ریپ کیس میں موٹروے بنانے کا کریڈٹ لینے کی بھونڈی کوشش

لاہور، سیالکوٹ موٹروے پر ہونے والے ریپ کے بعد لاہور کے سی سی پی او سے لے کر وزیرِ اعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گل تک کئی اہم شخصیات اپنے بیانات یا ٹویٹس کے باعث تنقید کی زد میں ہیں۔ان ناموں میں تازہ ترین اضافہ قائدِ حزبِ اختلاف اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا ہے جنھوں نے پیر کو پارلیمان میں تقریر کرتے ہوئے ریپ کے واقعے کا ذکر کرتے کرتے جس موٹر وے پر یہ واقعہ پیش آیا اس کی تعمیر کا کریڈٹ بھی لے ڈالا۔
شہباز شریف نے اپنی تقریر میں گذشتہ ڈھائی برس میں ہر معاملے پر ’غفلت برتنے پر‘ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سپیکر سے اس واقعے کی انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ’چونکہ یہ اندوہناک واقعہ سیالکوٹ موٹروے پر پیش آیا، تو میں سمجھتا ہوں کہ یہاں پر یہ کہنا غیر مناسب نہیں ہو گا کہ یہ موٹروے بھی میاں نواز شریف کی سربراہی میں مسلم لیگ (ن) نے بنائی۔‘شہباز شریف کی تقریر کے کچھ دیر بعد ہی سوشل میڈیا پر ان کے کلپ وائرل ہو گئے اور ان کے سیاسی مخالفین کے علاوہ عوام بھی انھیں تنقید کا نشانہ بنانے لگے۔
اس سب کے نتیجے میں قومی اسمبلی میں کی جانے والی ایک اور تقریر سے توجہ ہٹ گئی جو شاید موقع کی مناسبت سے زیادہ بروقت تھی۔ یہ تقریر وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی جانب سے کی گئی اور اسے سننے کے بعد سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ وہ ڈاکٹر مزاری کے مداح ہو گئے ہیں۔ اس تقریر کا احوال کچھ آگے چل کر۔ تاہم شہباز شریف کی تقریر اتنی وائرل ہوئی کہ اسے پاکستان تحریکِ انصاف کے ٹوئٹر ہینڈل سے بھی شیئر کیا گیا۔

ایک منٹ کی اس ویڈیو میں جہاں ایک طرف 41 سیکنڈ تک مراد سعید کو بولتے دکھایا گیا ہے، وہیں اگلے 18 سیکنڈ میں شہباز شریف کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’چونکہ یہ اندوہناک واقعہ سیالکوٹ موٹروے پر پیش آیا، تو میں سمجھتا ہوں کہ یہاں پر یہ کہنا غیر مناسب نہیں ہو گا کہ یہ موٹروے میاں نواز شریف کی سربراہی میں مسلم لیگ (ن) نے بنائی۔‘جی ہاں! آپ نے صحیح پڑھا، قائدِ حزبِ اختلاف نے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا یہ موقع بھی ہاتھ سے جانے نہ دیا۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ اسی تقریر میں انھوں نے سی سی پی او لاہور کے متنازع بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’پوری قوم حیران تھی کہ بجائے اس کے کہ مجرموں کو گرفتار کرنے کے لیے تمام توانائیاں صرف کر دی جاتیں۔۔۔ اس وقت ایک پولیس افسر ایسے بیانات دے رہے تھے جو کوئی ذی شعور شخص سوچ بھی نہیں سکتا۔‘
اس کے بعد شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں مکمل ہونے والے دوسرے منصوبوں کا بھی ذکر کیا جن میں ڈولفن پولیس فورس، اینٹی ٹریررسٹ فورس اور فورنزیک لیبارٹری کا قیام جیسے کام شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا: ’تحریک انصاف لاکھ تختیاں لگاتی پھرے، مگر قوم جانتی ہے کہ عوامی خدمت کے منصوبوں پر کس کے دورِ حکومت میں کام ہوا۔‘

پھر کیا تھا؟ ایسے نازک موقع پر اور ایسے حساس موضوع پر بات کرتے ہوئے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کرنے کی یہ کوشش سوشل میڈیا صارفین کو قطعاً نہ بھائی اور انھوں نے بڑھ چڑھ کر اس پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔


اے آر وائی سے وابستہ ’سوال یہ ہے‘ شو کی میزبان ماریہ میمن نے 18 سیکنڈ کا کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا ’کیا یہ شخص واقعی سنجیدہ ہے؟ شہباز شریف یہاں کیا کہنے کی کوشش کر رہے ہیں؟‘ساتھ ہی ماریہ میمن نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’خواجہ آصف بھی اس غیر حساس بیان کی تائید کر رہے ہیں۔‘

صحافی عاصمہ شیرازی نے بھی یہی کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا ’انتہائی غیر ضروری اور ناقابل قبول بیان ہے۔ خاتون سے زیادتی کے ذکر کے دوران موٹروے کی تعریف سمجھ سے بالاتر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سیاسی رہنماؤں کی اکثریت ان واقعات کی حساسیت نہیں سمجھتی۔ شہباز شریف صاحب کا یہ بیان مزید تکلیف کا سبب بنا ہے۔‘

اسی حوالے سے شہباز گل نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’اب دیکھتے ہیں کون شہباز شریف کو ہٹانے کا مطالبہ کرتا ہے۔ سی سی پی او کے غلط بیان کا بُرا ماننا بھی درست تھا۔ لیکن قائد حزب اختلاف کی اس قدر اخلاق سے گری ہوئی بات پر ان سے استعفی لینا چاہیے اور 30 دن کے لیے اسی موٹر وے پر رات کے وقت گشت کروانا چاہیے۔ دوہرے معیار نہیں چلیں گے۔‘اس ٹویٹ پر جواباً صحافی اجمل جامی نے شہباز گِل صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا: ’لیکن کیا آپ نے سی سی پی او سے استعفی لیا۔۔۔۔؟؟ ان سے استعفی لیا ہوتا تو آج اپوزیشن لیڈر سے استعفے کا مطالبہ انتہائی جاندار ہوتا۔‘
جہاں شہباز شریف پر متعدد حلقوں سے تنقید کی جا رہی ہے اور کئی صارفین ان کے استعفے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں، وہیں ان کی حمایت میں لکھنے والے کہتے ہیں: ’شہباز شریف نے کہا تھا کہ نواز شریف کی بنائی ہوئی موٹر وے پر اس حکومت کی کوئی سیکیورٹی نہیں۔ سارے ملک کو اخلاق باختہ لوگوں کے حوالے کر دیا گیا ہے جو جرم ہونے پر مظلوم کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔‘
اگرچہ گذشتہ روز قومی اسمبلی کی کارروائی پر زیادہ تر ردعمل شہباز شریف کے بیان پر آیا مگر وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی تقریر یقیناً دن کی سب سے قابلِ ذکر تقریر تھی۔شیریں مزاری نے لاہور ریپ پر اپنی رائے کا اظہار کچھ یوں کیا: ’میں نے سیاست اور پولیس پر بحث سنی ہے لیکن میں یہاں ایک عورت کی حیثیت سے بات کرنا چاہتی ہوں۔‘


ان کا کہنا تھا کہ ’ایک عورت کو اس طرح نہ کہیں کہ کسی کی ماں ہے، کسی کی بیٹی ہے، بلکہ ایک عورت کو عورت کی حیثیت سے عزت دیں اور اسے وہی سب حقوق دیں جو مردوں کو ملتے ہیں۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میری عزت اس واسطے نہیں ہونی چاہیے کہ میں کسی کی بیٹی ہوں یا کسی کی بیوی ہوں یا کسی کی بہن ہوں۔ میری عزت بحیثیت ایک عورت ہونی چاہیے کیونکہ میں ایک عورت اور اس ملک کی شہری ہوں۔‘شیریں مزاری کا کہنا تھا ’یہ کسی کا حق نہیں بنتا کہ وہ ایسی باتیں کرے کہ آپ اس طرح کا لباس پہنںیں، آپ اس طرح سفر کریں، آپ کسی محرم کو لے کر جائیں، یا آپ اکیلی کیوں سڑک پر پھر رہی ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ایک مرد اپنی نظر نیچے نہیں رکھ سکتا اور عورت کو عزت سے نہیں دیکھ سکتا تو اس کو گھر میں بند کریں اور سڑکوں پر نکلنے نہ دیں۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close