عائزہ خان کی طیارہ حادثے کا شکار ہونے کی افواہوں کی تردید

معروف اداکارہ عائزہ خان اور دانش تیمور نے پی آئی اے طیارے حادثے کا شکار ہونے کی خبروں کو افواہیں قرار دیتے ہوئے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شدید غم وغصے کا اظہار کیا ہے.
پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے سندھ کے دارالحکومت کراچی آنے والے پاکستان ایئر لائنز (پی آئی اے) کے طیارے کے گر کر تباہ ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر فوری طور پر غلط خبریں اور افواہیں پھیل گئیں۔

افواہیں پھیلنے سے جہاں عام لوگ پریشانی کا شکار ہوئے، وہیں کچھ معروف شخصیات سے متعلق بھی جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں۔حادثے کے شکار ہونے والے طیارے میں تقریبا 100 مسافر اور عملے کے ارکان سوار تھے اور طیارہ عین اس وقت حادثے کا شکار بنا جب وہ لینڈنگ کے لیے تیار تھا۔حادثے کے فوری بعد سوشل میڈیا پر بدقسمت طیارے کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوگئیں جن میں طیارے کو آگ کے شعلوں میں جلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
بدقسمت طیارے کے مسافروں کی فہرست بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جب کہ متعدد نامور شخصیات کے بھی طیارے میں سوار ہونے کی افواہیں گردش کرنے لگیں اور ایسی خبریں پاکستان کے معروف جوڑے دانش تیمور اور عائزہ خان سے متعلق بھی پھیلائی گئیں۔

خود سے متعلق افواہیں پھیلنے کے بعد دانش تیمور اور عائزہ خان نے سوشل میڈیا کے ذریعے وضاحت کی کہ ان سے متعلق تمام خبریں جھوٹی ہیں اور وہ طیارے کے مسافروں میں شامل نہیں۔دانش تیمور نے انسٹاگرام پر فیک نیوز کی گرافکس کے ساتھ مداحوں کو بتایا کہ وہ اور ان کی اہلیہ خیریت سے ہیں اور وہ گھر پر ہی ہیں۔انہوں نے خود سے متعلق ہونے والی افواہوں کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے حادثے کا شکار ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے دکھ کا اظہار بھی کیا۔
دوسری جانب عائزہ خان نے بھی انسٹاگرام پر اپنے متعلق جھوٹی خبر کا اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے اس کی تردید کی۔
عائزہ خان نے سادہ الفاظ میں خود سے متعلق ہونے والی معلومات کو جھوٹا قرار دیا۔

خیال رہے کہ بدقسمت طیارے میں 90 مسافر اور عملے کے 8 افراد سوار تھے جن میں سے 30 تک خواتین اور 10 تک بچے بتائیں جا رہے ہیں جب کہ طیارے میں مرد مسافروں کی تعداد 60 تک تھی۔حادثے کے حوالے سے سول ایوی ایشن (سی اے اے) اور پی آئی اے انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ تکنیکی خرابی کے باعث حادثہ پیش آیا، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ کس طرح کی تکنیکی خرابی کے باعث حادثہ پیش آیا۔مذکورہ حادثے کو کراچی میں پیش آنا والا اب تک کا سب سے بڑا حادثہ قرار دیا جا رہا ہے اور فوری طور پر اس حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close