مریم کو جان سے مارنے کی دھمکیاں کس وجہ سے ملیں؟


25 اکتوبر کو کوئٹہ میں اپوزیشن کے حکومت مخالف جلسے کے دوران گمشدہ بلوچ افراد کے حق میں آواز اٹھانے اور تین گمشدہ بلوچ بھائیوں کی بہن کو سٹیج پر اپنے ساتھ کھڑا کرنے کے بعد سے مریم نواز شریف اور انکے قریبی رفقا کو خفیہ فون نمبروں سے جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنا شروع ہوگئی ہیں۔ یاد رہے کہ مریم نواز نے کوئٹہ جلسے میں بلوچوں کی گمشدگی کے لامتناہی سلسلے کو بند کرنے کامطالبہ کیا تھا۔ بعد میں انہوں نے ٹوئٹر پر جلسے کی تصاویر اور لاپتہ افراد کے بچوں کے ساتھ بنوائی تصاویر بھی اپ لوڈ کیں۔ تاہم ان کی جانب سے ایک ٹویٹ میں بتایا گیا ہے کہ انہیں اور انکے قریبی لوگوں کو نامعلوم فون نمبروں سے دھمکی آمیز فون کالز موصول ہوئی ہیں جن میں ان سے کہا گیا ہے کہ تم سب کو بڑے کریک ڈاؤن کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔ مریم نے مزید لکھا کہ پاکستان کے لوگو اس بات کو نوٹ کر لو کیوں کہ میں یہ بات ریکارڈ کے لیے کر رہی ہوں۔
یاد رہے کہ کوئٹہ کے جلسے میں بلوچ قوم پرست رہ نما نواب اختر مینگل کے علاوہ صرف نواز شریف اور مریم نواز نے ہی گمشدہ بلوچ افراد کے مسئلے پر گفتگو کی تھی۔ اہنی تقریر میں مریم نے کہا تھا کہ ’مجھے پتہ ہے کہ یہاں سے نوجوانوں کو اٹھا لیا جاتا ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ ان کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں۔ اکثر وہ ہمیشہ کے لیے لاپتہ اور غائب ہو جاتے ہیں۔ لہذا میں کہتی ہوں خدا کا خوف کرو۔ تمھارے بھی بچے ہیں، ذرا خود پر اس چیز کو طاری کر کے سوچو کہ انکے گھر والوں پر کیا گزرتی ہے جن کے پیارے اٹھا لیے جاتے ہیں‘۔ اپنے خطاب میں مریم نے وہیں سٹیج پر موجود 24 سالہ پولیو ورکر حسیبہ قمبرانی کی جانب بھی اشارہ کیا جن کے چار بھائیوں میں سے ایک کی لاپتہ ہونے کے بعد مسخ لاش ملی اور تین اب بھی لاپتہ ہیں۔ مریم نواز نے کسی ادارے کا نام لیے بغیر کہا کہ ’سوچو، اللہ تعالی کے قہر کو آواز نہ دو ان کی بدعا اور آسمان میں کوئی حجاب نہیں ہے۔ خدا کا واسطہ ہے، اللہ کا واسطہ ہے، ہوش کے ناخن لو، اپنے ہی لوگوں سے سوتیلے لوگوں جیسا سلوک نہ کرو۔’
ایوب سٹیڈیم میں موجود نواب نوروز فٹ بال گراؤنڈ میں ہزاروں کے مجمعے میں لاپتہ افراد کے لواحقین میں فقط یہی ایک لڑکی حسیبہ قمبرانی ہی گراؤنڈ کے اندر موجود تھی، باقی خاندانوں کو گیٹ پر موجود سکیورٹی گارڈز کی جانب سے اندر نہیں آنے دیا جا رہا تھا۔ حسیبہ قمبرانی کہتی ہیں کہ جب ہم پہلے عوامی نمائندوں سے بات کرتے تھے تو وہ صرف ہمیں تسلی دیتے تھے بات نہیں کرتے تھے، جب مریم سے بات ہوئی تو میں نے محسوس کیا کہ انھوں نے میرے درد کو محسوس کیا، ایک خاتون ہونے کے ناطے کہ ایک عورت کے مسائل کیا ہوتے ہیں جن رشتوں سے وہ وابستہ ہیں وہ نہ ہوں تو کیا محرومیاں ہوتی ہیں۔ ’میں نے ان سے کہا کہ یہ ہمارا آئینی حق ہے۔پاکستان میں یہ کب سے اپنوں کو ڈھونڈنا جرم ہو گیا؟‘
حسیبہ کہتی ہیں کہ ’ہم نے حکومتی اور ریاستی سطح پر سب سے بات کی لیکن کسی نے حوصلہ افزائی کی نہ داد رسی کی۔ نہ کسی نے یہ بتایا کہ ہم آپ کی مدد کر سکتے ہیں لیکن جب میں نے ان سے بات کی تو انھوں نے نہ صرف سب عوام کے سامنے اس کا اعتراف کیا بلکہ انھوں نے مدد کرنے کا بھی کہا اور یہ کہا کہ اس کا مکمل حل نکالا جائے گا۔‘ حسیبہ اس بار پر امید ہیں کہ یہ مسئلہ حل ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہاں بلوچستان میں 10 سے زیادہ اسمبلی میں منتخب خواتین اور یہاں دیگر اداروں میں موجود ہیں جب ہم ان سے بات کرنے گئے تو انھوں نے کہا کہ ہم نہیں کر سکتے، ہمارا اختیار نہیں ہے۔ لیکن مریم نے کہا کہ میں حکومت میں آؤں یا نہ آؤں میں اس حوالے سے ضرور کام کروں گی۔‘ مریم نواز نے 20 سال سے چلے آ رہے اس اہم مسئلے پر آخر اب ہی اتنا کھل کر بات کیوں کی، کیا یہ ایک سیاسی کارڈ ہے؟
حسیبہ کہتی ہیں کہ ہم نے مریم نواز سے کہا کہ آپ تو دو لفظ بول کر اپنے گھر چلے جاتے ہیں لیکن آپ ہمیں دیکھیں ہم کس حال میں در بدر کی زندگی گزار رہے ہیں کبھی ہڑتالی کیمپ میں، کبھی عدالتوں میں، کبھی حکومتی عہدے داروں سے ملنے میں۔’ابھی آپ کو اس مسئلے کو حل کرنا ہو گا ہر حال میں۔ اس طرح کے بہت سارے وعدے آئے ہمارے سامنے آئے، بہت سارے لوگوں نے باتیں کیں۔ بہت ساری حکومتیں آئیں، ہر کسی نے اپنی حکومت کے لیے لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے پر بات کی لیکن جب وہ حکومت میں آئے تو وہ اس کو بھول گئے۔‘
حسیبہ اور ان سمیت تمام لاپتہ افراد کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ان کے عزیزوں کے خلاف مقدمہ چلائیں، یا انھیں پھانسی دیں لیکن قانونی طریقہ اختیار کریں اور انھیں منظر عام پر لائیں۔ لواحقین کہتے ہیں کہ مریم نواز نے انھیں یقین دہانی کروائی کہ پی ڈی ایم جو بھی کرے گی اس میں لاپتہ افراد کا مسئلہ سب سے اوپر ہو گا۔لاپتہ افراد کے لواحقین کا احتجاجی کیمپ کوئٹہ میں پریس کلب کے بالکل ساتھ ہے۔ گذشتہ 13 سال سے صحافت سے وابستہ نجی ٹی وی چینل سے منسلک خاتون صحافی کہتی ہیں کہ کوئی دن نہیں دیکھا کہ یہاں کوئی نہ بیٹھا ہو۔ ’ہم روز ہی وہاں سے گزرتے ہیں لیکن ہم اس پر رپورٹنگ نہیں کر سکتے اور وجہ آپ بخوبی جانتی ہیں، اس پر یہ متاثرین ہم سے گلہ بھی کرتے ہیں۔‘
اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’مریم نواز اب کی بار جب آئیں تو وہ بہت پراعتماد لگیں۔ انھوں نے اس بار زیادہ سختی سے لاپتہ افراد کے معاملے پر بات کی ایک دم سے ماحول کو پلٹا۔ دیکھا جائے تو انھوں نے ایک سیاسی پتہ کھیلا۔ عمران خان بھی جب یہاں آئے تھے الیکشن مہم میں تو انھوں نے یہ بات کی تو پہلی بار کسی سیاست دان نے ایسا نہیں کیا۔‘ وہ کہتی ہیں کہ مریم نے اپنے لباس اور گفتگو سے لوگوں کے درمیان موجود فاصلے کو بانٹنے کی کوشش کی ہے جو ہر لیڈر نے کی لیکن وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ جب لوگوں کو سہولیات نہیں ملیں گی تو لوگ منحرف تو ہوں گے۔ وہ کہتی ہیں کہ یہاں اسمبلی کی خواتین تو عام موضوعات پر بات نہیں کرتیں، یہ تو ایک بہت بڑا ایشو ہے جس پر بات کرنے کے لیے ہمت کی ضرورت ہے۔
ڈیفینس آف ہیومن رائٹس پاکستان کی سربراہ آمنہ جنجوعہ کہتی ہیں کہ پاکستان کی عدالتیں جبری گمشدگیوں کے عمل کو انسانیت کے خلاف جرم تسلیم کر چکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’عملی طور پر کچھ نہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اگر ابھی تک کچھ نہیں ہوا تو سب کی غلطی ہے اس میں۔‘
انسانی حقوق پر کام کرنے والی وکیل حنا جیلانی کہتی ہیں کہ انھوں نے مریم نواز کی تقریر سنی ہے لیکن وہ اس پر کوئی رائے نہیں دے سکتیں۔ تاہم انھوں نے ملک میں لاپتہ افراد کے دیرینہ مسئلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور دعویٰ کیا کہ اس میں سویلین حکومتوں کا کوئی کام نہیں ہے اس میں ملٹری انٹیلیجنس اس میں براہ راست ملوث ہوتی ہے اور اس کے اشارے ہمیں انفرادی کیسز سے اتنے مل چکے ہیں کہ اس میں کوئی ابہام نہیں رہا۔
سیاست دانوں اور منتخب عوامی نمائندوں کا حوالہ دیتے ہوئے حنا جیلانی نے کہا کہ ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے، ہم نے دیکھ لیا ہے اگر یہ اختیار اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں تو ان کی ذمہ داری ہو گی کہ جبری طور پر گمشدگیوں کے مرتکب لوگوں کا احتساب کریں۔ لیکن اگر انھوں نے سب انھیں کے ہاتھوں میں دیا جو سکیورٹی اور ملکی سالمیت کے نام کا غلط استعمال کر کے شہریوں کے حقوق کو سلب کرتے ہیں تو پھر یہ پہلے والوں کی طرح کچھ نہیں کر سکیں گے۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
Close