موٹروے پر گینگ ریپ ہونے والی خاتون کا عمر شیخ کو ہٹانے کا مطالبہ


عام عوام کے بعد اب موٹروے پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون نے بھی سی سی پی او لاہورعمر شیخ کو انکی غیر مہذب گفتگو کی وجہ سے فوری ہٹانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ عمر شیخ کے منفی ریمارکس نے اسکے زخموں پر نمک چھڑکا ہے اور وہ ایسے شخص کو کبھی معاف نہیں کریں گی۔
گینگ ریپ کا نشانہ بننے والی بدقسمت خاتون سے گفتگو کے بعد خاتون صحافی فریحہ ادریس نے انکشاف کیا ہے کہ متاثرہ خاتون نے عمر شیخ جیسے پولیس افسران کی موجودگی میں پاکستانی معاشرے کی ہر عورت کو غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے شخص کو فوری طور پر اس کے عہدے سے ہٹایا جائے. فریحہ نے انکشاف کیا کہ وقوعہ سے قبل خاتون نے موٹر وے ہیلپ لائن پر کال کرکے ہزار روپے کا پٹرول فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔ پٹرول آنے کے انتظار میں انہوں نے ایک ہزار روپیہ گاڑی کے ڈیش بورڈ پر رکھا تھا لیکن حیران کن طور پر ملزمان اس اندوہناک واردات کے دوران وہ ہزار روپیہ گاڑی کے ڈیش بورڈ پر ہی چھوڑ گئے۔ وہ جانتے تھے کہ خاتون نے ہیلپ لائن پر کال کر کے ایک ہزار روپے کا پٹرول منگوا رکھا ہے اس لیے انہوں نے وہ ہزار روپیہ ڈیش بورڈ پر ہی پڑا رہنے دیا تاکہ خاتون اس واقعے کے بارے میں کسی کو بتائے بغیر اپنے گھر پہنچ جائے۔ ملزمان کا بنیادی مقصد خاتون کو ریپ کرنا تھا اسی لیے جب خاتون نے انکے ساتھ سڑک سے نیچے اتر کر گھاٹی میں جانے سے انکار کیا تو ملزمان اس کے بچوں کو لے کر گھاٹی میں اتر گئے جس کے بعد اسے بچوں کی خاطر ان کے پیچھے جانا پڑا جہاں اسکا ریپ کیا گیا۔ فریحہ ادریس کے مطابق متاثرہ خاتون نے سی سی پی او عمر شیخ کی جانب سے انہیں مورد الزام ٹھہرائے جانے کے بعد معافی مانگنے کو ناقابل قبول قرار دیا ہے اور یہی اصرار کیا ہے کہ ایسے شخص کو اتنے اہم منصب سے فوری طور پر ہٹا دیا جانا چاہیے۔
فریحہ نے موٹر وے گینگ ریپ کا شکار ہونے والی خاتون سے تفصیلی گفتگو کے بعد ایک تھریڈ ٹوئٹ کرتے ہوئے ایک نیا پینڈورا باکس کھول دیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات میں توجہ دینے کے لئے کچھ اور نکات بھی ہیں جن کی ہر پہلو سے تحقیق ہونی چاہیے۔ وہ کہتی ہیں کہ ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون ایک پڑھی لکھی اور پراعتماد خاتون تھیں جو کہ غلط وقت پر غلط جگہ موجود تھیں اس لیے ایف آئی آر کس نے کرائی وغیرہ وغیرہ جیسی گمراہ کن اور کیچڑ اچھالنے والی توڑی موڑی گئی تفصیلات سے گریز کرنا چاہیے۔ تفتیش کاروں کو اس امر کی بھی تفتیش کرنی چاہیے کہ حملہ آور خاتون کے اکیلے ہونے اور اس کی مدد کو کسی کے نہ آنے بارے میں اتنے پر اعتماد کیسے تھے؟ اور یہ کہ وہ کیسے جانتے تھے کہ ان کے پاس کتنا وقت ہے کیونکہ عام حالات میں سڑک کنارے ڈکیتی یا چوری تو ہوسکتی ہے ریپ کی گنجائش کم ہی ہوتی ہے۔ فریحہ کے مطابق ملزمان نے کار چھیننے یا قیمتی سامان یعنی فون، بیگ ، زیور اور رقم لوٹنے میں ذیادہ دلچسپی نہیں دکھائی بلکہ وہ جنسی زیادتی ہی کرنا چاہتے تھے۔
فریحہ نے واردات کے حوالے سے لکھا کہ خاتون ٹال پلازہ پر پہنچیں اور انہوں نے ٹول ٹیکس دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے ٹول والے سے قریبی پٹرول پمپ کے حوالے سے استفسار کیا تا کہ وہ پٹرول ڈلوا سکیں۔ اسکے بعد وہ آگے بڑھ گئیں لیکن ان کی کار کچھ ہی دور جا کر وقوعے کی جگہ پر رک گئی۔ تب انہوں نے موٹروے ہیلپ لائن پر کال کی جہاں سے ان کی مدد کرنے سے معذرت کی گئی لیکن انہیں ایک لوکل نمبر دیا گیا۔ ہیلپ لائن پر موجود شخص نے واٹس ایپ پر ان سے رابطہ قائم کر کے ان کی لوکیشن حاصل کی۔ اور انہیں انتظار کرنے کو کہا۔اس شخص نے انہیں پوچھا کہ انہیں کتنی رقم کا پٹرول درکار ہوگا۔خاتون نے بتایا کہ انہیں ایک ہزار روپے کا پیٹرول چاہیے۔ پھر خاتون نے 90 منٹ تک انتظار کیا لیکن کوئی نہ آیا۔ اڑھائی بجے کے قریب ایک ٹرک انکی کار کے قریب پہنچا اور کھڑا ہو گیا۔ اس میں سے ایک شخص اترا اور اس نے گاڑی کے قریب آ کر اس کے اندر جھانکنا شروع کر دیا۔ خاتون اسی دوران یہ سمجھنے کی کوشش کرتی رہی کہ یہ شخص کون ہے؟ لیکن کچھ دیر کے بعد وہ ٹرک میں بیٹھا اور چلا گیا۔ تب 2 بج کر 44 منٹ ہو چکے تھے۔ ٹرک کے جانے کے دو منٹ بعد ہی حملہ آور نمودار ہو گئے جنہوں نے خاکی رنگ کی شلوار قمیض پہن رکھی تھی۔ 2 بج کر 47 منٹ پر خاتون کے اہل خانہ نے ان سے رابطہ کیا لیکن وہ جواب نہ دے سکی کیوںکہ اس وقت حملہ شروع ہو چکا تھا۔ گاڑی کا شیشہ توڑنے کے دوران ان میں سے ایک شخص اپنا ہاتھ بھی کٹوا بیٹھا۔ وہ دونوں آپس میں پنجابی اور خاتون کے ساتھ اردو میں بات کر رہے تھے۔ان کی عمریں 30 سے 35 سال کے لگ بھگ تھیں۔ جب خاتون پولیس کو ملی اور ان کا سامان تلاش کیا گیا تو عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گاڑی کے ڈیش بورڈ پر 1000 روپے کا نوٹ اور مٹی سے اٹا ایک کارڈ پڑا تھا۔
بظاہر حملہ آور چاہتے تھے کہ خاتون گھر چلی جائے اور کسی کو واقعہ کے بارے میں نہ بتائے۔ لیکن کیا یہ محض اتفاق ہے کہ خاتون نے پولیس ہیلپ لائن کو 1000 روپے کے پٹرول کا کہا تھا اور حملہ آور بھی جانتے تھے کہ اسے گھر پہنچنے کے لئے 1000 روپے کا پٹرول درکار ہوگا؟ اسی لئے ان میں سے جس کے پاس اس خاتون کا بیگ تھا وہ اسے کار میں رکھنے واپس بھی آیا اور واپس جاتے ہوئے 1 ہزار روپے کا نوٹ گاڑی کے ڈیش بورڈ پر چھوڑ کر گیا۔ دوسری طرف متاثرہ خاتون نے تصدیق کی ہے کہ تیسرے گرفتار ملزم شفقت نے دوران تفتیش جو تفصیلات بتائی ہیں وہ کافی حد تک درست ہیں۔ واضح رہے کہ سانحہ گجر پورہ کا شفقت نامی ایک ملزم گرفتار کیا جا چکاہے اور متاثرہ خاتون نے اسے پہچان لیا ہے جبکہ مرکزی ملزم عابد کی گرفتاری کیلئے کوششیں جاری ہیں۔ پنجاب پولیس اور صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ملزم عابد علی جلد پولیس کی تحویل میں ہوگا۔
فریحہ ادریس کے تھریڈ سے کچھ نئے سوالات ابھرتے ہیں۔ اول تو یہ کہ یہ کیس اس وقت پاکستان کا سب سے زیادہ ہائی پروفائل کیس ہے۔ اس بارے میں تمام میڈیا چینلز پہلو بدل بدل کر رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی یہ سوشل میڈیا کا دور ہے۔ اس حوالےسے ابھی تک ٹرک کے جائے وقوعہ تک پہنچنے کی تو میڈیا رپورٹس موجود ہیں مگر ایک ہزار روپے کا ہونا، ٹول پلازے کی گفتگو وغیرہ کے حوالے سے تفصیلات منطر عام پر نہیں آئیں۔ تاہم، جن خیالات اور مفروضہ جات اور معلومات کے ساتھ فریحہ نے ایک منظر کھینچا ہے اس سے غالباً وہ یہ کہنا چاہتی ہیں کہ اس واردات میں پولیس یا ایف ڈبلیو او کے لوگ شامل ہیں جن کے پاس خاتون کی پولیس کے ساتھ ہونے والی بات چیت تک رسائی حاصل تھی کیونکہ خاتون نے جو معلومات پولیس کو دیں ان کی روشنی میں ہی حملہ آوروں نے واردات کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close