خلیل قمر اپنی منافقت کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں


ماضی میں ماروی سرمد کو ایک لائیو ٹی وی پروگرام کے دوران گالیاں دینے کو اپنا حق قرار دینے والے متنازع کردار کے حامل ہدایت کار اور ڈراما رائٹر خلیل الرحمٰن قمرلاہور موٹروے گینگ ریپ کے خلاف لاہور میں ہونے والے احتجاج میں شرکت پر عوامی تنقید کی زد میں ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ خلیل قمر لائیو پروگرام میں ماروی سرمد کو گالیاں دے کر اور فون پر ایک مجبور خاتون کو ہراساں کر کے اپنے کردار کو دنیا کے سامنے عیاں کر چکے ہیں۔ اب موٹروے ریپ کیس میں ان کا حقوق نسواں کی حمایت میں نعرے لگانا سوائے منافقت کے اور کچھ نہیں کیونکہ عوام ان کے کردار اور عمل سے اچھی طرح واقف ہیں۔ خیال رہے کہ اپنے مقبول ڈرامے ’میرے پاس تم ہو‘ کی وجہ سے شہرت حاصل کرنے کے بعد اپنے متعدد انٹرویوز میں خلیل الرحمٰن قمر نے خواتین سے متعلق نامناسب اور متنازع بیانات دیے تھے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’برابری کی بات ہے تو پھر لڑکیاں اٹھا کر لے جائیں مردوں کو اور گینگ ریپ کریں ان کا، پھر بات ہو برابری کی اور پتا چلے کہ خواتین کون سی برابری مانگ رہی ہیں’۔ خلیل الرحمان نے مزید زبان درازی کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘میں ہر عورت کو عورت نہیں کہتا، میری نظر میں عورت کے پاس ایک خوبصورتی ہے اور وہ اس کی وفا اور حیا ہے، اگر وہ نہیں تو میرے لیے وہ عورت ہی نہیں’۔
دوسری طرف خلیل الرحمان قمر کا دعویٰ ہے کہ ‘مجھ سے بڑا فیمنسٹ پاکستان میں کوئی نہیں، لیکن میں صرف اچھی خواتین کو سپورٹ کرتا ہوں’۔ لیکن ان کا عمل ان کے اس دعوے کو سپورٹ نہیں کرتا اسی وجہ سے جب خلیل الرحمٰن قمر موٹر وے پر پیش آنے والے ریپ کے واقعے کے خلاف لاہور میں جاری احتجاج میں شرکت کے لیے پہنچے تو عوام کی جانب سے ان کے بیانات کی وجہ سے ان کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ سوشل میڈیا پر زیر گردش ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے جب خلیل الرحمٰن قمر میڈیا سے گفتگو کرنے لگے تو کچھ لوگوں کی جانب خواتین سے متعلق ماضی میں دیے گئے بیانات کا حوالہ دیا گیا اور ان کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی۔ ویڈیو میں ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے خلیل الرحمٰن قمر تو کہتے تھے کہ عورتوں کو گھر میں بیٹھنا چاہیے۔جس کے بعد خلیل الرحمٰن قمر نے کہا کہ ‘میں اس بے شرمی پر لعنت بھیجتا ہوں کہ کوئی اگر سمجھتا ہے کہ خلیل الرحمٰن قمر نے کبھی کہا ہے کہ عورتوں کو گھر میں بیٹھنا چاہیے’۔ انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ کہتا رہا ہوں کہ میں عورت کو ایک فاختہ کی طرح اڑتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں لیکن حدود کے اندر، اس سے کم میں نے کبھی نہیں کہا۔خلیل الرحمٰن قمر نے کہا کہ اللہ گواہ ہے کہ میں اس بات کے سخت خلاف تھا کہ عورت مارچ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ خواتین کے اور ہم سب کے مسائل ایک جیسے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جب اس ملک میں قانون کی بالادستی ہوگی تو ہمیں یہ بھی سمجھ آجائے گی کہ خدانخواستہ کہیں عورت سے زیادتی نہیں ہورہی۔ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے خلیل الرحمٰن قمر نے مزید کہا تھا کہ اس بہیمانہ واقعے پر ہم سب کے دل بری طرح رو رہے ہیں اور تڑپ رہے ہیں کہ اگر فوری انصاف نہیں ملا تو معلوم نہیں ہمارا معاشرہ کس طرف چلا جائے۔
تاہم سوشل میڈیا صارفین اور عوام ان کے کسی بھاشن کو ماننے کو تیار نہیں سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ خلیل قمر کا عورتوں کو حقوق کے دعوے اس وقت کہاں چلے گئے تھے جب انھوں نے ایک مجبورخاتون کو نوکری کے لالچ میں ہراساں کیا تھا اور اسے مسلسل ملاقات کیلئے آمادہ کرتے رہے تھے۔ سوشل میڈیا صارفین کا مزید کہنا ہے کہ خلیل الرحمان نے 3 مارچ کی شب ’نیو ٹی وی‘ کے ایک پروگرام میں ’عورت مارچ‘ پر بحث کے دوران خواتین کے حقوق کی رہنما ماروی سرمد کے لیے بھی انتہائی نامناسب زبان استعمال کی تھی خلیل الرحمٰن قمر نے 3 مارچ کو ایک ٹی وی پروگرام میں عورت مارچ پر بحث کے دوران ماروی سرمد کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال کیا تھا جس پر انہیں خوب تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ خلیل الرحمٰن قمر نے ماروی سرمد کو ’گھٹیا عورت‘ کہتے ہوئے ان کے خلاف انتہائی نامناسب زبان استعمال کی تھی۔ ماروی نے پروگرام میں ’میرا جسم، میری مرضی‘ کا نعرہ لگایا تو خلیل الرحمٰن قمر مزید غصے میں آگئے اور انہوں نے انتہائی بدتمیزی سے خاتون رہنما کو بولا کہ ’بیچ میں مت بولو تم، تیرے جسم میں ہے کیا، اپنا جسم دیکھو جاکے‘۔ اس پر کوئی تھوکتا بھی نہیں ہے۔
واقعے کے اگلے روز 4 مارچ کی شب خلیل الرحمٰن قمر نے ایک اور پروگرام میں ماروی کے خلاف نامناسب زبان استعمال کیے جانے کے معاملے پر کہا کہ انہوں نے خاتون کو اپنا بدلہ لینے کے لیے ’گالی دی‘۔ ڈراما نویس کے مطابق انہوں نے ماروی سرمد کے خلاف اس وقت ہی نامناسب زبان استعمال کی جب کہ خود خاتون نے پہلے ان کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی اور انہیں بکواس بند کرنے کو کہا۔ ٹی وی ناظرین پروگرام کا یہ حصہ اس لئے نہیں دیکھ پائے کہ اس کو سنسر کر دیا گیا تھا۔
خلیل الرحمٰن قمر کا کہنا تھا کہ ماروی سرمد نے انہیں بکواس بند کرنے کا کہا اور پھر ’شٹ اپ‘ کال دی۔ تب ہی انہوں نے خاتون کو ان جیسا ہی جواب دیا۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر انہوں نے ماروی کو صرف ’شٹ اپ‘ ہی کہا مگر وہ نہ مانیں اور انہیں بار بار ’شٹ اپ‘ کہتی رہیں تو انہوں نے خاتون کے خلاف نامناسب زبان استعمال کی۔ ڈراما نویس نے دعویٰ کیا کہ ان کے لیے ’شٹ اپ‘ بھی گالی ہے اور انہوں نے اسی گالی کے بدلے میں ہی ماروی کو دیگر جوابات دئیے۔
خلیل الرحمٰن قمر نے ایک سوال کے جواب میں واضح کیا کہ انہیں ماروی کے خلاف کی گئی باتوں پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے اور نہ ہی وہ سمجھتےہیں کہ ان سے کوئی غلطی ہوئی ہے، اس لیے وہ کسی سے کوئی معافی نہیں مانگیں گے۔انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ اگر کوئی انہیں ’شٹ اپ‘ جیسی بھی گالی دے گا تو وہ اپنا دفاع کرنے کے لیے انہیں گالی دیں گے۔ تاہم اب وہ موٹروے ریپ کیس پر حقوق نسواں کے نعرے لگا رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close