بہت کم یا بہت زیادہ نیند دماغ کےلیے نقصان دہ

اچھی نیند صحت کےلیے بہت اہم ہوتی ہے مگر بہت کم یا بہت زیادہ سونا دماغ کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ یہ بات چین میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
بہت کم نیند یعنی 4 گھنٹے یا اس سے کم، جب کہ بہت زیادہ سونا جیسے 10 گھنٹے یا اس سے زائد وقت کے دورانیے کو قرار دیا جاتا ہے اور مثالی دورانیہ 7 گھنٹے ہے، پیکنگ یونیورسٹی کلینکل ریسرچ انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ بہت کم یا بہت زیادہ سونے والے افراد کے دماغی افعال پر نظر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تحقیق میں کہا گیا کہ یہ تو ثابت نہیں ہوا کہ بہت کم یا زیادہ نیند دماغی تنزلی کا باعث بنتی ہے مگر ایسا تعلق ضرور نظر آتا ہے۔ نیند اس لیے ضروری ہوتی ہے کیوں کہ اس سے ہمارے جسم اور ذہن کو دوبارہ چارج ہونے کا موقع ملتا ہے، مناسب وقت تک نیند سے صحت مند رہنا اور امراض کی روک تھام ممکن ہوتی ہے۔ نیند کی کمی کے نتیجے میں دماغ اپنے افعال درست طریقے سے جاری نہیں رکھ پاتا، توجہ مرکوز کرنا، سوچنا اور یادداشت کا تجزیہ مشکل ہوتا ہے۔ محققین کے مطابق تاہم اس کے پیچھے چھپے میکنزم کے بارے میں اب تک سب کھ واضح نہیں، ایسا ممکن ہے کہ نیند کا بہت زیادہ دورانیہ ورم کا باعث بن جاتا ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہت کم نیند سے دماغ میں ایسا مواد اور پروٹین جمع ہونے لگتا ہے جو الزائمر امراض کا باعث بنتے ہیں۔ اس تحقیق کے دوران 20 ہزار سے زیادہ مردوں اور خواتین کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا جو ایک اور تحقیق کا حصہ بنے تھے۔ ان رضاکاروں نے اپنی نیند کی عادات کے بارے میں بتایا تھا جب کہ ان کے دماغی افعال کے ٹیسٹ لیے گئے تھے۔ محققین نے دریافت کیا کہ 4 گھنٹے یا اس سے کم اور 10 گھنٹے یا اس سے زیادہ سونے والے افراد کے دماغی افعال کے ٹیسٹوں کا اسکور دیگر کے مقابلے مین کم تھا۔ اس تعلق کو یو شیپ ریلیشن شپ کا نام دیا گیا کیونکہ دونوں گروپس میں نیند سے دماغی افعال پر مرتب اثرات نظر آئے تھے۔
اس سے قبل گزشتہ سال امریکا کی بوسٹن یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے دوران دریافت کیا گیا تھا کہ انسان جب سوتے ہیں تو ان کے دماغ میں کچھ حیرت انگیز ہوتا ہے کیوں کہ جیسے ہی عصبی خلیات خاموش ہوتے ہیں، تو خون سر سے باہر بہہ جاتا ہے اور ایک پانی جیسا سیال کا بہاﺅ شروع ہوجاتا ہے جو دماغ کی صفائی کرتا ہے۔ درحقیقت دماغی صفائی کرنے والا یہ سیال دماغ کو تنزلی کا باعث بننے والے مرض ڈیمینشیا سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔ کیئر برو اساپئنل فلوئیڈ (سی ایس ایف) نامی یہ سیال ریڑھ کی ہڈی میں پایا جاتا ہے اور اس کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ یہ دماغ سے زہریلے مواد کو صاف کرتا ہے جو ڈیمینشیا کا باعث بنتا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ جو لوگ اچھی معیاری نیند کو معمول بنالیتے ہیں وہ عمر بڑھنے سے دماغی تنزلی سے بھی خود کو بچالیتے ہیں۔ طبی جریدے جرنل سائنس میں شائع تحقیق میں تحقیقی ٹیم میں شامل پروفیسر لورا لوئس کا کہنا تھا کہ یہ ایک ڈرامائی اثر ہے، سی ایس ایف نیند کے دوران یہ کام کرتا ہے، یہ کچھ ایسا ہے جس کا ہمیں پہلے علم نہیں تھا۔ تحقیق کے دوران 23 سے 33 سال کے 13 صحت مند افراد کی خدمات حاصل کرکے دوران نیند ایم آر آئی اسکینر سے ان کے دماغ کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سائنسدانوں نے رضاکاروں کے دماغوں میں مختلف قسم کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی اور الیکٹروڈز سے اعصابی خلیات کی جانچ پڑتال کی گئی جب کہ ایم آر آئی سے ان عصبی خلیات کو توانائی فراہم کرنے والے آکسیجن ملے خون کی موجودگی کو دیکھا گیا۔ ایم آر آئی کی ایک اور قسم سے تحقیقی ٹیم نے دماغ میں سی ایس ایف کی سرگرمیوں کا بھی معائنہ کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ نیند کے دوران برقی سگنلز جن کو ڈیلٹا ویوز بھی کہا جاتا ہے، نمودار ہوئیں اور اس کے چند سیکنڈ بعد سر سے خون باہر نکلنے لگا اور پھر سی ایس ایف دماغ میں بھرنے لگا۔ محققین کا کہنا تھا کہ ہم یہ دیکھ کر اچھل پڑے کیونکہ یہ بہت چونکا دینے والا تھا۔
الزائمر (ڈیمینشیا کی سب سے عام قسم) امراض کے شکار افراد میں ڈیلٹا ویوز کمزور اور بہت کم ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں دماغ میں دوران خون متاثر ہوتا ہے اور سی ایس ایف کی نیند کے دوران صفائی کا عمل بھی پورا نہیں ہوتا۔ اس کے نتیجے میں زہریلے پروٹین کا اجتماع ہونے لگتا ہے اور یاداشت متاثر ہوجاتی ہے۔ محققین کا کہن تھا کہ پہلے بھی سی ایس ایف بہاﺅ، خون کے بہاﺅ اور دماغی لہروں کا الگ الگ تجزیہ کیا گیا مگر اب ثابت ہوا ہے کہ ان کا قریبی تعلق ہے مگر یہ واضح نہیں کہ کتنا قریبی۔ تحقیق ٹیم کو توقع ہے کہ وہ اب یہ جان سکیں گے کہ عمر بڑھنے سے اس عمل پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اس کے لیے معمر افراد پر الگ سے تحقیق کی جائے گی، تاہم یہ واضح ہے کہ اچھی نیند سے ڈیمینشیا کے خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close