کپتان کا سیف الرحمان عرف بیرسٹر شہزاد اکبر دراصل ہے کون؟

وزیراعظم عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ان کے اپوزیشن مخالف احتسابی بیانیے کو نواز شریف دور کے بدنام زمانہ احتساب بیورو کے چیئرمین سیف الرحمان کی طرح تندہی سے اگے بڑھانے والا بیرسٹر مرزا شہزاد اکبر دراصل ہے کون اور کہاں سے آیا ہے۔ اس مشکوک کردار کے کوائف اور حسب نسب کے بارے میں سیاسی ور سفارتی حلقوں میں تو چہ مگوئیاں جاری تھی ہی لیکن اب عدالتی حلقوں میں بھی اس شخص کے بارے میں سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔
وزیراعظم کی جانب سے اثاثہ جات ریکوری یونٹ کا سربراہ مقرر کرتے وقت مرزا شہزاد اکبر کے ذمہ بنیادی ٹاسک بیرون ملک سے پاکستان کا لوٹا ہوا پیسہ واپس لانا تھا لیکن حکومتی دستاویزات کے مطابق وہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ کے سربراہ کے طور پر پچھلے دو برسوں میں خزانے سے پانچ کروڑ روپے سے زائد خرچ کر چکے ہیں لیکن باہر سے لوٹا ہوا ایک روپیہ بھی واپس نہیں لا سکے۔
تاہم شہزاد اکبر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے قومی خزانے سے پچھلے دو برسوں میں جو بھی رقم خرچ کی ہے وہ پاکستان کا پیسہ لوٹنے والوں کے حوالے سے بیرون ملک سے معلومات حاصل کرنے کے سلسلے میں خرچ ہوئی ہےلیکن اب معلوم ہوا ہے کہ قومی خزانے کو لوٹنے والوں کے حوالے سے انفارمیشن اکٹھی کرنے کے علاوہ شہزاد اکبر سپریم کورٹ کے ججوں اور ان کے خاندان کے اثاثوں کے حوالے سے بھی بیرون ملک سے معلومات اکٹھی کر رہے تھے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ٹاسک ان کو حکومت پاکستان نے نہیں بلکہ ان خفیہ اداروں نے دیا تھا جو سپریم کورٹ کے کے کچھ باکرداراور باضمیر ججوں کی چھٹی کروانا چاہتے ہیں۔
یاد رہے کہ حال ہی میں آزاد عدلیہ کی علامت کے طور پر جانے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز اور ان کے فیملی ممبران کے اثاثوں بارے معلومات جمع کرنے والے وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کو بہروپیہ قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ میں صدر پاکستان کی طرف سے اپنے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کے حوالے سے شہزاد اکبر کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے جسٹس فائز عیسیٰ نے انکی تقرری، اختیارات، شہریت اور اثاثوں سے متعلق 15 سوالات اٹھائے ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ مرزا شہزاد اکبر کے پاس غیرمعمولی اختیارات ہیں جو ان کو خودمختار قانونی اداروں جیسے کہ ایف بی آر، ایف آئی اے اور نادرا سے معلومات کے حصول میں مددگار ہیں۔انہوں نے شہزاد اکبر کے تقرر، ان کے اختیارات پر قانونی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ معاون خصوصی کا حکومت چلانے سے کوئی سروکار نہیں ہوتا اور سپریم کورٹ اس حوالے سے اپنے فیصلوں میں قرار دے چکی ہے کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی کی پوسٹ آئینی نہیں اور ان کو وزیرمملکت کے برابر درجہ دینا صرف مراعات کے لیے ہے۔ فائز عیسی نے مرزا شہزاد اکبر شہریت کے بارے میں بھی سوال اُٹھایا ہے اور کہا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ شہزاد اکبر کی شہریت کیا ہے اور کیا وہ پاکستانی ہیں یا غیر ملکی اورکیا وہ دوہری شہریت رکھتے ہیں؟
حکومتی دستاویزات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے سیف الرحمان کے طور پر شہرت رکھنے والے بیرسٹر مرزا شہزاد اکبر عرف پاکستانی شرلاک ہومز کا ایسیٹز ریکوری یونٹ پچھلے دو سال میں قومی خزانے سے پانچ کروڑ روپے
خرچنے اور 25 غیر ملکی دوروں کے باوجود قوم کے لوٹے گیا 11 ارب ڈالرز ملک واپس لانے میں ناکام رہا ہے۔ تسہم ریکوری یونٹ کے ایک سینئر افسر کے مطابق اسے قائم ہوئے ابھی صرف دو سال ہوئے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی کارکردگی میں بہتری آ جائے گی، کوشش ہے کہ جلد سے جلد قوم کی لوٹی گئی 11 ارب ڈالرز کی رقم ملک واپس لائیں۔
یاد رہے کہ پچھلے دو برسوں میں شہزاد اکبر ٹی وی پر بیٹھ کر درجنوں مرتبہ یہ دعوی کر چکے ہیں کہ ان کے پاس پاکستان سے بیرون ملک بھجوائے 11 ارب ڈالرز کے ثبوت موجود ہیں اور وہ جلد یہ رقم پاکستان واپس لائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close