بھارتی شخص نے تنہا 30 برس میں پانی کی نہر کھود ڈالی

دنیا بھر میں عزم وہمت کی داستانیں موجود ہیں اور اب بہار کے ضلع گایا کے گاؤں کوٹھی لاوا کے ایک باہمت شخص نے بہتی نہر کا راستہ موڑا، ایک نیا راستہ بنایا اور اپنے علاقے کو سیراب کیا ہے۔
لونگی بھویان نے مسلسل 30 سال تک تنِ تنہا یہ نہر (کینال) کھودی ہے کیوں کہ اس کا علاقہ پانی سے محروم تھا۔ قریبی پہاڑیوں پر گرنے والا برساتی پانی مختلف راہ سے دریا میں گرتا تھا۔ دھیرے دھیرے لوگ علاقہ چھوڑنے لگے لیکن 30 برس سے لونگی بھویان اکیلے ہاتھ سے نہر بنارہے ہیں۔ اس نہر کی چوڑائی 4 فٹ، گہرائی 3 فٹ اور لمبائی 4 کلومیٹر سے بھی زیادہ ہے۔ اس مشقت میں کسی نے بھی لونگی کی مدد نہیں کی اور اس نے اکیلے ہاتھوں سے یہ کام کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ میں گزشتہ 30 برس میں ہر روز جنگل میں جاتا ہوں ۔ وہاں اپنے مویشی چرانے کے لئے چھوڑتا ہوں اور بیلچے اور پھاؤڑے سے نہر کا راستہ بنارہا ہوں۔ اس دوران گاؤں کے کئی لوگ علاقہ چھوڑ کر شہر جابسے ہیں۔ یہ گاؤں گھنے جنگلات میں گھرا ہے اور بارش کا پانی مختلف راہ سے دریا میں گرتارہتا ہے۔ تاہم اب لونگی نے اس کا رخ موڑ کر پانی کو دیہات کے قریب پہنچایا ہے جہاں اب ایک چھوٹا سا تالاب بن چکا ہے۔ اس پانی سے جانور سیراور کھیت سیراب ہوتے ہیں۔ گاؤں کے تمام لوگ اسے اب ’دی کینال مین‘ یا مردِ نہر کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ گاؤں میں اس کا بہت احترام ہے کیوں کہ وہ اپنے لئے نہیں بلکہ دوسروں کےلئے جیتا ہے۔
سوشل میڈیا پر اسے بہار کا دوسرا پہاڑی آدمی بھی کہا جارہا ہے کیوں کہ اسی ریاست میں دسراتھ مانجھی نے مسلسل 20 سال تک گاؤں سے باہر جانے کا ایک راستہ بنایا تھا۔ اس کےلئے مانجھی نے اپنے ہاتھوں سے پورے پہاڑ کو کاٹ ڈالا تھا۔ دسراتھ مانجھی پر بالی ووڈ فلم بھی بن چکی ہے۔
اس وقت بھارتی سوشل میڈیا پر لونگی کا تذکرہ ہورہا ہے اور لوگوں نے اس کے غیرمعمولی کام کو بھی بہت سراہا ہے۔ بھارتی ارب پتی صنعتکار، آنند مہیندرا نے اپنی فیکٹری کا نیا ٹریکٹر بھی لونگی بھویان کو تحفے میں دیا ہے۔ دوسری جانب لوگوں نے بھارتی حکومت پر لوگوں کے مسائل حل نہ کرنے پر شدید تنقید بھی کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close