ہلدی سے گٹھیا کا درد بھی کم ہوجاتا ہے

آسٹریلیا میں 70 افراد پر کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہلدی کے استعمال سے گٹھیا کے باعث جوڑوں میں ہونے والا درد بھی کم ہوجاتا ہے۔ یہ تمام افراد گٹھیا کی وجہ سے گھٹنوں کے درد میں مبتلا تھے۔ تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ ہلدی سے گٹھیا کے مریضوں کو درد کم کرنے والی مروجہ دواؤں کے مقابلے میں بھی زیادہ فائدہ پہنچتا ہے۔
یونیورسٹی آف تسمانیہ، آسٹریلیا میں اس تحقیق کے نگراں، ڈاکٹر بینی اینتونی نے ان نتائج کو اہم لیکن توقعات کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گٹھیا کا درد کم کرنے میں ہلدی کو آزمایا جاسکتا ہے کیونکہ یہ باورچی خانے میں عام استعمال ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ ہلدی کو صدیوں سے جسم کی اندرونی تکالیف اور انفیکشنز ختم کرنے کےلیے دودھ میں ملا کر عام استعمال کیا جارہا ہے جب کہ یہ اکثر روایتی مشرقی کھانوں کا جزوِ لازم بھی ہے۔
تحقیق کے دوران 70 میں سے 36 مریضوں کو ہلدی کے گاڑھے عرق (ایبسٹریکٹ) سے بھرے ہوئے دو کیپسول روزانہ کھلائے گئے جبکہ باقی 34 مریضوں کو ویسے ہی نظر آنے والے دو کیپسول روزانہ دیئے گئے مگر ان میں ہلدی کے عرق کی جگہ کوئی اور بے ضرر چیز بھری گئی تھی۔ یہ مطالعہ 12 ہفتوں تک جاری رہا۔ جن مریضوں نے ہلدی کے’اصلی عرق‘ والے کیپسول کھائے تھے، ان کے گھٹنوں میں گٹھیا سے ہونے والا درد نمایاں طور پر کم ہوگیا تھا جب کہ دوسرے گروپ سے تعلق رکھنے والے مریضوں میں گھٹنوں کے درد کی حالت جوں کی توں رہی۔ ماہرین کے مشاہدے میں یہ بات بطورِ خاص آئی کہ ہلدی کے عرق سے گٹھیا کے درد میں ہونے والا افاقہ، بازار میں اسی مقصد کےلیے دستیاب دواؤں کے مقابلے میں زیادہ رہا۔ البتہ ہلدی کے استعمال سے گھٹنے کے جوڑ اور ہڈی پر سوجن میں کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔ آن لائن ریسرچ جرنل ’اینلز آف انٹرنل میڈیسن‘کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے اختتام پر ماہرین نے اس بارے میں زیادہ بڑے مطالعے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ جوڑوں کے درد میں ہلدی کی افادیت کا تعین بالکل درست طور پر کیا جاسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close