کراچی کے 2 اضلاع میں آج سے پولیو مہم کا آغاز

وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کراچی میں پولیو کی مہم کا آغاز کردیا، پولیو کی یہ مہم کراچی کے ضلع وسطی اور مغربی میں ہوگی۔ مہم کے آغاز کے موقع پر سیکریٹری صحت کاظم جتوئی، ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) کے کوآرڈینیٹر فیاض عباسی اور ٹیکنیکل فوکل پرسن ڈاکٹر احمد علی بھی موجود تھے۔ 20 جولائی سے کراچی کے 2 اضلاع میں شروع ہونے والی اس پولیو مہم کے دوران 2 لاکھ 60 ہزار بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔
خیال رہے کہ رواں سال میں اب تک ملک بھر سے پولیو کے 60 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے 21 خیبر پختونخوا، 20 سندھ، 15 بلوچستان اور پنجاب میں 4 کیسز رپورٹ ہوئے۔ رواں سال مارچ سے اب تک کووڈ 19 کے باعث نافذ کیے گئے سخت لاک ڈاؤن کے باعث انسداد پولیو مہم بری طرح متاثر ہوئی تھی۔
پاکستان نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جسمانی فاصلے کو برقرار رکھنے کی غرض سے عارضی طور پر ویکسی نیشن کی مہم کو معطل کردیا تھا، جن میں انسداد پولیو مہم بھی شامل تھی اس کے ساتھ ہی تمام تر توجہ کورونا وائرس سے جنگ کی جانب مبذول ہوگئی تھی۔ تاہم پاکستان میں وائلڈ پولیو وائرس (ڈبلیو پی وی ون) اور ویکسین سے اخذ شدہ پولیو وائرس ٹائپ ٹو (سی وی ڈی پی وی ٹو) پھیل رہا ہے، اور یہ 28 متاثرہ اضلاع میں 59 اور 47 کیسز تک پہنچ چکا ہے۔
اگر اس تعداد کا گزشتہ سال کے اسی عرصے سے موازنہ کیا جائے تو یہ تشویشناک ہے کیونکہ گزشتہ سال ڈبلیو پی وی کے کیسز کی تعداد 44 تھی جب کہ سی وی ڈی پی وی ٹو کے کیسز کی تعداد صفر تھی۔ مذکورہ صورت حال کے پیشِ نظر حکومت نے20 جولائی سے دوبارہ پولیو مہم کے آغاز کا فیصلہ کیا جس کے پہلے حصے میں فیصل آباد، اٹک، جنوبی وزیرستان، کراچی اور کوئٹہ کے کچھ علاقوں میں 5 سال سے کم عمر کے 8 لاکھ بچوں کو ویکسین فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا۔
اس حوالے سے ضروری اختیاطی تدابیر کو سامنے رکھتے ہوئے ویکسین فراہم کرنے والے رضا کاروں کو خصوصی طور پر ٹریننگ فراہم کی گئی ہے، جس میں دروازوں پر دستک دینا اور مارکیٹنگ، گھروں میں مطلوبہ جسمانی فاصلہ برقرار رکھنا، ویکسی نیشن کے دوران بچوں کے تحفظ کے لیے محفوظ طریقہ کار کو اپنانا شامل ہے۔
خیال رہے کہ پولیو ایک معتدی بیماری ہے جو پولیو وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے اور یہ بنیادی طور پر 5 سال تک کے عمر کے بچوں کو متاثر کرتی ہے، یہ اعصابی نظام پر حملہ آور ہوتی ہے اور اپاہج یا یہاں تک کے موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ اگرچہ پولیو کا کوئی علاج نہیں ہے لیکن بچوں کو اس بیماری سے محفوظ رکھنے میں ویکسی نیشن سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔
ہر مرتبہ 5 سال تک کی عمر کے بچے/بچی کو ویکسین دینا اس کے وائرس سے تحفظ کو بڑھا دیتا ہے۔ بار بار حفاظتی ٹیکوں نے لاکھوں بچوں کو پولیو سے محفوظ کردیا ہے اور دنیا بھر میں تقریباً تمام ممالک پولیو فری ہوچکے ہیں۔ تاہم دنیا میں صرف 2 ممالک پاکستان اور افغانستان ایسے ہیں جہاں پولیو کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔
اس موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ آج سے پولیو مہم شروع ہوئی ہے، عوام اس مہم کو کامیاب بنائیں، پولیو مہم کے دوران کوئی بچہ قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیو مہم کی کامیابی عوام اور پولیو ورکرز پر منحصر ہے، اور جو بچے جو گزشتہ مہم میں قطرے نہیں پی سکے تھے انہیں پولیو کے قطرے ضرور پلائے جائیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہمیں پولیو وائرس سے اپنے بچوں کو بچانا ہے، مجھے یقین ہے لوگ اپنے بچوں کو اپاہج بیماری سے بچانے کیلئے پوری کوشش کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خاص طور پر سندھ سے پولیو وائرس کا خاتمہ کرنا ہے۔ پولیو مہم کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے والدین سے گزارش کی کہ اپنے بچوں کے دو قطرے ضرور پلائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آپ کے بچوں کی حفاظت کے لیے ہے اور اس سلسلے میں ہمارا ساتھ دیں۔
کووِد 19 کے پیشِ نظر صوبائی وزیر صحت نے بتایا کہ پولیو ورکرز کو حفاظتی تدابیر کی آگاہی دی جائے گی اور ماسکس فراہم کیے جائیں گے تا کہ اس دوران وائرس سے حفاظت بھی یقینی رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close