94 ادویات کی قیمتوں میں 262 فیصد تک اضافے کی منظوری

وفاقی حکومت نے 94 دواؤں کی قیمتوں میں 9 تا 262 فیصد تک اضافے کی منظوری دے دی۔نوٹیفکیشن کے مطابق بخار، سردرد، امراض قلب، ملیریا، شوگر، گلے میں خراش اور فلوکی دوائیں مہنگی کی گئی ہیں۔اس کے علاوہ اینٹی بائیوٹکس، پیٹ درد، آنکھ،کان، دانت، منہ، اور بلڈ انفیکشن کی دواؤں کی قیمت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہےکہ مارکیٹ میں دواؤں کی دستیابی کم ہونے سے وفاقی حکومت کو مجبوراً اضافہ کرنا پڑا۔ جن ادویات کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں ان میں جلد کے امراض، زچگی کے بعد استعمال ہونیوالی ادویات سمیت مختلف امراض کی ادویات بھی شامل ہیں۔ ان میں سے 68 ادویات مقامی جبکہ 26 امپورٹد ہیں۔
وفاقی حکومت کی جانب سے دواؤں کی قیمتوں میں اضافے پر اپوزیشن جماعتوں نے شدید تنقید کرتے ہوئے اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے اپنے ردعمل میں کہا کہ دواؤں کی قیمتوں میں 262 فیصد تک اضافہ نالائقی، بدنیتی اور بدعنوانی کی ایک بڑی بھاری قیمت ہے جو بدقسمتی سے عوام روزانہ کی بنیاد پر چکا رہے ہیں۔
پیپلزپارٹی نے بھی ادویات کی قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مولابخش چانڈیو نے کہا ہےکہ عمران خان اپنے مالی سہولت کاروں کی جیبیں بھرنے، عوام کو لوٹنےکےایجنڈے پرعمل پیراہیں۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ حکومت نے دوائیوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ کردیا، عمران خان کی حکومت ناکامی سے دوچار ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہےکہ ہم دوا ساز کمپنیز کے دباؤ میں نہیں آئے اور ہم نے ادویات کی قیمتیں اتنی بڑھائی ہیں کہ لوگوں تک پہنچ سکیں۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کےمعاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے دواؤں کی قیمتیں بڑھنے سے متعلق بات کی۔ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ جو دوائیں مہنگی ہوئیں وہ لائف سیونگ اور پرانے فارمولے والی ہیں، ان دواؤں کی قیمتوں پرمناسب تبدیلی نا آنے سے یہ مارکیٹ سے غائب ہو جاتی ہیں اور غائب ہونے والی دوائیں بلیک میں ملنے لگتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ضروری تھا کہ دواؤں کی قیمتیں ایسی ہوں کہ سب کی پہنچ میں ہوں، وہ ادویات جو لوگوں کو مہنگی مل رہی تھی اب با آسانی دستیاب ہوں گی، حکومت اور ڈریپ کا کام دواؤں کی دستیابی کو یقینی بنانا ہے، مارکیٹ میں ناپید دواؤں کی قیمت کو تھوڑے سے اضافے کی ضرورت تھی۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ہم نے ادویات کی قیمتیں اتنی بڑھائی ہیں کہ لوگوں تک پہنچ سکیں، ہم دوا ساز کمپنیز کے دباؤ میں نہیں آئے، ایک نئی پرائسنگ پالیسی پر کام کر رہے ہیں اور تمام صحت کے اداروں میں ریفارمز لا رہے ہیں، جن دواوں کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے ان کی لسٹ ویب سائٹ پر دی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close