوں کو نکالا گیا ہے،محکمہ صحت کے مطابق طیارہ حادثے میں 76 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جناح ہسپتال میں 47 لاشیں منتقل کر دی گئیں، سول ہسپتال میں 29 لاشیں منتقل کی گئی ہیں۔ 5 افراد کی شناخت ہو پائی ہے، پچ جانے والے سول ہسپتال اور دارالصحت میں زیرعلاج ہیں۔ ڈائریکٹرجناح ہسپتال سیمی جمالی نے کہا کہ جناح ہسپتال میں جہاز کے پائلٹ اور پانچ سالہ بچے سمیت 47لاشیں جبکہ8 زخمی افراد کو منتقل کیا گیا ہے۔ زخمیوں میں 2 مرد اور 6 خواتین بھی شامل ہیں۔ جناح ہسپتال میں 6 زخمی افراد بھی لائے گئے۔ 29 لاشیں اور 10 زخمی افراد کو سول ہسپتال بھی منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں جو زخمی لائے گئے ان میں زیادہ تر جھلسے ہوئے ہیں۔ اسی طرح زخمی مسافروں کو ایمبولینسز میں ہسپتال پہنچایا جارہا ہے۔جبکہ ملبے سے مسافروں کو نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری جانب عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ طیارے کا اگلا حصہ پہلے 4 منزلہ عمارت سے ٹکرایا، جس کے بعد طیارے میں آگ بھڑک اٹھی، اور دھماکا ہوا، طیارے کا جلتا ہوا ملبہ دوسرے گھروں اور گلیوں میں کھڑی گاڑیوں پر گرا تو ان میں بھی آگ لگ گئی۔
پی آئی اے کی پرواز8303 کے حادثے سے متعلق عینی شاہدین نے بتایا کہ سوا 2 بجے کے قریب ایک زور دار آواز آئی۔جس کے بعد دھماکا ہوا۔ طیارہ گرنے سے ایئرپورٹ کے قریبی 7سے 8 گھر شدید متاثر ہوئے ہیں۔ گھروں پر طیارہ گرنے سے وہاں کھڑی کچھ گاڑیوں میں بھی آگ لگی، جس کے بعد زور دار دھماکے ہوئے، ماڈل کالونی کا علاقہ ہے یہاں کی گلیاں کافی تنگ ہیں، متاثرہ گھروں کے افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، خواتین نے بتایا کہ ان کے بچے لاپتا ہیں، ریسکیو ٹیموں نے متاثرہ گھروں کے افراد کی لسٹ تیار کرلی ہے، جس میں گھروں میں موجود تمام افراد کے نام شامل ہیں۔
پی آئی اے نے طیارے میں سوار مسافروں کے ناموں کی فہرست جاری کردی، 99 مسافروں میں 51 مرد مسافر، 31 خواتین اور 9 بچے شامل ہیں، بینک آف پنجاب کے صدر ظفر مسعود اور سینئرصحافی انصارنقوی کا نام بھی مسافروں میں شامل ہے۔ حادثے کا شکار طیارے میں سوار مسافروں کی فہرست میں میں یاسمین اکبانی، فروا علی، ارمغان علی، فوزیہ ارجمند، فتح الہٰی، رحیم زین، کاشف، شبیر احمد، رضوان احمد، بلال احمد، عابد زارا، فاطمة الزہرا، محمد طارق ، محمد وقاص، اقراء شاہد، خالد شیر دل و دیگر شامل ہیں۔ اسی طرح کیپٹن سجاد گل طیارے کو اڑا رہے تھے، ان کے ساتھ آفیسر عثمان اعظم تھے۔ فرید احمد چودھری، عبدالقیوم اشرف، ملک عرفان، ایئرہوسٹس مدیحہ ارم، آمنہ عرفان، عاصمہ شہزادی، عملے کے تمام لوگوں کا تعلق لاہور سے ہے۔ واضح رہے کراچی ایئرپورٹ کے قریب پی آئی اے کی فلائٹ پی کے 8303 گر کر تباہ ہوگئی۔ ایئربس 320 میں 107 افراد سوار تھے۔ جن میں 99 مسافر اور عملے کے 8 افراد شامل ہیں۔
ایئربس 320ایک بج کر 10 منٹ پر لاہور ایئرپورٹ سے کراچی کیلئے روانہ ہوئی۔ پی آئی اے کی پرواز لاہور سے کراچی پہنچی تھی کہ لینڈنگ کے دوران طیارہ گر کر تباہ ہوگیا ہے۔ طیارہ کراچی ایئرپورٹ پر لینڈنگ کیلئے بالکل تیار تھا۔ پائلٹ نے لینڈنگ کا سگنل بھی دے دیا تھا۔ لیکن طیارے کا لینڈنگ سے ایک منٹ قبل کنٹرول روم سے رابطہ منقطع ہوگیا اور ماڈل کالونی کی آبادی میں گر کر تباہ ہوگیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close