بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی، 2 روز میں 15 کشمیری شہید

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں صرف 2 روز کے دوران 15 کشمیری شہید ہوگئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں آج مزید 2 کشمیری شہید ہوگئے، دونوں نوجوانوں کو ضلع پلوامہ میں سرچ آپریشن کے دوران گولیاں مارکر شہید کیا گیا جب کہ علاقے میں انٹرنیٹ سروس کو بھی معطل کردیا گیا ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے ظلم و جبر کے نتیجے میں 15 کشمیری نوجوان جاں بحق ہوگئے۔رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ آج ضلع پلوامہ میں 2 جبکہ گزشتہ روز وادی کے مختلف اضلاع میں 13 کشمیر نوجوانوں کو قتل کردیا گیا تھا۔کے ایم ایس کے مطابق ضلع پلوامہ کے علاقے سائےموہ میں بھارتی فوج نے محاصرے کے دوران سرچ آپریشن کرتے ہوئے 2 نوجوانوں کو قتل کردیا۔مزید برآں گزشتہ روز 10 ضلع پونچھ کے میندھر اور دیگر گاؤں میں فوجی آپریشن میں 10 جبکہ ضلع راجوڑی کے علاقے نوشہرا میں 3 نوجواں جاں بحق ہوگئے تھے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بھارتی فوج نے جنت نظیر وادی کے ضلع راجوڑی میں داخلی اور خارجی راستوں کو بند کرکے سرچ آپریشن کیا اور گھر گھر تلاشی کے دوران بدترین بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی، قابض فوج نے سرچ آپریشن کے دوران ظلم و بربریت کی انتہا کرتے ہوئے 13 کشمیری نوجوانوں کو گولیاں مار کر شہید کیا تھا۔
دوسری طرف پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے ایک روز میں 13 کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل پر سخت اظہار مذمت کیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر عائشہ فاروقی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں جعلی انکاؤنٹرز میں کشمیری نوجوانوں کے بلا روک ٹوک قتل عام اور نام نہاد ‘انسداد دراندازی’ آپریشنز پر سخت تحفظات ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ جہاں اس وقت بین الاقوامی برادری عالمی وبا کووڈ 19 سے لڑ رہی ہیں وہیں بھارت اس دوران کشمیریوں پر ظلم و جبر کو تیز کرنے میں مصروف ہے۔دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ایک ہی روز میں 13 کشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا جو بھارتی حکومت کے انسانیت کے خلاف جاری جرائم کی عکاسی ہے۔ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ ان جرائم کو چھپانے کے لیے بھارتی حکام متعدد بار کشمیری حریت پسندوں کی ‘تربیت’ اور ‘دراندازی’ کے غیریقینی الزامات کا سہارا لیتے رہے ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ کہ جانب سے کہا گیا کہ بھارت کو یہ یقین کرلینا چاہیے کہ اس کے اس بے بنیاد پروپیگینڈے کی بین الاقوامی برادری میں کوئی ساکھ نہیں۔انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کا انتہا پسند ‘ہندوتوا’ ایجنڈا اور غیرانسانی اور غیرقانونی کارروائیوں کا مشترکہ نظریہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگیا ہے۔
مزید یہ بھی کہا گیا بھارت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اس کے مظالم نہ تو کشمیری عوام کے حوصلے کو پست کرسکتے ہیں اور نہ اس کا پاکستان مخالف ایجنڈا مقبوضہ کشمیر میں جاری ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹا سکتا ہے۔
اپنے بیان میں ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ ‘ہر کشمیری کی شہادت کشمیریوں کے بھارتی قبضے سے آزادی کی جدوجہد کو مزید تقویت دے گی، کشمیری عوام اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت اپنے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور پاکستانی عوام کشمیریوں کے لیے اپنی مکمل حمایت جاری رکھیں گے۔ترجمان دفترخارجہ کی جانب سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ بین الاقوامی برادری کو بھارت کے کشمیری عوام کے خلاف سنگین جرائم کو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانے چاہئیں۔
خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا ظلم و جبر جاری ہے تاہم 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد سے اس میں شدت آگئی ہے۔یاد رہے کہ 5 اگست کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے اسے 2 حصوں میں تقسیم کردیا تھا، ساتھ ہی وہاں مکمل لاک ڈاؤن اور کرفیو نافذکرتے ہوئے اضافی فوج تعینات کردی تھی۔گزشتہ ماہ بھی مقبوضہ کشمیر کے علاقے بڈگام میں بھارتی قابض فوج نے پیر معراج الدین کو قتل کردیا تھا جس پر پاکستان نے اظہار مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کا تازہ واقعہ قرار دیا تھا۔
قبل ازیں مئی کے اوائل میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج سے جھڑپ میں حزب المجاہدین کے کمانڈر ریاض نائیکو ساتھی سمیت جاں بحق ہوگئے تھے۔حزب المجاہدین کے کمانڈر ریاض نائیکو مقبوضہ کشمیر کے جنوبی ضلع پلوامہ میں موجود تھے کہ وہاں بھارتی سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کیا تھا۔اسی روز اور مسلح تصادم میں مزید دو کشمیری نوجوان مارے گئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close