کورونا وائرس ملیریا کی دوؤں کی دوبارہ طبی آزمائش شروع

کلوروکوائن اور ہائیڈروکسی کلوروکوائن کا نام کورونا وائرس کے تناظر میں بار بار سننے کو ملا ہے اور اس کا استعمال متنازعہ ہونے کے باوجود لگ بھگ 40 ہزار ایسے افراد یہ دوائیں دی جائیں گی جو ڈاکٹر اور طبی عملے سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ کورونا کے شکار مریضوں کا علاج کررہے ہیں۔
کلوروکوائن اور ہائیڈروکسی کلوروکوائن لگ بھگ 70 برس سے ملیریا کے خلاف ایک مؤثر دوا کے طور پراستعمال ہوتی رہی ہے لیکن کورونا وائرس کے تناظر میں اس کی متنازعہ حیثیت دوبارہ سامنے آئی ہے۔ اب بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس دوا کو کورونا وائرس سے لاحق ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے خلاف مؤثر سمجھ رہے ہیں حالاں کہ ممتاز سائنسدان اور ڈاکٹر اس کے منفی اثرات سے خبردار کرتے رہے ہیں۔
لیکن یہ دوائیں اب برطانوی شہر برائٹن اور آکسفورڈ میں اسپتالوں کے طبی عملے کو حفاظتی نقطہ نظر سے کھلائی جائیں گی اور دیگر عملے کو فرضی دوا کا پلے سیبو دی جائے گی۔ پورے مطالعے میں برطانیہ بھر کے 25 اسپتال شامل ہیں اور سال کے آخر تک دونوں دواؤں کی آزمائش جاری رہے گی۔
مطالعے کے سربراہان میں سے ایک پروفیسر نکولس وائٹ کہتے ہیں کہ ہمیں نہیں معلوم کہ آیا کلوروکوائن اور ہائیڈروکسی کلوروکوائن کا استعمال کووڈ 19 کے معالجے اور روک تھام میں مفید ہے یا مضر لیکن اس دوہرے ان دیکھے (ڈبل بلائنڈ) مطالعے سے یہ حقیقت سامنے آجائے گی۔ اس میں نہ ہی عملے اور نہ ہی دوا کھانے والے کو یہ معلوم ہوگا کہ اسے دو دوائیں دی گئیں یا فرضی ٹیبلٹ کھلائی جاری ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر دونوں ادویہ کووڈ 19 روکنے میں کسی طرح کا کوئی کردار سامنے آتا ہے تو یہ بہت بہتر ہوگا کیوں کہ برطانوی ماہرین کے مطابق کورونا روکنے کےلیے ویکسین ابھی بہت دور ہے۔ واضح رہے کہ برطانیہ کے ساتھ ساتھ تھائی لینڈ میں بھی کلوروکوائن اور ہائیڈروکسی کلوروکوائن کی آزمائش کی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close