ریپ کے بعد صلح کرنے پر مجبور کیوں کیا جاتا ہے؟‘

اپنی بیٹی کے ریپ کیس کی سماعت کے لیے عمیمہ (فرضی نام) گذشتہ چھ ماہ سے عدالتوں کے چکر لگا رہی ہیں، لیکن اُن کے بقول یہاں اُن کی سننے والا کوئی نہیں ہے۔
عمیمہ کے مطابق اس عرصے میں پولیس کیسے انھیں یہ باور کروانے کی کوششوں میں مصروف رہی کہ اُن کی بیٹی کے ریپ کا کیس کافی کمزور ہے۔ عمیمہ کا کہنا ہے کہ اُن کی بیٹی کو اُن ہی کے خاندان کے ایک لڑکے نے چھ ماہ پہلے ریپ کیا تھا اور پھر وہی ملزم برادری والوں کو اپنی شادی اُن کی بیٹی سے کروانے پر مجبور کرتا رہا۔ لیکن عمیمہ اپنی بیٹی کے ساتھ ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہتیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’پولیس نے مجھے اور میری بیٹی کو بٹھا کر کہا کہ صلح کر لو، ہمارا (یعنی پولیس کا) یہی طریقہ ہے کہ فریقین کو آمنے سامنے بٹھا کر ان کی بات چیت کروائیں اور صلح کروا دیں۔ میں نے انھیں کہا کہ یہ تو قانون کے خلاف ہے۔۔۔میں نے بڑی مشکل سے بچے بڑے کیے ہیں، اب مجھے صرف انصاف چاہیے۔‘
حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ہر روز ریپ کے دس مقدمات درج ہوتے ہیں۔ عمیمہ کی بیٹی کا کیس ان سینکڑوں مقدموں میں سے ایک ہے۔اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سات ماہ کے دوران پنجاب میں ریپ کے 2043 کیسز درج ہوئے ہیں جن میں سے صرف 1371 میں چالان جمع ہوئے۔ چالان ہونے والے کیسز میں سے 295 کیسز پر تفتیش جاری ہے جبکہ 375 مقدمات مختلف وجوہات کی بنیاد پر منسوخ کر دیے گئے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ پنجاب میں ہر ماہ ریپ کے 292 جبکہ ہر روز لگ بھگ ریپ کے دس مقدمات درج ہوتے ہیں لیکن قانونی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ صوبے میں ریپ کے واقعات کی اصل تعداد باقاعدہ رپورٹ ہونے والے کیسز سے کہیں زیادہ ہے۔
گذشتہ چند دنوں میں جو واقعہ اربابِ اختیار کی توجہ حاصل کر پایا ہے وہ لاہور کے قریب موٹروے پر پیش آنے والا ریپ کا واقعہ ہے۔اگرچہ پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ سے لے کر آئی جی تک، صوبے کی پوری انتظامی مشینری اس کیس کو حل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے مگر اس کے باوجود چند قانونی ماہرین اس کیس کے مختلف مراحل میں پولیس کی غفلت کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ریپ مقدمات پر کام کرنے والے ایڈوکیٹ سپریم کورٹ سید فرہاد علی شاہ اس نوعیت کے تمام مقدمات میں پیشرفت نہ ہونے کا ذمہ دار پولیس اور دیگر ریاستی اداروں کو ٹھہراتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر گھر والے متاثرہ فرد کو سپورٹ کر بھی رہے ہوں پھر بھی ملک میں رائج تھانہ کچہری کلچر کبھی بھی متاثرہ شخص کو سپورٹ نہیں کرتا، بالخصوص خواتین کو تو بالکل بھی نہیں۔ موٹروے معاملے میں بھی یہی کیا گیا جس کے نتیجے میں پہلے دن سے کیس ملزمان کے حق میں جاتا نظر آ رہا ہے۔‘
انھوں نے اپنی بات کی مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’موٹروے کیس میں پولیس اور ریاست اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔ یعنی اگر متاثرہ خاتون اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتیں تھیں تب بھی رائج قوانین کے تحت یہ ممکن بنایا جا سکتا تھا کہ وہ اپنی بات انھیں بتا سکے اور پھر پولیس اپنی مدعیت میں یہ مقدمہ درج کرتی، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔‘انھوں نے کہا کہ اگر یہ معاملہ میڈیا میں زور نہ پکڑتا تو عمومی طور پر ایسے کیسز کی تفتیش پر معمور اہلکار ملزمان کا پتا چلانے کے لیے جیو لوکیشن، جیو فینسنگ اور ڈی این اے جیسے جھنجھٹ میں نہیں پڑتے۔’عام طور پر کسی بھی ریپ کے واقعے کی تفتیش میں ایسا نہیں کیا جاتا (یعنی اتنے وسائل بروئے کار نہیں لائے جاتے) بلکہ زیادتی یا ریپ کے بعد صلح کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔‘
موٹروے ریپ کیس کے تناظر میں حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود ملک بھر میں مختلف تنظیموں، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور بڑا مطالبہ یہ کیا جا رہا ہے کہ پولیس اہلکاروں کی سوچ بدلی جائے۔یہ مطالبات تب سامنے آئے جب لاہور پولیس کے سربراہ عمر شیخ نے موٹروے ریپ واقعے کے تناظر میں کہا تھا کہ متاثرہ خاتون نے موٹروے کے بجائے جی ٹی روڈ کا راستہ کیوں نہیں چنا اور یہ کہ انھیں گھر سے نکلنے سے پہلے گاڑی میں پیٹرول چیک کرنا چاہیے تھا۔لبرٹی چوک پر اتوار کے روز احتجاج کرتے ہوئے ایک رضاکار سعیدہ شوال نے کہا کہ ’ہمارا مطالبہ ہے کہ سب سے پہلے وِکٹم بلیمنگ پاکستان سے ختم کی جائے۔ جس کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے اس پر الزام لگانا، اس کے بارے میں بُرا بولنا، یہ سب کچھ بند ہونا چاہیے۔‘لیکن ایسا ہوتا نظر عملاً نظر نہیں آ رہا اور روز روز عدالتوں کے چکر لگاتی ریپ کا شکار خواتین اس کا واضح ثبوت ہیں۔ایڈووکیٹ فرہاد کا کہنا ہے کہ اگر موٹروے واقعہ بھی میڈیا میں رونما ہونے سے پہلے سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر نہیں اٹھایا جاتا تو دیگر سینکڑوں ریپ مقدمات کی طرح یہ معاملہ بھی گمنامی میں رہتے ہوئے کب کا فارغ کر دیا جاتا۔
دوسری جانب اگر لاہور، سیالکوٹ موٹروے کی بات کی جائے تو یہ سڑک کسی سنسان علاقے میں نہیں بلکہ آبادی کے درمیان سے گزرتی ہے۔ مقامی آبادی کے زیادہ تر لوگ مزدور پیشہ اور کاشتکار ہیں۔ بہت سے مقامی افراد بھی اسں علاقے میں آئے روز ہونے والی چوری اور ڈکیتیوں کی وارداتوں پر سخت نالاں ہیں۔یہاں پر ہونے والے ریپ کے واقعے کے بعد کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جیسا کہ اس 90 کلومیٹر طویل موٹروے پر پولیس موجود کیوں نہیں تھی؟ حکام کے مطابق ابھی تک موٹروے پولیس کو اس سڑک کی پیٹرولنگ کی ذمہ داری نہیں دی گئی ہے۔دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ اگر یہ موٹروے پولیس کے ذمے نہیں تھا تو پھر تاحال یہاں پر رونما ہونے والے کسی بھی واقعے کی رپورٹ کہاں درج کروائی جائے؟اس بات کا جواب اسی موٹروے کے دوسری طرف لاہور واپس جانے والی سڑک پر ملا۔ اتوار کے روز یہاں دوپہر میں دو اہلکار گجرپورہ تھانے کا بورڈ نصب کرتے نظر آئے۔موٹروے ریپ واقعے کے پانچ روز گزرنے کے بعد اب جا کر گجرپورہ تھانے کا بورڈ یہاں نصب کیا جا رہا ہے۔بورڈ لگانے والے پولیس کانسٹیبل علی نے بتایا کہ ’یہاں سے سیالکوٹ جانے والوں کو نہیں پتا کہ یہاں تھانہ ہے، اس بورڈ کے لگنے کے بعد انشااللہ آئندہ ایسے کیسز نہیں ہوں گے۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close