ملک میں کرونا کے ساتھ ٹائیفائیڈ کا خطرہ بھی منڈلانے لگا

کرونا کے ساتھ عوام کو ایک اور پریشانی کا سامنا ہے۔ملک میں کرونا کے ساتھ ٹائیفائیڈ کا خطرہ بھی منڈلانے لگا ہے اور اس سلسلے میں قومی ادارہ صحت نے صوبوں کو ہدایت نامہ جاری کردیا ہے۔
قومی ادارہ صحت کی جانب سے جاری ایڈوائزری کا مقصد متعلقہ حکام کو ٹائیفائیڈ سے متعلق بروقت خبردار کرنا ہے۔ ہدایت نامے کے مطابق متعلقہ حکام ٹائیفائیڈ کا پھیلاؤ روکنے کیلئے بروقت تیاری کریں، ملک میں 2016 سے مزاحتمی ٹائیفائیڈ کے کیس آ رہے ہیں۔ موسم گرما اور مون سون میں ٹائیفائیڈ کا پھیلاؤ زیادہ ہوتا ہے۔ مزاحمتی ٹائیفائیڈ پر تھرڈ جنریشن اینٹی بائیوٹک بے اثر ہیں۔ مزاحتمی ٹائیفائیڈ پر میرونیم ، میکرولائیڈ اینٹی بائیوٹک موثر ہے۔ مزاحتمی ٹائیفائیڈ کی بروقت تشخیص اور علاج ضروری ہے۔
ہدایت نامے میں کہا گیا کہ مزاحتمی ٹائیفائیڈ کی بروقت عدم تشخیص و علاج جان لیوا ہو سکتی ہے۔ ملک میں تین اقسام کے ٹائیفائیڈ بخار رپورٹ ہو رہے ہیں۔ تین دن بخار، پیٹ درد، اور قبض ٹائیفائیڈ کی علامات ہیں۔ ٹائیفائیڈ کا بیکٹریا منہ کے راستے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے۔ آلودہ پانی ،فروزن فروٹس، ناقص خوراک ٹائیفائیڈ پھیلاؤ کا سبب ہیں۔ ٹائیفائیڈ کے مریض سے دیگر افراد کو مرض لاحق ہو سکتا ہے۔ اسکول جانے والے بچے ٹائیفائیڈ کا آسان ترین ہدف ہے۔
قومی ادارہ صحت کی ایڈوائزری کے مطابق خون اور پیشاپ کے نمونے سے ٹائیفائیڈ کی تشخیص ممکن ہے۔ ٹائیفائیڈ بخار کا دورانیہ 6 تا 14 روز تک جاری رہتا ہے۔ ٹائیفائیڈ کا شکار بچوں میں علامات کم ظاہر ہوتی ہیں۔ ہیلتھ کیئر ورکرز کے ٹائیفائیڈ سے متاثر ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔ شہری ٹائیفائیڈ کی شکایت پر اسپتال، مرکز صحت سے رجوع کریں۔ ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کیلئے صفائی ستھرائی کا نظام بہتر بنایا جائے۔ واش روم استعمال کرنے کے بعد صابن سے ہاتھ دھوئیں۔ کھانا بنانے اور کھانے سے قبل صابن سے ہاتھ دھوئیں،کھانے سے قبل سبزی اور پھل کو اچھی طرح دھویا جائے۔ شہری ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کیلئے پانی ابال کر استعمال کریں۔ ہدایت نامہ میں یہ بھی تاکید کی گئی کہ بازار میں کھلے عام فروخت ہونے والی اشیاء استعمال نہ کریں۔ ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کیلئے بچوں کو بروقت ویکسین لگوائیں۔ ڈاکٹر ٹائیفائیڈ کے مشتبہ مریض کے علاج سے قبل کلچر ٹیسٹ کرائیں۔ ڈاکٹر ٹائیفائیڈ کیس سے متعلق ضلعی محکمہ صحت کو رپورٹ کرے۔ ڈاکٹر ٹائیفائیڈ کے مریض کو غیر ضروری اینٹی بائیوٹک تجویز نہ کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close