کرونا وباء: میٹھی عید کے دوسرے دن کی خوشیاں بھی پھیکی ہو گئیں

کرونا وائرس کے باعث ملک بھر میں آج عید الفطر کا دوسرا روز بھی سادگی کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔عموماً عیدالفطر کے دوسرے روز پاکستان میں لوگ قریبی رشتہ داروں سے ملنے جاتے اور اپنے گھروں میں بھی دعوتوں کا اہتمام کرتے یا پھر شام کے اوقات میں فیملیز پارکس یا دیگر تفریحی مقامات کا رخ کرتے ہیں لیکن اس بار کورونا کی وجہ سے نہ تو گھروں میں عید کی وہ رونقیں نظر آ رہی ہیں اور نہ ہی تفریحی مقامات پر عوام کو جانے کی اجازت ہے جس کی وجہ سے سب لوگ اپنے گھروں میں ہی سادگی سے عید منا رہے ہیں۔
حکومت پاکستان، علمائے کرام ، سیاستدانوں اور سماجی شخصیات کی جانب سے بھی کورونا وائرس اور پی آئی اے طیارہ حادثے کے پیش نظر عوام سے عید سادگی کے ساتھ منانے کی درخواست کی گئی ہے۔پاکستا ن سمیت دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث اب تک 55 لاکھ سے زائد افراد متاثر جب کہ 3 لاکھ 46 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
یاد رہے کہ ملک بھر میں عید الفطر کے موقع پر مساجد، عید گاہ اور امام بارگاہوں میں نماز عید کے چھوٹے بڑے اجتماعات ہوئے، علمائے کرام نے عید کے خطبات میں اسلامی تعلیمات اور رمضان المبارک کی فضیلت بیان کی۔
نماز کے اجتماعات میں افسوسناک طیارہ حادثے کے شہدا کی مغفرت، کورونا وائرس سے نجات ملکی ترقی خوشحالی اور سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔علمائے کرام نے غم کے اس لمحے میں دنیا سے رخصت ہو جانے والوں کے لواحقین کے لیے صبر جمیل اور زخمی اور بیماروں کے لیے دعائے صحت کی جب کہ نماز عید کے بعد لوگوں نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی اور نیک جذبات کا اظہار کیا۔
کراچی میں بھی عیدالفطر سادگی سے منائیئی گئی اور شہر کی مساجد اور عید گاہوں میں نماز عید ادا کی گئی جس کے بعد لوگوں نے ایک دوسرے کو عید کی مبارک باد دی۔اسلام آباد میں عید کا سب سے بڑا اجتماع شاہ فیصل مسجد جب کہ راولپنڈی میں لیاقت باغ میں ہوا جہاں نمازیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔لاہور کی 5 ہزار مساجد اور 190سے زائد کھلے مقامات پر نماز عید ادا کی گئی اور اس دوران کورونا سے حفاظتی انتظامات کے لیے طے کردہ ضابطہ کار پر مکمل عملدرآمد کیا گیا۔عید کے اجتماعات میں سینیٹائزرکے استعمال اور سماجی فاصلے کا خاص خیال رکھا گیا۔اس موقع پر سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے اور کورونا وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کو بھی مدنظر رکھا گیا۔
کوئٹہ اورگردونواح میں 300 سے زائد مقامات پر نماز عیدالفطر کے اجتماعات ہوئے جب کہ شہر میں نماز عید کا سب سے بڑا اجتماع مرکزی عیدگاہ طوغی روڈ پرمنعقد ہوا۔مرکزی عیدگاہ میں نمازعید کی امامت مرکزی خطیب مولانا انوارالحق حقانی نےکی اور وہاں بھی اس موقع پر کورونا وائرس کے حوالے سےاحتیاطی تدابیر پر بھی عملدرآمد کو یقینی بنایا گیا۔ اس موقع پر طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت کے لیے کو رونا سے نجات ملکی سلامتی ترقی اور خوش حالی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔پشاور میں مرکزی عید گاہ چارسدہ روڈ میں نماز عید ادا کردی گئی جہاں مولانا محمد اسماعیل نے امامت کی جب کہ دیگر مساجد میں بھی نماز عید کی ادائیگی، کورونا کے خاتمے اور متاثرین سانحہ کراچی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close