ثمر بلور نے خاوند کے خون کا بدلہ سیاست کے ذریعے لیا

دو سال قبل آج ہی کے دن جب ہارون بلور اپنے گھر سے نکل رہے تھے تو اُن کی اہلیہ نے انہیں رات جلدی گھر آنے کو کہا تھا، ہارون نے اپنی شریک حیات سے وعدہ کیا کہ وہ جلدی واپس آئیں گے، لیکن وہ کبھی گھر نہ لوٹ سکے۔
پاکستان میں سنہ 2018 میں عام انتخابات سے قبل پشاور کے علاقے یکہ توت میں ایک خودکش حملہ آور نے انتخابی مہم کے دوران ایک کارنر میٹنگ کو نشانہ بنایا جس میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما ہارون بلور 20 سے زیادہ کارکنوں کے ہمراہ جاں بحق ہو گئے۔ 10 جولائی 2020 کو ہارون بلور کی دوسری برسی منائی جا رہی ہے۔ دو برس بعد بھی ہارون کی اُن کی اہلیہ ثمر ہارون بلور اور ان کے خاندان کو یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انہیں کیوں اور کس نے نشانہ بنایا۔ تاہم اسی سال ہارون بلور کی اہلیہ نے انتخابات میں حصہ لے کر ’خاوند کے خون کا بدلہ لے لیا تھا۔‘
انتخابی مہم کے دوران اے این پی کے صوبائی اسمبلی کے امیدوار ہارون بلور کو اُس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ پشاور کے حلقے پی کے 78 کےلیے کارنر میٹنگ میں مصروف تھے۔ خاوند کی وفات کے بعد ان کی اہلیہ ثمر ہارون بلور نے سنہ 2018 کے ضمنی انتخابات میں اپنے شوہر کی جگہ لی اور انتخابات میں کامیاب ہوئیں۔ رواں برس چار جون کو عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی دفتر سے جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ایم پی اے ثمر ہارون بلور کو خیبر پختونخوا کےلیے پارٹی کی ترجمان مقرر کر دیا گیا ہے اور یوں گھر سے لے کر صوبائی اسمبلی اور اسمبلی سے لے کر پارٹی کے اعلی عہدے تک ثمر ہارون بلور نے اپنے خاوند کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔
خاوند کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے ثمر ہارون بلور کہتی ہیں کہ اس واقعے کے بعد اُن کو انتخابات اور سیاست سے نفرت ہوگئی تھی مگر بیٹے کے کہنے پر اُنہوں نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا۔ ’اُس وقت تو مجھے انتخابات اور سیاست کے لفظ سے نفرت تھی۔ میرے بڑے بیٹے دانیال نے سب سے پہلے یہ کہا تھا کہ میرے والد کی جگہ میری والدہ لیں گی۔‘
ثمر ہارون بلور کے مطابق خاندان، پارٹی اور حلقے کے لوگوں نے بھی اُنہیں انتخابات میں حصہ لینے کا کہا تھا۔ ثمر کہتی ہیں جب اُن کو اپنی کامیابی کا پتا چلا تو وہ اور سارے گھر والے رو رہے تھے۔ ’اُس رات میں اور ہمارے سارے گھر والے روئے اور جی بھر کر روئے۔ گھر میں اتنا رش تھا کہ پاؤں رکھنے کی جگہ نہیں تھی۔ ہم خوشی کے بجائے اُداس تھے۔‘ اس دو سالہ سیاسی سفر میں مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے ثمر کہتی ہیں کہ اُن کےلیے انتخابات میں حصہ لینا اور جیتنا آسان تھا لیکن جدوجہد تاحال جاری۔ وہ صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت کے سامنے حزبِ مخالف کے بینچز پر بیٹھ کر عوام کی خدمت کرنا چاہتی ہیں۔
’پارٹی اور حلقے کے عوام کی بلور خاندان کے ساتھ کئی عشروں سے جڑی محبت کی وجہ سے میرے لیے انتخابات میں حصہ لینا اور جیتنا اتنا مشکل نہ تھا۔ ہاں اس حکومت کے ساتھ اپوزیشن میں رہ کر بغیر فنڈ کے اپنی عوام کی خدمت کرنا میرے خیال میں یہ اصل جدوجہد ہے۔‘ پشاور کے اسی حلقے سے ثمر ہارون کے سسر بشیر احمد بلور 1990 سے 2008 تک مسلسل پانچ بار کامیاب ہوتے رہے۔ سنہ 2012 میں بشیر بلور کی وفات کے بعد اُن کے بیٹے ہارون بلور نے اس حلقے سے انتخابات میں حصہ لیا لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔ سنہ 2018 کے عام انتخابات میں وہ ایک مرتبہ پھر اُمیدوار بنے مگر انتخابات سے قبل ہی قتل کر دیے گئے۔
ہارون بلور پر حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔
تحریک طالبان نے اپنے ایک پیغام میں عوام سے کہا تھا کہ وہ ’اے این پی کے دفاتر، جلسوں اور کارنر میٹنگوں سے دور رہیں، ورنہ نقصان کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے۔‘
پشاور کا بلور خاندان عوامی نیشنل پارٹی کے لاکھوں کارکنوں کے ساتھ باچا خان کے فلسفہ عدم تشدد کا پیروکار ہے اور اس خاندان کے مطابق وہ گولی کی جگہ بیلٹ کی قوت پر یقین رکھتے ہیں۔
اس وقت غلام احمد بلور پشاور کے بلور خاندان کے سربراہ ہیں۔ وہ گزشتہ 33 سالوں سے اپنے اکلوتے بیٹے شبیر احمد بلور، اپنے بھائی بشیر احمد بلور اور بھتیجے ہارون بلور کی میتوں کو کندھا دے چکے ہیں۔ اے این پی کے مطابق ان تین رہنماؤں کو سیاست کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ غلام احمد بلور کے بیٹے شبیر احمد بلور کو سنہ 1997 کے انتخابات میں پولنگ اسٹیشن پر مخالف اُمیدوار کے حامیوں نے فائرنگ کر کے قتل کیا تھا۔
ثمر بلور کے مطابق بلور خاندان کو اسی لیے نشانہ بنایا گیا کیوں کہ اصل ہدف اے این پی کی سیاسی قوت تھی۔ وہ کہتی ہیں گزشتہ لگ بھگ دس سالوں میں اُن کی پارٹی کے ایک ہزار سے زیادہ سیاستدان اور کارکن قتل ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close