کراچی: حادثے کا شکار مسافرطیارہ تکنیکی طور پر پوری طرح محفوظ تھا

پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) کے چیف آپریٹنگ آفیسر ائیر مارشل ارشد ملک کا کہنا ہے کہ کراچی میں حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ تکنیکی طور پر پوری طرح محفوظ تھا۔ تاہم تحقیقات کے بعد تمام حقائق سامنے آئیں گے۔
کراچی کے پی آئی اے ٹریننگ سینٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ارشد ملک نے کہا کہ شہید پائلٹ کے اہل خانہ کا حوصلہ دیکھ کر مجھے بھی حوصلہ ہوا، اللہ طیارہ حادثے میں شہید ہونے والوں کے درجات بلند کرے، لواحقین کو صبر عطا فرمائے،آج کے حادثے میں ہمارے دوپائلٹ ہم سے جدا ہوگئے۔ارشد ملک نے بتایا کہ جہاز ٹیک آف کرنے سے پہلے انجینئرز سے کلیئر کرایا جاتا ہے، یہ طیارہ بھی تکنیکی طور پر پوری طرح محفوظ تھا، طیارہ حادثے کی انکوائری وزارت ہوا بازی مکمل کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اس سانحے میں متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں، انکوائری میں فیکٹ اینڈ فیگرز سامنے آئیں گے، انکوائری میں پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ارشد ملک نے بتایا کہ حادثے کا شکار جہاز آبادی میں ایک گلی میں لینڈ ہوا، کچھ لوگ میڈیا پر شر پھیلا رہے ہیں، پائلٹ نے بتایا کہ وہ ہر لحاظ سے لینڈنگ کیلئے تیار ہے، دوسری دفعہ لینڈنگ کیلئے آتے وقت جہاز کے ساتھ کچھ ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ جہاز کو لینڈنگ کی اجازت دے دی گئی تھی جس کے بعد پائلٹ گو راؤنڈ کرتا ہے جس سے متعلق کوئی شکوک و شبہات نہ رکھے، ہمارے پاس فرلائٹ ڈیٹا ریکارڈر اور بلاک باکس ہوتا ہے جس میں ہر چیز سامنے آجاتی ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘جہاز کے گو راؤنڈ کے بعد پائلٹ نے دوسری اپروچ کے لیے اسٹیبلش کرنے کی کال دی، جب وہ دوسری اپروچ کے لیے اسٹیبلش کرتے ہیں تو وہاں ان کے ساتھ کچھ ہوا جس سے متعلق وائس ریکارڈنگ اور ڈیٹا ریکارڈنگ میں بات سامنے آئے گی’۔
ارشد ملک نے کہا کہ ‘تحقیقات میں تمام حقائق سامنے آئیں گے کہ کیا طیارے کو کوئی تکنیکی مسئلہ ہوا، باہر سے کوئی چیز ٹکرائی یا کوئی اور مسئلہ ہوا جبکہ حادثے کی انکوائری وزارت ہوا بازی مسلمہ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق مکمل کرے گی’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘جب جہاز اچانک بہت نیچے آیا تو ایئر ٹریفک کنٹرول سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کو کوئی مسئلہ ہے، جس پر پائلٹ نے کہا کہ جی میرے ساتھ مسئلہ ہے جس کے بعد رابطہ ختم ہوگیا اور المناک حادثہ پیش آیا’۔
ارشد ملک نے کہا کہ جو لواحقین آئیں گے انہیں ائیرپورٹ ہوٹل میں ٹھہرائیں گے، ریسکیو آپریشن کو مکمل ہونے میں دو سے تین دن لگیں گے، ایک چھوٹی گلی میں حادثہ ہوا، گھروں کو نقصان پہنچا، سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ بھی حادثے کی تحقیقات کرے گا،بحثیت ادارے کے سربراہ اسٹیپ ڈاؤن کیلئے تیار ہوں۔نسی ای او پی آئی اے نے مزید کہا کہ ائیر بس اے320 کے انجن پاکستان میں نہیں بنتے،حادثے کے شکار طیارے کی انسپکشن مکمل تھی، لینڈنگ گیئر سے متعلق کوئی رپورٹ نہیں، ٹیکنیکل کلیئرنس تک جہاز پرواز نہیں کرسکتا، اکثر اوقات اس وجہ سے پروازوں میں تاخیر بھی ہوجاتی ہے، پروازوں میں تاخیر یا منسوخی تو ہوجاتی ہے لیکن کلیئرنس کے بغیر جہاز ٹیک آف نہیں کرتا۔
ارشد ملک نے کہا کہ ہم کسی کی جان کے ساتھ نہیں کھیل سکتے،اس بحران میں بھاگ جانا نہیں چاہتا، سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ آزاد باڈی ہے اور سول ایوی ایشن سے تنخواہ نہیں لیتا، اس طیارے کی آخری پرواز کل ہوئی تھی جو اطمینان بخش تھی۔سی ای او پی آئی اے نے کہا کہ خوش قسمتی سے جہاز ایک گلی میں گرا جس سے قریب کے مکانات کو نقصان ضرور ہوا لیکن کوئی عمارت گری نہیں جبکہ اب وہاں کوئی لاش بھی موجود نہیں ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ ‘ریسکیو آپریشن جاری ہے جسے مکمل ہونے میں دو سے تین روز لگیں گے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘حادثے سے متعلق میڈیا میں کچھ لوگ شر اور فساد پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ یہ شہیدوں کے لواحقین کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے، میں میڈیا سے درخواست کروں گا کہ نام نہاد ماہرین سے خبردار رہیں، میں اور میری ٹیم، حکومت پاکستان، افواج پاکستان، این ڈی ایم اے اس سانحے میں متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں اور انہیں شفاف معلومات دیں گے’۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close