دنیا میں اب کتنا سونا باقی رہ گیا ہے؟

گزشتہ ماہ عالمی بازار میں ایک آؤنس (تقریباً 28 گرام) سونے کی قیمت اس وقت تاریخ میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جب اس کی مالیت دو ہزار ڈالر سے بھی زیادہ ہو گئی۔ گو کہ یہ قیمت بڑھانے میں زیادہ بڑا ہاتھ سونے کی تجارت کرنے والوں کا تھا، اس پر سونے کی رسد اور فراہمی کے بارے میں سوالات نے جنم لیا کہ یہ قیمتی ترین دھات دنیا سے کب ختم ہوسکتی ہے۔
سونے کی مانگ میں اضافہ ہوگیا ہے اور لوگ اسے بطور سرمایہ بھی استعمال کرتے ہیں، اپنی مالی حیثیت کو ظاہر کرنے کےلیے نمائش کرتے ہیں اور اس کے علاوہ کئی برقی آلات میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔ لیکن بہرحال، سونا ایک محدود تعداد میں میسر ہے اور ایک وقت ایسا آئے گا جب یہ کرہ ارض سے ختم ہو جائے گا۔ ماہرین اس تصور کے بارے میں بات کرتے ہیں جسے ‘سونے کے عروج یا انتہا’ کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی ایک سال میں زیادہ سے زیادہ کتنا سونا کانوں سے نکالا جا سکتا ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ شاید ہم اس حد کو پہنچ چکے ہیں۔
ورلڈ گولڈ کونسل (ڈبلیو جی سی) کے مطابق گزشتہ سال دنیا بھر میں سونے کی پیداوار 3500 ٹن سے زیادہ تھی، جو کہ 2018 کے مقابلے میں ایک فیصد کم تھی۔ 2008 کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ عالمی طور پر سونے کی سالانہ پیداوار میں کمی آئی ہے۔ تاہم ڈبلیو جی سی کے ترجمان ہانا برانڈ سٹیٹر نے ایک بیان میں کہا کہ ‘آنے والے برسوں میں سونے کی رسد میں کمی بیشی ہو سکتی ہے کیوں کہ موجودہ ذخائر ختم ہوتے جا رہے ہیں اور نئی کانیں دریافت نہیں ہو رہیں، لیکن اس کے باوجود ایسا کہنا کہ سونے کی پیداوار اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے، شاید درست نہ ہو۔’ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر سونے کا عروج ہو بھی جائے، تو بھی کئی برسوں تک سونے کی پیداوار میں قابل ذکر کمی واقع نہیں ہوگی بلکہ اس کی فراہمی میں کمی کا احساس شاید دہائیوں میں محسوس ہو۔ سونے کی کان کنی کرنے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ دو طریقوں سے سونے کی مقدار کا اندازہ لگاتے ہیں۔
ذخائر: وہ سونا جسے موجودہ قیمت کے اعتبار سے نکالنا معاشی طور پر سود مند ہو۔
وسائل: وہ سونا جو مزید تحقیق کے بعد ممکنہ طور پر سود مند ہو یا اس کی قیمت مزید بڑھ جائے۔
ذخائر کی مقدار کا اندازہ لگانا قدرے آسان ہے۔ زیر زمین سونے کے بارے میں امریکہ کے ادارے جیولاجیکل سروے کا اندازہ ہے کہ ابھی 50 ہزار ٹن سونا زیر زمین موجود ہے۔ ایک طرح سے اگر دیکھا جائے آج تک 190000 ٹن سونا کانوں سے نکالا جاچکا ہے، اگرچہ یہاں بھی اعداد و شمار بڑھتے اور کم ہوتے رہتے ہیں۔ ان اندازوں کے مطابق ہمارے پاس اب صرف 20 فیصد مزید سونا رہ گیا ہے۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کے مدد سے وہ سونا بھی نکال لیا جائے جو کہ ابھی ممکن نہیں ہے۔ کچھ کانوں میں کان کنی کےلیے روبوٹس کا استعمال ہو رہا ہے اور ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ استعمال مزید بڑھ جائے۔ دنیا میں سونے کی سب سے بڑی کان جنوبی افریقہ کی وٹ واٹر سرانڈ بیسن ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں اب تک نکالے گئے سونے کا 30 فیصد صرف اسی کان سے نکالا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا میں دیگر بڑی کانوں میں چین کی ایم پوننگ کان، آسٹریلیا کی سپر پٹ اور نیو مونٹ بوڈنگٹن کان، انڈونیشیا کی گراسبرگ کان اور امریکہ میں ریاست نیواڈا کی کانیں شامل ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ سونا چین نکالتا ہے اور اس کے علاوہ کینیڈا، روس اور پیرو بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا میں نئی کانوں کی دریافت ہو رہی ہے لیکن شاذ و نادر ہی ایسی کانیں ملتی ہیں جن میں سونے کے بڑے ذخائر ہوں۔ بڑے پیمانے پر کان کنی کرنا آسان کام نہیں ہے اور اس کےلیے بہت پیسہ اور وسائل چاہیے ہوتے ہیں، جیسے مشینری اور ماہرین جو ان کانوں میں کام کر سکیں۔
آج دنیا میں 60 فیصد کانوں کا کام زمین سے اوپر کی کانوں پر ہوتا ہے ج بکہ باقی کام زیر زمین کانوں میں ہوتا ہے۔ اب ایسے مقامات زیادہ نہیں بچے جہاں سونے کے لیے کانوں کی تلاش کی جا سکے لیکن چند ایسے مقامات بھی ہیں جہاں زمینی حالات کی وجہ سے کان کنی کرنا آسان نہیں ہے، جیسے مغربی افریقہ کے علاقے۔ اگست میں سونے کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دنیا میں سونے کی کان کنی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سونے کی پیداوار میں آنے والی تبدیلیاں سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہونے کےلیے بہت وقت لیتی ہیں۔ یہ اضافہ کووڈ۔19 کی وبا کے دوران دیکھنے میں آیا ہے اور اس کے باعث کان کنی بھی متاثر ہوئی ہے اور کئی کانوں کو حفاظتی اقدامات کے تحت عارضی طور پر بند کرنا پڑگیا ہے۔ سونے کی قیمتیں وبا کے دوران بڑھی ہیں کیونکہ سرمایہ دار معاشی غیر یقینی کے دور میں سونے کو ایک محفوظ اثاثہ تصور کرتے ہیں۔ زمین پر سونے کی مقدار کا اندازہ لگانا تو آسان نہیں ہے لیکن سونا صرف زمین پر ہی نہیں، چاند پر بھی موجود ہے۔
لیکن اس سونے کی کان کنی کرنا اور پھر اسے زمین پر لانا انتہائی مہنگا عمل ہے اور وہ معاشی طور پر کبھی بھی سودمند ثابت نہیں ہوگا۔ خلائی امور کے ایک ماہر شنیڈ او سلیوان کا کہنا ہے کہ اس سونے کو بیچنے میں جتنے پیسے ملیں گے، اس سے کہیں زیادہ اس کی کان کنی میں خرچ ہوں گے۔دنیا کے سمندروں کے نیچے بھی سونے کے ذخائر ہیں لیکن ان کو بھی نکالنا انتہائی مہنگا ثابت ہوگا۔مگر سونے کی سب سے اہم خاصیت یہ ہے کہ یہ بار بار استعمال ہونے کے باوجود کار آمد رہتا ہے اور مسلسل استعمال کیا جا سکتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر دنیا کی کانوں سے سونا ختم بھی ہو جائے، تو بھی کبھی ختم نہیں ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close