ائیر ہوسٹس مدیحہ اکرم طیارے کا حادثے سے کیسے محفوظ رہیں؟

کراچی حادثے کا شکار ہونے والے پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) کے بدقسمت طیارے کی عین روانگی کے وقت ائیرہوسٹس مدیحہ اکرم کو اتار کر اسٹینڈ بائے ائیر ہوسٹس انعم مسعود کو سوار کرایا گیا جس کی وجہ سے وہ حادثے سے محفوظ رہیں.
کراچی میں حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے کاک پٹ اور کیبن کریو کا تعلق لاہور سے تھا۔کیپٹن سجاد گل طیارہ اڑا رہے تھے جبکہ فرسٹ آفیسرعثمان اعظم ان کے ساتھ تھے اور دیگر عملے میں 3 اسٹیورڈز اور 3 ائیر ہوسٹسز تھیں۔طیارے کے کیپٹن سجاد گل، فرسٹ آفیسر عثمان اعظم جبکہ کیبن کریو میں پرسر فرید احمد چوہدری کے علاوہ فلائٹ اسٹیورڈز عبدالقیوم اشرف، ملک عرفان اشرف، ائیر ہوسٹس آمنہ عامر، عاصمہ شہزادی اور انعم مسعود شامل تھیں۔
ایک ائیر ہوسٹس مدیحہ اکرم کو جہاز کی روانگی کے وقت کسی وجہ سے طیارے میں سوار نہ ہونے دیا گیا اور ان کی جگہ ائیر ہوسٹس انعم مسعود کو طیارے میں سوار کرادیا گیا۔حادثے کے بعد طیارے کے ہمراہ نہ جانے والی ائیرہوسٹس مدیحہ اکرم نے ایک وڈیو بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ ان کی اسی طیارے پر ڈیوٹی تھیں لیکن کسی وجہ سے وہ نہ جاسکیں، اللہ کے فضل سے بالکل ٹھیک اور اپنے گھر پر ہیں۔
خیال رہے کہ قومی ائیرلائن کی پرواز پی کے 8303 کو لینڈنگ کے وقت حادثہ پیش آیا اور طیارہ 2 بجکر 37 منٹ پر گرگر تباہ ہوگیا جبکہ جہاز میں عملے کے 7 ارکان سمیت 98 افراد سوار تھے۔حادثے نتیجے میں متعدد افراد کے جاں بحق اور زخمے ہونے کا خدشہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close