معاملہ عظمی کا ہو یا شہروز کا؟ قصوروار عورت ہی کیوں؟


حال ہی میں اداکارہ عظمی خان کی اپنے مبینہ عاشق کی بیوی کے ہاتھوں دھلائی اور اس کے چند روز بعد شہروز سبزواری کی جانب سے اپنی دوست اور ماڈل صدف کنول کے ساتھ دوسری شادی کے فیصلے نے سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا کر دیا۔ جتنے منہ اتنی باتوں کے مصداق ہر جانب سے سوشل میڈیا پر ہر طرح کے تبصرے کیے گئے لیکن تبصرہ کرنے والوں کی اکثریت نے مرد کی بجائے عورت کو قصوروار قرار دیا جو پاکستانی معاشرے کی منافقانہ سوچ کی غمازی کرتا ہے۔
سوشل میڈیا پر زیر بحث رہنے والا پہلا واقعہ آمنہ نامی ایک ایسی عورت کا تھا جو اپنے شوہر کا پیچھا کرتے کرتے اس کی محبوبہ عظمی خان کے گھر جا پہنچی۔ وہاں اس نے شوہر عثمان کی محبوبہ کے ساتھ جو سلوک کیا وہ پھر پورے ملک نے دیکھا۔ سوشل میڈیا پر باقاعدہ پارٹیاں بن گئیں۔ ایک طرف ٹیم بیوی اور دوسری طرف ٹیم محبوبہ۔ دونوں کے حق میں لمبی چوڑی پوسٹیں لکھی گئیں۔
مزید پوسٹیں بھی ہوتیں اگر دوسری خبر مارکیٹ میں نہ آتی جس کے مطابق اداکار شہروز سبزواری نے ساتھی ماڈل صدف کنول سے شادی کر کے ان مفروضوں کو سچ ثابت کر دیا جو ان کی پہلی شادی کے ختم ہونے پر بنائے گئے تھے۔ یہاں بھی ٹیمیں بن گئیں۔ ایک ٹیم پورے قصے پر مٹی ڈال رہی تھی تو دوسری اس مٹی کو ہٹا رہی تھی۔ گرد تھمی تو پرانی بیوی ہیروئن اور نئی بیوی ڈائن کی شکل میں دکھائی دی۔ کسی نے کہا عورت ایسی ہی ہونی چاہیے جو شوہر کی بے وفائی کا علم ہونے پر رونے دھونے یا ڈراما کرنے کی بجائے چپ چاپ اپنا راستہ الگ کر لے۔
کاش اس ملک میں ان چاہے اور تکلیف دہ رشتے ختم کرنا اتنا ہی آسان ہوتا۔ ایسا ہوتا تو شاید پہلی خبر سرے سے موجود ہی نہ ہوتی۔ گذشتہ سال کے عورت مارچ میں ایک صحافی کے پلے کارڈ پر ’طلاق یافتہ اور خوش‘ لکھا ہوا تھا، پورا مارچ ایک طرف اور وہ پلے کارڈ ایک طرف۔ وہ شور اٹھا، وہ شور اٹھا کہ اب تک تھم نہ سکا۔ کچھ لوگ پہلی بیوی سے ہمدردی کرتے ہوئے کہنے لگے، ’ایسی پریوں سی تھی، شوہر نے پھر بھی چھوڑ دیا، اس کی جگہ لایا بھی تو کسے، نہ ناک نہ نقشہ۔‘ کچھ لمحے قبل جس کی تعریف کر رہے تھے اب اسے خود ہی مظلوم اور بے چاری بنا دیا۔ ایسے تجزیے بتاتے ہیں کہ ہمارے ذہنوں میں موجود عورت کا تصور کافی بے چارہ سا ہے۔ ہمارے ناولوں، کتابوں، ڈراموں اور فلموں میں عورت کو کمزور اور بے چارہ ہی دکھایا جاتا ہے۔ ہم اس بے چارگی کو دیکھنے کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ اب کوئی مضبوط عورت دکھائی بھی دے تو دل اور دماغ اسے قبول ہی نہیں کر پاتے۔
ہم خود کو آزاد تو کہتے ہیں مگر یہ آزادی صرف ہماری ذات تک محدود ہوتی ہے، ہم نہ تو کسی کو اس کی مرضی سے جینے دیتے نہ ہی مرنے، باتیں کرنا اور بنانا ہمارا قومی مشغلہ ہے اور اگر بات عورت کی ہو تو ہم سے بڑا منافق معاشرہ بھی کوئی نہیں، زمانہ جاہلیت کے تمام معاملات ہم اپنی خواتین سے روا رکھتے ہیں بس زندہ درگور ہی نہیں کرتے۔
اگر کسی عورت کا شوہر بے وفائی کردے تو تب بھی عورت کو قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے کہ اسی میں کوئی کمی ہوگی یا اسے معلوم ہی نہیں کہ شوہر کو قابو کیسے رکھنا ہوتاہے، مرد ہو یا عورت وہ بالآخر بیوی کوہی موردالزام ٹھہراتے ہیں۔جبکہ ہمارے ناولوں، کتابوں، ڈراموں اور فلموں میں عورت کو کمزور اور بے چارہ ہی دکھایا جاتا ہے۔ ہم اس بے چارگی کو دیکھنے کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ اب کوئی مضبوط عورت دکھائی بھی دے تو دل اور دماغ اسے قبول ہی نہیں کر پاتے۔ہم ایسی عورت کا تصور ہی نہیں کر سکتے جو خود مختار ہو، اپنی زندگی کا ہر چھوٹا بڑا فیصلہ خود کرتی ہو، شوہر حق تلفی کرے تو اس سے سوال بھی کر لیتی ہو اور طلاق یا بیوگی کی صورت میں خود کو اور بچوں کو سنبھالنے کی اہلیت بھی رکھتی ہو۔
ہم اپنی بچیوں کے ہاتھ پاؤں توڑ کر انہیں شادی کے نظام میں دھکیلتے ہیں۔ ہم منہ سے بھلے نہ کہیں پر ہماری بیٹی کو پتہ ہوتا ہے کہ اب واپسی کا راستہ بند ہے۔ شوہر اور سسرال والے جیسا مرضی سلوک کریں، اسے اب ان ہی کے ساتھ رہنا ہے۔ غلطی سے کبھی کسی ناانصافی کی شکایت کر بھی دے تو آگے سے شوہر کی عظمت پر لمبا چوڑا لیکچر پلا دیا جاتا ہے۔ چپ چاپ بیٹھی رہو، اسی میں تمہاری عزت ہے، شوہر بات نہیں سن رہا تو ایک اور بچہ پیدا کر لو، پھر بھی نہ سدھرے تو تسبیح پھیر لو، اللہ نے چاہا تو کسی دن اس کا دل بھی پھیر دے گا، نہیں پھرا تو تمہیں معاشرے سے بہترین عورت کا تمغہ تو مل ہی جائے گا، اور کیا چاہیے تمہیں؟
صدیوں سے ہم اپنی بیٹیوں کو یہی پٹیاں پڑھا رہے ہیں۔ اب حال ایسا ہے کہ کسی کو ایسے حالات نہ بھی ملیں تو اسے اپنی شادی شادی ہی نہیں لگتی۔ حق مہر پر لڑنے والے نکاح نامے کا دوسرا صفحہ اپنے ہاتھوں سے کاٹ دیتے ہیں۔ نکاح سے پہلے نکاح ختم ہونے کی بات کرنا ہمیں بے وقوفی لگتا ہے۔ چھوٹا موٹا لین دین بھی کرنا ہو تو سو بار کاغذات دیکھتے ہیں لیکن جب بیٹی کی بات آئے تو دعا پر معاملہ نبٹا دیتے ہیں۔ محض دعاؤں کے سہارے رخصت ہونے والی ہماری بیٹیاں ساری عمر اپنا منہ بند کر کے رکھتی ہیں کیونکہ ان کے پاس دوسرا کوئی آپشن نہیں ہوتا۔جن کے پاس ہوتا ہے، ان کے اس آپشن کو استعمال کرنے پر ہم ہیں ہیں کرتے رہ جاتے ہیں۔ یہ کیسے ہو گیا؟ چلو ہوگیا تو اب خوش خوش کیوں پھر رہی ہو؟ رو کیوں نہیں رہی؟
عورت علیحدگی یا طلاق کا فیصلہ کر سکتی ہے اور اس فیصلے کے بعد نہ صرف موو آن کر سکتی ہے بلکہ خوش بھی رہ سکتی ہے، یہ ہمیں عقل سے ماورا لگتا ہے حالانکہ یہ سب اسی دنیا میں ہوتا ہے۔پچھلے پانچ ماہ میں پوری دنیا تبدیل ہو چکی ہے تو کیا خیال ہے ہم بھی کچھ تبدیل نہ ہو جائیں؟ زیادہ کچھ نہیں بس اپنے دماغ میں عورت کا تصور تھوڑا سا مضبوط کر لیں۔ اسے کچھ وٹامن کھلائیں، ساتھ خود بھی کھا لیں، امید ہے پھر آپ کو عورت بے چاری نہیں لگے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close