طیارہ حادثے میں کوتاہی سامنے آئی تو احتساب کیلئے پیش ہوں گے

وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے پی آئی اے کے طیارے کے حادثے پر تمام متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکوائری رپورٹ میں وزیر یا چیف ایگزیکٹیو کی کوتاہی سامنے آئی تو خود کو احتساب کے لیے پیش کریں گے۔
وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے کراچی میں گورنر سندھ عمران اسمٰعیل کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘سب سے پہلے میں کراچی کے شہریوں اور پاکستانی بھائیوں اور پی آئی اے کے ملازمین سے اس ناگہانی آفت پر دلی افسوس کا اظہار کرتا ہوں’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘لوگوں نے امدادی کاموں میں حصہ لیا، لوگوں کو بچانے اور لاشوں کو نکالنے کے علاوہ آگ کوبجھانے کی کوشش کی گئی وہ منظر دیدنی تھا، اس میں رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عہدیدار بھی تھے لیکن کراچی کے شہریوں کا جذبہ قابل دید تھا جس پر میں انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں’۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ دو افراد کے علاوہ جہاز کے عملے کی بھی شہادتیں ہیں، دونوں پائلٹس کی بھی شہادت ہوئی ہے، پائلٹ نے جہاز کو رن وے تک لے جانے کی پوری کوشش کی لیکن جب دیکھا کہ رن وے تک پنچنا محال ہے تو تنگ گلی میں لایا اور پر گھروں پر لگے اور کوشش کی کہ کم سے کم انسانی جانوں اور مالی نقصان ہوسکے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ابھی دیکھ کر آئے ہیں کافی مکانات کو نقصان پہنچا ہے اور یہ بھی دیکھا ہے کہ وہاں کے باسیوں کی کافی گاڑیوں بھی نقصان پہنچا ہے، ابتدائی جائزے کا حکم دیا گیا اور دیکھا جائے گا کہ ہر گھر کی مرمت اور بحالی پر جتنا خرچہ ہوگا وہ حکومت وقت بردشت کرے گی۔ غلام سرور خان نے کہا کہ ان گھروں کو مکمل بحال کرکے باسیوں کے حوالے کیا جائے گا اور اسی طرح جن لوگوں کی گاڑیاں جلی ہیں ان کا بھی ازالہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسافروں کی شہادتیں ہوئی ہیں اس کےلیے حکومت نے ابتدائی طور پر فی مسافر 10 لاکھ روپے جاری کیے ہیں، جو زندہ بچے ہیں ان کو5،5 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
ان کاکہنا تھا کہ اصل رقم جو انشورنس کی ہے وہ 50 لاکھ روپے کے لگ بھگ بنتی ہے، ہماری کوشش ہوگی کہ اس کو بھی جلد ازجلد متاثرہ خاندانوں تک ان کا حق پہنچایا جائے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہم میں سے ہر کوئی ماہر ہے، یہ قومی حادثہ اور سانحہ ہے اور بہت بڑا واقعہ ہے، اس پر رائے ضروری دینی چاہیے لیکن جو رائے دینی ہے وہ انکوائری کمیٹی کے سامنے دی جائے۔ انکوائری پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی بنادی گئی ہے، جس کی منظوری وزیراعظم نے دی ہے اور اس میں پاک فضائیہ کے 4 انتہائی تجربہ کار افسران موجود ہیں جہاں شفاف جائزہ لیا جائے اور کوئی ایسی معلومات ہوں تو کمیٹی تک پہنچادی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ‘حادثے کی شفاف انکوائری ہوگی، پوری کوشش ہوگی کہ حقائق جلد ازجلد قوم اور پارلیمنٹ کے سامنے رکھے جائیں۔
غلام سرور خان نے کہا کہ ‘انکوائری کمیٹی کم سے کم وقت میں تحقیقات مکمل کرے، جو کوئی ماہرانہ رائے رکھتا ہے یا معلومات ہیں اس کو کمیٹی سے تعاون کرنا چاہیے اور اپنے رائے دے لیکن میڈیا پر آکر رائے دینے سے کنفیوژن پیدا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری اولین ذمہ داری لاشوں کی ڈی این اے کے بعد ان کے لواحقین کو دی جائیں، اس کے بعد ان خاندانوں کو معاوضہ دینا، تیسری ترجیح جن لوگوں کے مکانات، گاڑیوں اور جائیداد کو نقصان ہوا ہے ان کو بھی معاوضہ دینا ہے جو ہماری ذمہ داری ہے۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ایک محکمہ جاتی انکوائری ہوگی جب کہ حکومت نے انکوائری بورڈ کو پہلے مقرر کردیا ہے، جس میں پی آئی اے کے نہیں پاک فضائیہ کے سینئر اور کوالیفائیڈ ذمہ داران موجود ہیں، وہ آزادانہ انکوائری کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ ایئربس بنانے والی فرانسیسی حکومت کی کمپنی بھی کررہی ہے، جس میں جرمن اور فرنچ بھی ہیں اور ان کے ماہرین بھی آئیں گے’۔
وفاقی وزیر غلام سرور خان نے کہا کہ ایک ذمہ دار شخص کی حیثیت سے وعدہ کرکے جارہا ہوں کہ ہماری کوشش ہوگی کہ جلد ازجلد ان دونوں انکوائریز کی رپورٹ عوام کو جاری کی جائے اور پارلیمنٹ کے سامنے رکھی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ 100 انسانی جانوں اور انسانیت کا مسئلہ ہے، اس پر کوئی جانب داری نہیں ہوگی، ان انکوائریز میں وزیر یا چیف ایگزیکٹیو کی کوتاہی سامنے آئی تو ہم نہ صرف استعفیٰ دیں گے بلکہ خود کو احتساب کےلیے پیش کریں گے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز کراچی ایئرپورٹ کے قریب ماڈل کالونی میں پی آئی اے کا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا جس میں 91 مسافر اور عملے کے 8 افراد سوار تھے جن میں سے 97 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ 2 افراد محفوظ رہے جو aسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close