سپریم کورٹ نے فیصلے میں لکھا مختاراں مائی مطلقہ ہے اس لیے اعتبار نہیں کیا جاسکتا

سینئر قانون دان اور پیپلزپارٹی کے رہنما اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں نہ معیشت کا بحران ہے، نہ کوئی لا اینڈ آرڈر کا بحران ہے، تجارت کا بحران بھی نہیں ہے اس ملک میں اگر کوئی بحران ہے تو اخلاقیات کا بحران ہے۔ نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام کے دوران عورتوں کے ساتھ زیادتی جیسے حساس موضوع پر غیر ضروری اور غیر ذمہ دارانہ بیانات اور گفتگو سے متعلق بات کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ میں ایک قصہ سناتا ہوں مختاراں مائی کے ساتھ جب اجتماعی زیادتی کا کیس سپریم کورٹ میں آیا تو سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے میں لکھا گیا کہ اس لیے مختاراں مائی کی بات کو سچ نہیں مانا جاسکتا کیوں کہ یہ کنواری نہیں ہے بلکہ مطلقہ ہے۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں لکھا گیا کہ اگر یہ کنواری ہوتی اور اس کے ساتھ زیادتی ہوتی تو اس کی بات کو اہمیت دی جاتی مگر یہ مطلقہ ہے اس لیے اس کی بات کو اس طرح اہمیت نہیں دی جاسکتی۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ ہمارے معاشرے کی اخلاقیات الگ ہیں، یہ ایک پدری معاشرہ ہے یہاں لڑکے اور مرد کی اہمیت بہت زیادہ ہے، لڑکے کی خواہش میں لڑکیاں پیدا کرتے جاتے ہیں۔
پروگرام کے اینکر نے اسی موضوع پر گفتگو کا حصہ بنتے ہوئے کہا کہ موٹروے سانحے کے بعد مختاراں مائی 2، تین پروگراموں میں تشریف لائیں، انہوں نے زیادتی کے بعد پولیس کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کی جب تفصیل بتائی تو وہ باتیں ٹی وی پر بھی نہیں کی جاسکتیں، اگر ڈھکے چھپے الفاظ میں بتایا جائے تو مختاراں مائی سے پولیس نے یہاں تک سوال کیے کہ ان کے ساتھ زیادتی کرنے والوں نے کس پوزیشن سے کیا حرکت کی اور انہوں نے کس طرف سے انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ اسی کیس کی سماعت کے دوران ایک جج نے مجھ سے کہا کہ ا ب تو متاثرہ خاتون نے شادی بھی کرلی ہے چھوڑو اس کیس کو، جب سپریم کورٹ کی سطح پر ایسی سنجیدگی دکھائی جائے گی تو پولیس سے کیا امید رکھی جاسکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close