آسٹریلوی کسٹم نے 30 لاکھ روپے کا قیمتی بیگ تلف کردیا

آسٹریلیا کے ایک صارف کو زندگی بھر کا مہنگا ترین سبق اس وقت ملا جب اس کی جانب سےخریدا گیا مگرمچھ کی کھال سے بنا قیمتی ہیڈ بیگ کسٹم اہلکاروں نے تلف کردیا۔
سان لورن کمپنی کے تیار کردہ بیگ کو آسٹریلیا میں منگوانے کا مناسب لائسنس نہیں تھا۔ آسٹریلوی بارڈر فورس ( اے بی ایف) نے فرانس سے آن لائن خریدا گیا ایک بیگ اپنے قبضے میں لیا تھا جس کےلیے صارف نے 26,313 آسٹریلوی ڈالر کی رقم ادا کی تھی۔ اگرچہ آسٹریلیا میں مگرمچھ کی کھال کی مصنوعات منگوائی جاسکتی ہیں لیکن اس کےلئے ’کنوینشن آن انٹرنیشنل ٹریڈ ان اینڈیجرڈ اسپیشیز آف وائلڈ فونا اینڈ فلورا‘ ( سی آئی ٹی ای ایس) کے تحت یقین دہانی کرانی پڑتی ہے کہ اسے اسمگلنگ اور غیرقانونی شکار سے حاصل نہیں کیا گیا ہے۔
اگرچہ خاتون کے پاس یورپ سے منگوانے کا لائسنس تو تھا لیکن اس کے پاس سی آئی ٹی ای ایس کاغذات نہیں تھے۔ اسی بنا پر بیگ قبضے میں لے لیا گیا اور خاتون کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ اس موقع پر وزیرِ ماحولیات نے درآمد کنندگان کو انتباہ کیا کہ وہ ملک میں بعض اشیا منگوانے کےلیے درست ترین لائسنس اپنے پاس رکھیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سی آئی ٹی ای ایس لائسنس کی قیمت صرف 50 ڈالر ہے اور اس کی خاطر ہزاروں ڈالر کا بیگ ضبط ہوا۔ بعد ازاں کسٹم حکام نے بیگ تلف کردیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close