کرونا متاثرہ مائیں نوزائیدہ بچوں کو دودھ پلاسکتی ہیں، ڈبلیو ایچ او

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ کورونا وائرس میں مبتلا مائیں اپنے نوزائیدہ بچوں کو دودھ پلاسکتی ہیں۔اگرچہ پہلے بھی عالمی ادارہ صحت سمیت اقوام متحدہ کی بچوں سے متعلق ذیلی تنظیم یونیسیف کے علاوہ دیگر عالمی اداروں کے ماہرین بھی کہہ چکے تھے کہ کورونا کے خوف سے مائیں بچوں کو دودھ پلانا بند نہ کریں۔تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے واضح طور پر کہا ہے کہ کورونا کا شکار ہونے والی مائیں بھی بچوں کو دودھ پلاسکتی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیدروس ایڈہانوم نے دیگر عہدیداروں کے ساتھ 12 جون کو ورچوئل پریس بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ اب تک کی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ ماؤں کے دودھ میں کورونا موجود نہیں رہتا۔عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کورونا میں مبتلا نئی ماؤں کو نوزائیدہ بچوں کو لازمی طور پر اپنا دودھ پلانا چاہیے اور انہیں اپنے بچوں سے الگ بھی نہیں کیا جانا چاہیے۔ٹیدروس ایڈہانوم کے مطابق نوزائیدہ بچوں کو دودھ نہ پلانے کے نقصانات کہیں زیادہ ہیں اور بچے اس کے متحمل نہیں ہوسکتے۔
عالمی ادارے کے سربراہ کے مطابق انہوں نے کورونا میں مبتلا ماؤں کے دودھ میں کورونا کی موجودگی اور ان کی جانب سے بچوں کو دودھ دینے کے حوالے سے مفصل تحقیق کی۔انہوں نے کہا کہ حقائق اور تحقیق کے نتائج کی بنیاد پر عالمی ادارہ صحت نئی ماؤں کو تجویز دے رہا ہے کہ وہ بچوں کو دودھ پلاتی رہیں اور انہیں نوزائیدہ بچوں سے اس وقت تک الگ بھی نہ کیا جائے جب تک وہ انتہائی علیل نہ ہوں۔
ٹیدروس ایڈہانوم نے کہا کہ کورونا کا شکار ہونے والی اور کورونا کی مشکوک مریض ماؤں کو نوزائیدہ بچوں کو دودھ پلانے پر آمادہ کیا جائے اور اس حوالے سے ان کے خدشات کو دور کرتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ اب تک ہم سب جانتے ہیں کہ کورونا وائرس کم عمر بچوں کو اتنا متاثر نہیں کرتا، اس لیے مائیں نوزائیدہ بچوں کو دودھ پلائیں تاکہ انہیں دیگر مسائل سے بچایا جا سکے۔
ورچوئل پریس بریفنگ کے دوران عالمی ادارہ صحت کی ایک اعلیٰ عہدیدار انشو بینرجی نے بتایا کہ اب تک کی جانے والی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ نیا کورونا وائرس ماؤں کے دودھ میں موجود نہیں رہتا۔
خیال رہے کہ کورونا وائرس کی وبا دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے شروع ہوئی تھی اور اب تک دنیا بھر میں اس سے 77 لاکھ 89 ہزار سے لوگ متاثر ہوچکے ہیں جب کہ عالمی سطح پر اس سے 4 لاکھ 30 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔پاکستان میں بھی 14 جون کی دوپہر تک کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر ایک لاکھ 39 ہزار سے زائد ہوچکی تھی جب کہ اموات کی تعداد بھی بڑھ کر 2636 تک جا پہنچی تھی۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا کی وبا سے کم عمر بچے انتہائی کم تعداد میں متاثر ہوئے ہیں، اس وبا سے زیادہ تر 50 سال سے زائد عمر کے افراد متاثر ہوئے ہیں۔ماہرین صحت نے شروع سے ہی یہ تجاویز دی تھیں کہ ماؤں کو سخت احتیاطی تدابیر کے ساتھ نوزائیدہ بچوں کو دودھ پلانا چاہیے تاہم اب عالمی ادارہ صحت نے تصدیق کی ہے کہ کورونا میں مبتلا ہونے والی مائیں بھی بچوں کو دودھ پلا سکتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close