شراب لائسنس کیس:نیب نے وزیراعلیٰ پنجاب کو سوالنامہ دے دیا

وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نیب لاہور میں پیش ہوگئے جہاں ان سے شراب کے غیر قانونی لائسنس جاری کرنے کے کیس میں تقریباً پونے 2 گھنٹے تک تفتیش کی گئی۔ نیب نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو سوالنامہ دے دیا ہے جس کے بعد وہ نیب دفتر سے واپس چلے گئے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک گھنٹہ 40 منٹ تک سوالات کے جواب د یئے نیب کی تفتیشی ٹیم نے سوالنامہ دیا اور جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے قومی احتساب بیورو(نیب) نے ان کو اختیارات سے تجاوز کی شکایات پر طلب کیا تھا وزیراعلیٰ پنجاب کے سابق پرنسپل سیکریٹری راحیل صدیقی بھی نیب میں پیش ہوئے۔
قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب قومی احتساب بیورو(نیب) لاہورکے دفتر بغیرپروٹوکول کے اکیلے پہنچے ان کے ساتھ کوئی وزیر‘مشیر یا رکن اسمبلی نہیں تھا‘ انہیں اختیارات سے تجاوز کی شکایات پر طلب کیا گیا تھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کو متعلقہ دستاویزات سمیت بیان ریکارڈ کرنے کےلیے کہا گیا تھا نیب کو شکایت موصول ہوئی تھی کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے شراب کا لائسنس جاری کیا نیب لاہور بیورو کو نجی ہوٹل کو خلاف قانون اور خلاف ضابطہ شراب کا لائسنس جاری کر کی خلاف درخواست موصول ہوئی۔
نیب دستاویزات کے مطابق شراب کے خلاف قانون لائسنس کے حصول کیلئے مبینہ طور پر 5 کروڑ کی رشوت دینے کا الزام ہے نجی ہوٹل نے شراب کی فروخت کیلئے ایل-2 کیٹگری لائسنس کے حصول کےلیے محکمہ ایکسائز میں درخواست دی تھی۔ نجی ہوٹل کی جانب سے پنجاب ٹورسٹ ڈیپارٹمنٹ سے پاکستان ہوٹل ایکٹ 1976 کے تحت 4-5 سٹار ریٹنگ کا لائسنس نہیں لیا گیا تھا ذرائع کے مطابق 4 اور 5 سٹارز ہوٹلز کے لائسنس سے متعلق 2009 میں سی ایم آفس سے پالیسی جاری کی جا چکی تھی جسکی خلاف ورزی کی گئی۔
سی ایم پالیسی کے تحت جس ہوٹل کے پاس 4 یا 5 اسٹار کی کیٹگری ہوگی صرف انکو لائسنس جاری کیا جا سکے گا سی ایم پالیسی 2009 کے تحت جن ہوٹلز کے پاس یہ کیٹگری نہیں ہو گی وہ لائسنس کے حصول کے اہل نہیں ہوں گے۔ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ نے سی ایم پالیسی 2009 کیخلاف ورزی کرتے ہوئے نجی ہوٹل کو لائسنس جاری کیا گیا محکمہ ایکسائز پنجاب کی جانب سے 2019 میں خلاف قانون نجی ہوٹل کو لائسنس جاری کیا گیا نجی ہوٹل کے پاس اس وقت پنجاب ڈپارٹمنٹ ٹورسٹ کا لائسنس بھی موجود نہیں تھا۔
ایکسائز ڈپارٹمنٹ نے سی ایم آفس کو 3 بار مذکورہ کیس ریفر کرتے ہوئے معاملہ کی نزاقت سے آگاہ بھی کیا تاہم سی ایم آفس محکمہ ایکسائز کو نجی ہوٹل کا لائسنس روکنے میں ناکام رہا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی پیشی سے قبل نیب آفس کے باہر سکیورٹی سخت کر دی گئی اور غیر اہم افراد کو اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا تھا کہ نیب اگر دس بار بھی بلائے تو جاﺅں گا اور ہر چیزدکھاﺅں گا انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت پرشروع دن سے ہی تنقید کی جارہی ہیں ہمارے خلاف منظم پراپیگنڈا کیا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوا نیب میں بھی پیش ہوں گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button