71 کی جنگ میں بھارتی ٹینک تباہ کرنے والے کرنل جوزف چل بسے

1971 کی پاک بھارت کے ناقابل فراموش ہیرو لیفٹیننٹ کرنل ڈیرک جوزف خاموشی سے دنیا چھوڑ گئے۔ پشاور میں آخری سانسیں لینے والے جوزف کے اجداد کا تعلق آرمینیا سے تھا لیکن انہوں نے اسی دھرتی کو گھر بنایا اور یہیں دفن ہونا پسند کیا۔ 1971 کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی جانب سے لڑتے ہوئے انڈیا کے سات ٹینک تباہ کرنے کا کارنامہ سرانجام دینے والے لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ ڈیرک جوزف 29 جولائی 2021 کو پشاور میں فوت ہوئے ہیں۔ کرنل جوزف کا شمار پاکستانی فوج کے اُن افسروں میں ہوتا تھا جنھوں نے نہ صرف جنگوں میں اپنی بہادری سے نام کمایا بلکہ اپنے کردار اور اخلاق سے اپنے مداحوں اور دوستوں کی ایک بڑی تعداد کو افسردہ چھوڑا ہے۔
کرنل ڈیرک جوزف 13 نومبر 1945 کو پیدا ہوئے اور 20 اپریل 1969 کو پاکستانی فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ کرنل جوزف کے بھائی اور پشاور کے ایڈورڈز کالج کے ریٹائرڈ پروفیسر ڈینس جوزف نے بتایا کہ ان کا خاندان آرمینیا سے افغانستان آیا اور بعد ازاں جب انگریزوں کی فوجیں افغانستان سے واپس جانے لگیں تو ان کے خاندان نے سرحد کے اس پار آج کے پاکستانی شہر پشاور میں رہنے کو ترجیح دی۔ پروفیسر ڈینس کے مطابق ان کے والد ڈاکٹر پال جوزف پشاور کے مشہور مشن ہسپتال میں جنرل سرجن تھے جو یہاں لوگوں کا علاج جبکہ ان کی والدہ مختلف کالجز میں انگریزی پڑھاتی تھیں۔ پروفیسر ڈینس جوزف کے مطابق مرحوم اپنے گھر میں اکیلے رہتے تھے اور وہ انھیں روزانہ صبح کال کر کے ان کی خیریت معلوم کرتے تھے۔ تاہم جب 29 جولائی کی صبح انھوں نے فون کال اٹینڈ نہیں کی تو یہ ان کے گھر پہنچ گئے۔ جب بند دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے تو کرنل جوزف مردہ حالت میں پڑے ہوئے تھے۔
کرنل جوزف کے دوست بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد سعد نے بتایا کہ کرنل جوزف کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے اس بات کے واضح امکانات تھے کہ وہ جنرل کے عہدے تک پہنچیں گے تاہم انہوں نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج جانے کے بجائے ڈیپوٹیشن پر متحدہ عرب امارات کی فوج میں جانے کو ترجیح دی جہاں پر انھوں نے اگلے تین سال تک خدمات سرانجام دیں۔ کرنل جوزف کی زندگی میں ان سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ بریگیڈیئر سائمن شرف کہتے ہیں کہ انھوں نے 1971 کی پاکستان اور انڈیا کی جنگ میں چونڈہ ظفروال بڑا پنڈ کے محاذ پر انڈین فوج کے قدم اکھاڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔‘ سائمن شرف کے مطابق کرنل جوزف نے انڈین فوج کے سات ٹینک تباہ کیے جس پر بعد میں انھیں تمغہ جرات سے نوازا گیا۔ شرف کہتے ہیں کہ اس جنگ کے دوران کرنل جوزف کے ایک ٹینک کو دشمن نے نشانہ بنایا تو وہ تباہ ہو گیا جس کے بعد انھوں نے دوسرے ٹینک میں بیٹھ کر جنگ لڑی تو وہ بھی تباہ کر دیا گیا اور اس حملے میں وہ خود بھی زخمی ہو گئے تھے۔ تاہم اس کے باوجود انھوں نے ہمت نہیں ہاری اوراپنا نام بہادروں کی فہرست میں لکھوا کر ہی رہے۔
فیس بک پر متعدد سابق فوجیوں اور سویلینز نے کرنل جوزف کو ایک حقیقی اور بہادر سپاہی قرار دیتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا۔ کرنل جوزف کے خاندان کا تعلق آرمینیا سے ہونے پر سوشل میڈیا پر بعض لوگوں نے حیرت کا بھی اظہار کیا کہ ہمیں معلوم ہی نہیں تھا کہ کیسے کیسے لوگ اس دھرتی کے بیٹے بن کر اس کی خدمت کر رہے ہیں۔ ایک سوشل میڈیا صارف طیب ہوتی نے لکھا کہ وہ کرنل جوزف سے آرمڈ کور سینٹر نوشہرہ میں سنہ 1994 میں ملے تھے جہاں پر انھیں تقریب شروع ہونے سے پہلے قرآن پاک کی تلاوت کا موقع ملا تھا۔ طیب ہوتی بتاتے ہیں کہ جب تک وہ تلاوت کرتے رہے تھے تو کرنل جوزف اس دوران تلاوت کے احترام میں سٹیج پر کھڑے رہے۔ لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ ڈیرک جوزف کو پشاور کے گورا قبرستان میں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔
