پاکستانی غیر ثابت شدہ پلازما تھراپی کیلئے خطرہ مول لینے لگے

کووِڈ 19 کا شکار پاکستانی اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر خون کے پلازما کی منتقلی کے لیے بلیک مارکیٹ کنگھال رہے ہیں حالانکہ اس طریقہ علاج کے بارے میں بہت کم طبی شواہد ہیں۔
پلازما سے علاج کے اس طریقہ کار میں صحتیاب ہوجانے والے مریضوں کے خون سے اینٹی باڈیز سے بھرا ہوا حصہ حاصل کر کے اسے کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے اندر منتقل کیا جاتا ہے، اور سوشل میڈیا پر اس طریقہ علاج کی کامیابی کے دعووں کے سبب یہ پاکستان میں بہت مقبول ہورہا ہے۔ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی اس طریقہ علاج کے لیے طبی ٹرائلز جاری ہیں جس میں خاصی پیش رفت ضرور دکھائی دی گئی ہے البتہ ٹھوس ثابت ہونے سے کہیں دور ہے۔ تاہم ناقابل یقین رسائی اور وقت طلب ہونے کی وجہ سے لوگ بلیک مارکیٹ اور نجی کلینکس کا رخ کررہے ہیں جہاں خون کے محفوظ ہونے کی کوئی ضمانت نہیں۔
پاکستان سوسائٹی آف ہیماٹولوجی کا کہنا تھا کہ پلازما کو ضرورت سے زیادہ اجاگر کرنے کی وجہ سے عوام اور کچھ ماہرین صحت بھی اسے وائرس کے علاج کا معیاری طریقہ سمجھتے ہیں۔ سوسائٹی کا کہنا تھا کہ ’پلازما کے استعمال سے بعض صورتوں میں ایسا ردِ عمل اور انفیکشن ہوسکتا ہے جو زندگی کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے‘۔
نواز مراد لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک لیکچرر ہیں جنہیں ڈاکٹرز نے ان کے والد کی زندگی بچانے کے لیے آخری کوشش کے طور پر پلازما تھراپی کا مشورہ دیا تھا جس پر انہوں نے فیس بک کا سہارا لیا اور کچھ ہی گھنٹوں میں انہیں ایک ڈونر مل گیا۔ چنانچہ جلد از جلد علاج مکمل کرنے کے لیے اس خاندان نے خون کی اسکریننگ نہیں کروائی جس سے ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس کا خطرہ موجود تھا۔ نوید مراد نے بتایا کہ ’بلاشبہ یہ خطرہ مول لیے جانے کے قابل تھا کیوں کہ ہمارے پاس جلد از جلد پلازما لگانے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں تھا، یہ صورت حال غیر معمولی تھی اور میرے اہلخانہ سخت پریشان تھے‘۔
ڈونر نے یہ پلازما مفت عطیہ کیا لیکن نوید مراد کو گھر پر پلازما منتقل کروانے کے لیے ڈاکٹر کو 100 ڈالر یعنی 15 ہزار روپے سے زائد رقم ادا کرنی پڑی جب کہ کچھ نجی کلینک میں اس کام کے 50 ہزار روپے تک لیے جارہے ہیں۔
قانونی ماہر اسامہ ملک نے کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکام ’دوسری طرح دیکھ رہی ہیں‘ کیوں کہ غیر مجاز سینٹرز مہنگے داموں پلازما تھراپی کررہے ہیں اور مریضوں کی بڑی تعداد کے سبب 7 مجاز سینٹر کافی نہیں۔ نوید مراد کے والد اب صحتیاب ہیں اور رشتہ داروں کو یقین ہے کہ پلازما کے ذریعے علاج نے ان کی زندگی بچائی۔ کورونا وائرس کے علاج کےلیے پلازما تھراپی اب تک غیر ثابت شدہ ہے صرف کچھ تحقیق میں دیگر بیماریوں مثلاً ایبولا اور سارس سے ہونے والے انفیکشن کے علاج میں اس کی کامیابی کا ذکر ہے۔
فیس بک پر ’کورونا ریکورڈ واریئرز‘ کے نام سے گروپ چلانے والے زوریز ریاض سید خود بھی کورونا سے متاثر ہو کر صحتیاب ہوچکے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس گروپ نے ساڑھے 7 سو سے زائد افراد کو پلازما عطیہ کرنے والوں سے رابطہ کرنے میں مدد دی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا گروپ ’پورے پاکستان کو مرکزی پلیٹ فارم مہیا کررہا ہے‘ اور لوگ ملک کے خستہ حال ہیلتھ کیئر سسٹم سے زیادہ کمیونٹی پر بھروسہ کرتے ہیں۔
حکومت کے کلینکل پلازما ٹرائلز کی نگرانی کرنے والے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ حکومت کے لیے یہ تقریباً نا ممکن ہے کہ غیر مجاز منتقلی کو روکا جائے۔ انہوں نے کہا حکام بلیک مارکیٹ فروخت سے پریشان ہیں جہاں ڈیلرز تشویشناک مریضوں کے لیے فوری طور پر پلازما کا ایک بیگ فراہم کرنے کی ایک لاکھ سے زائد قیمت لے رہے ہیں۔
کورونا وائرس فیس بک گروپ نے ایسے بہت سے اراکین کو باہر کردیا جو اپنے پلازما کو فروخت کرنے کی کوشش کررہے تھے یہ کام پاکستان میں غیر قانونی اور عالمی اداری صحت کی ہدایات کی خلاف ورزی ہے۔ اس حوالے سے وزارت صحت کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا البتہ حکومت نے ایک ہاٹ لائن قائم کر رکھی ہے جہاں پلازما کے عوض رقم کی ادائیگی پر مجبور کیے جانے کی شکایت کی جاسکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close