کرونا سے صحتیاب ہونے والوں میں مزید بیماریوں کا خدشہ

کرونا وائرس کو شکست دینے والے کو ممکنہ طور پر دماغی افعال کے نمایاں منفی اثرات کا سامنا ہوسکتا ہے اور دماغی عمر میں 10 سال کا اضافہ ہوسکتا ہے۔
ایک طبی تحقیق میں 84 ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا تھا اور نتائج سے معلوم ہوا کہ کچھ سنگین کیسز میں کرونا وائرس سے متاثرین کے دماغی افعال میں کئی ماہ تک نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ محققین نے بتایا ‘نتائج اس خیال کو تقویت پہنچاتے ہیں کہ کووڈ 19 سے دماغی صحت کوو بھی نقصان پہنچتا ہے، جو لوگ صحتیاب ہوجاتے ہیں، یعنی علامات رپورٹ نہیں کرتے، ان کے دماغی افعال میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ اس مقصد کے لیے ذہنی آزمائش کے ٹیسٹ جیسے الفاظ یاد کرنا، ہزل حل کرنا عام طور پر الزائمر جیسے امراض کے شکار افراد کی دماغی کارکردگی کی جانچ ہپڑتال کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور اب انہیں طبی ماہرین عارضی دماغی تبدیلیوں کو جاننے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ اس تحقیق میں شامل 84 ہزار 285 افراد گریٹ برٹش انٹیلی جنس ٹیسٹ کا حصہ رہے. محققین نے بتایا کہ دماغی افعال میں کمی نمایاں تھی خصوصاً ایسے مریضوں میں جو کووڈ 19 کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج رہے تھے. انہوں نے مزید بتایا کہ بدترین کیسز میں ان منفی اثرات کے نتیجے میں 20 سے 70 سال کی عمر کے افراد کی دماغی عمر میں اوسطاً 10 سال کا اضافہ ہوگیا۔ دیگر طبی ماہرین جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھے، ان کا کہنا تھا کہ نتائج کے بارے میں ابھی حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔ ماہرین نے مزید بتایا کہ تحقیق میں شامل افراد کے کووڈ 19 سے قبل کے دماغی افعال کے بارے میں علم نہیں اور نتائج میں طویل المعیاد بحالی کو بھی نہیں دیکھا گیا، تو ہوسکتا ہے کہ دماغی افعال پر مرتب اثرات مختصر المدت ہوں۔ تحقیق کے نتائج مکمل طور پر قابل اعتبار نہیں کیونکہ اس میں بیماری سے پہلے اور بعد کے اثرات کا موازنہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا ‘مجموعی طور پر یہ نتائج اہم ضرور ہیں مگر تحقیق کو مکمل نہیں بلکہ دماغ پر کووڈ کے اثرات کے حوالے سے غیرمکمل تحقیق ہے۔
ابھی نوول کرونا وائرس پر تحقیق کو ایک سال بھی نہیں ہوا اور اس سے جڑے اسرار مسلسل سائنسدانوں کو چونکا رہے ہیں، مگر سب سے خوفزدہ کردینے والا پہلو یہ ہے کہ اپنے دیگر کزنز جیسے عام نزلہ زکام یا سیزنل فلو کے برعکس یہ بظاہر طویل وقت تک جسم پر اثرات مرتب کرنے والا ہے البتہ یہ دیکھنا یا جاننا تو ابھی باقی ہے کہ کتنے عرصے تک اس کی علامات جسمانی نظام میں رہتی ہیں مگر ایک جرمن طبی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہر 3 میں سے 2 مریضوں کے دل میں ورم کووڈ 19 سے صحتیابی کے 71 دن بعد بھی موجود تھا۔ دیگر محققین نے دریافت کیا کہ اس بیماری سے صحتیاب ہونے والے متعدد افراد میں 3 ماہ بعد بھی پھیپھڑوں کے نقصان کو دریافت کیا گیا اور ابھی وبا کو ایک سال بھی پورا نہیں ہوا۔ لانگ کووڈ یا اس کے طویل المعیاد اثرات ماہرین کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں، جن میں سے ایک دماغی دھند بھی ہے، جس میں مختلف دماغی افعال کے مسائل بشمول یادداشت کی محرومی، ذہنی الجھن، توجہ مرکوز کرنے میں مشکل، سر کرانے اور روزمرہ کے کام کرنے میں مشکلات شامل ہیں۔ لانگ کووڈ یا اس کے طویل المعیاد اثرات ماہرین کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں، جن میں سے ایک دماغی دھند بھی ہے، جس میں مختلف دماغی افعال کے مسائل بشمول یادداشت کی محرومی، ذہنی الجھن، توجہ مرکوز کرنے میں مشکل، سر کرانے اور روزمرہ کے کام کرنے میں مشکلات شامل ہیں۔ ماہرین اس حوالے سے پریقین نہیں کہ کس وجہ سے لوگوں کو دماغی دھند کا سامنا ہورہا ہے ، جس کی مختلف علامات لوگوں میں نظر آرہی ہیں اور ایسے افراد بھی اس سے متاثر ہورہے ہیں جن میں کووڈ 19 کی شدت معتدل تھی اور پہلے سے کسی بیماری کے شکار نہیں تھے۔ اس حوالے سے خیال کیا جارہا ہے کہ وائرس کے خلاف جسم کا مدافعتی ردعمل بدستور متحرک رہتا ہے یا خون کی شریانوں میں ورم دماغ تک پہنچ جاتی ہے۔ کووڈ 19 کے دوران نظام تنفس کے مسائل کے باعث ہسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں کو ذہنی الجھن اور دیگر دماغی افعال متاثر ہونے کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ اگست میں فرانس میں ہونے والی ایک تحقیق کے نتائج سامنے آئے تھے، جس میں ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے کووڈ 19 کے 120 افراد کو شامل کیا گیا تھا۔ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہسپتال سے فارغ ہونے کے بعد 34 فیصد کو یادداشت کی محرومی اور 27 فیصد کو توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوا۔ ایک حالیہ سروے میں لگ بھگ 4 ہزار کووڈ 19 کے صحتیاب مریضوں کو شامل کیا گیا تھا۔ اس تحقیق میں شامل انڈیانا یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین کی ایسوسی ایٹ ریسرچ پروفیسر نٹالی لمبرٹ نے بتایا کہ 50 فیصد سے زیادہ افراد نے صحتیابی کے بعد توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوا۔ یہ 101 طویل المعیاد اور مختصر المدت علامات کی فہرست میں چوتھی سب سے عام علامت ہے، یادداشت کے مسائل، سرچکرانے یا الجھن کی شکاہت ایک تہائی سے زیادہ افراد نے کی۔ ایک اور طبی ماہر ڈاکٹر ڈونا کم مرفی کے مطابق معمولی فالج بھی چند علامات کا باعث ہوسکتا ہے، جس کا سامنا خود ان کو کووڈ 19 سے صحتیابی کے بعد ہوا۔ دیگر ممکنہ وجوہات میں آٹوامیون ردعمل بھی شامل ہوسکتا ہے، جب اینٹی باڈیز غلطی سے اعصابی خلیات پر حملہ آور ہوجاتی ہیں۔ ماؤنٹ سینائی ہیلتھ سسٹم میں دماغی امراض کے ماہر ڈاکٹر ایلیسن نیویز کا کہنا تھا کہ علامات جیسے ہاتھوں پیروں میں سنسناہٹ، سوئیاں چبھنا یا سن ہونا کا سامنا اس وقت ہوتا ہے جب اعصاب کو نقصان پہنچا ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
Close